🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1225. -- باب: الرخصة في العلم وما يكون في نسجه قز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب
-- باب: (کپڑے پر ریشمی) علامات کی رخصت اور اس کپڑے کی رخصت جس کی بناوٹ میں ریشم، روئی یا کتان ہو اور روئی کا غلبہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6084
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَأَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي هَذَا الرَّجُلُ مِنَ الْقَوْمِ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ عَطَاءٌ: حَدِّثْ، فَحَدَّثَ بَيْنَ يَدَيْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثًا: صَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَالْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ كُلِّهِ فَكَيْفَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، وَأَمَّا الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ، فَإِنَّ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ". فَأَخَافُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ فِي الثَّوْبِ مِنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ ابْنِ عُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ تَرَاهَا"، قَالَ: نَعَمْ، يَعْنِي: فَذَهَبَ إِلَى أَسْمَاءَ فَأَخْبَرَهَا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ لَهَا لَبِنَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ خِسْرَوانِيٍّ. وَفِي سَمَاعِ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى: كِسْرَوَانِيٍّ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِهِ، فَقَالَتْ:" هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْبَسُهَا، فَلَمَّا قُبِضَ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ، فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا إِذَا اشْتَكَى وَنَسْتَشْفِي بِهَا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
عبد الملک، عطاء سے کپڑے میں کڑھائی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، ان کا ارادہ حدیث بیان کرنے کا تھا۔ پھر کہنے لگے: سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ نے بیان کیا، عطاء نے فرمایا: آپ حدیث بیان کریں تو اس نے عطاء کے سامنے حدیث بیان کی کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب بھیجا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں: ایک تو رجب کے مکمل روزے، دوسری ریشم کی سرخ رنگ کی زین اور تیسری کڑھائی والا کپڑا۔ فرماتے ہیں: جو تو نے رجب کے مکمل روزوں کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا کیا حال جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو؟ اور دھاری دار کپڑا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”جس نے ریشم دنیا میں پہنا وہ آخرت کو نہیں پہنے گا“۔ میں ڈرتا ہوں کہیں (ریشم کی) کڑھائی والا کپڑا بھی ریشم شمار نہ ہو اور سرخ زین کے متعلق فرمایا: یہ ابن عمر کی زین ہے۔ امید ہے آپ اس کو دیکھ لیں گے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو خبر دی۔ عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کا گریبان ریشم کا تھا اور اس کی آستینیں بھی ریشم کی تھیں۔ فرماتی ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ ہے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ جبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا اور جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے اسے لے لیا۔ پھر ہم اس کو مریضوں کے لیے دھویا کرتی تھیں اور اس سے شفا حاصل کرتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2069»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَامِيًّا فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرُ فَرَدَّهُ، فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ:" يَا جَارِيَةُ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَأَخْرَجَتْ لَهُ جُبَّةً طَيَالِسَةً مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے بازار سے شامی کپڑے خریدے، ان میں سرخ دھاگہ دیکھا تو انہیں واپس کر دیا۔ میں نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو یہ بتایا تو وہ فرمانے لگیں: اے بچی! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ پکڑانا۔ اس نے طیالسی جبہ، جس کو ریشم کے بٹن لگے ہوئے تھے اور آستینیں بھی ریشمی تھیں اور ریشم کے پیوند لگے ہوئے تھے، لا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 4054»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6086
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلَ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِنَّمَا كَرِهَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّوْبَ الْمُصْمَتَ مِنَ الْحَرِيرِ، فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ أَوْ سَدَى الثَّوْبِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو" نَهَى" بَدَلَ" كَرِهَ"، وَقَالَ:" أَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَالنِّيرِ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خالص ریشمی کپڑے کو ناپسند فرماتے تھے، ”ہاں ریشم کی کڑھائی یا کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے“۔ یہ یحییٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور عمرو کی روایت میں ”ناپسند فرماتے تھے“ کی بجائے ”منع فرمایا“ ہے اور فرماتے ہیں کہ ”ریشم کی دھاریاں اور کپڑے کا تانا ریشم کا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 4055»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6087
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ، فَأَمَّا أَنْ يَكُونَ سُدَاهُ أَوْ لَحْمَتُهُ حَرِيرًا فَلَا بَأْسَ يَلْبَسُهُ". كَذَا قَالَهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقِيلَ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سُدَاهُ حَرِيرٌ وَلَحْمَتُهُ لَيْسَ حَرِيرًا فَلَيْسَ بِمُصْمَتٍ، وَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا".
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خالص ریشم سے منع فرمایا ہے“، اگر اس کا تانا ریشم کا ہو تو پھر پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ جس کپڑے کا تانا ریشم کا اور بانا ریشم کا نہ ہو اور نہ ہی خالص ریشم ہو تو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6087]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6088
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ:" أَنَّهُ رَأَى عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جُبَّةً شَامِيَّةً قِيَامُهَا قَزٌّ"، قَالَ بُسْرٌ: رَأَيْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ خَمَائِصَ مُعَلَّمَةً".
بسر بن سعید نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پر شامی جبہ دیکھا، اس کی لمبائی ریشم کی تھی۔ بسر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر بھی منقش چادر دیکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6088]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ شرح معاني الاثار 4/256»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6089
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي: ابْنَ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ، وَلَا الْمُعَصْفَرَ، وَلَا الْقَمِيصَ الْمَكْفُوفَ بِالْحَرِيرِ". فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ مَيَاثِرَ الْأُرْجُوَانِ الَّتِي هِيَ مَرَاكِبُ الْأَعَاجِمِ مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، وَأَرَادَ بِالْقَمِيصِ الْمَكْفُوفِ بِالْحَرِيرِ أَنْ يَكُونَ الْحَرِيرُ كَثِيرًا أَكْثَرَ مِنْ مِقَدْارِ الْعَلَمِ الَّذِي رَخَّصَ فِيهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ التَّنْزِيهَ، وَالْجُبَّةُ الَّتِي أَخْرَجَتْهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كَانَ يَلْبَسُهَا فِي الْحَرْبِ، فَقَدْ رُوِّينَا ذَلِكَ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ آخَرَ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ تو سرخ رنگ کے ریشم کی زین پر سواری کرتا ہوں اور نہ ہی قسی کپڑا پہنتا ہوں، نہ ہی زرد رنگ کا کپڑا اور نہ ہی ریشم کے بٹن لگے ہوئے لباس کو پہنتا ہوں۔“
نوٹ: سرخ رنگ کی ریشمی زین سے مراد عجم کی زین ہے جس پر وہ سواری کرتے ہیں۔ یعنی ایسی قمیص جس کی کفیں ریشم کی ہوں۔ جس ریشم کی اجازت ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دی۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا جبہ نکالنا ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لڑائی کے موقع پر استعمال کرتے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6089]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم 5974»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6090
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُصْبَغَ الْعَصْبُ بِالْبَوْلِ، وَأَنَّهُ كَانَتِ الْحُلَّةُ تُنْسَجُ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُ الْحُلَّةُ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَأَكْثَرَ". قَالَ الشَّيْخُ: الْحُلَّةُ الَّتِي كَانُوا يَلْبَسُونَهَا ثَوْبَانِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَزٍّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ عصب کپڑے کو پیشاب سے رنگا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو حلے تیار کیے جاتے تھے، ان کی قیمت ایک ہزار درہم یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔
شیخ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو حلہ پہنتے تھے، وہ دو کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، ایک تہبند اور دوسری چادر؛ یہ ریشم کے ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 1498»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1226. -- باب: الرخصة للرجال في لبس الخز
-- باب: مردوں کے لیے خز (ریشم اور اون ملا ہوا کپڑا) پہننے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6091
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمِنَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". ⦗٣٨٥⦘ لَفْظُ حَدِيثِ عُثْمَانَ.
عبداللہ بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سفید خچر پر سوار بخارا میں دیکھا، اس پر سیاہ رنگ کی ریشمی پگڑی تھی، اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 4038»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6092
وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي مَخْلَدٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ الرَّازِيُّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: نُرَاهُ ابْنَ حَازِمٍ السُّلَمِيَّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ حَازِمٍ: مَا أَرَى أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ هَذَا شَيْخٌ آخَرُ.
ایضاً۔
عبدالرحمن کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے کہ وہ ابن حازم سلمی تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) ابن حازم کے بارے میں فرماتے ہیں: میرا خیال نہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہو، یا یہ کوئی دوسرے شیخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6092]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَعَلَيْهِ مِطْرَفُ خَزٍّ، فَقُلْنَا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَلْبَسُ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ يُحِبُّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَيْهِ".
ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزرے، ان پر ریشمی چادر تھی۔ ہم نے کہا: اے صحابی رسول! آپ بھی اس کو پہنتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جب اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کی نعمت کے اثرات اس پر دیکھے جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6093]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 4/448»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں