السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1270. -- باب: الإمام يعلمهم في خطبة عيد الأضحى كيف ينحرون وأن على من نحر من قبل أن يجب وقت نحر الإمام أن يعيد
-- باب: امام عید الاضحیٰ کے خطبے میں لوگوں کو سکھائے کہ وہ کس طرح قربانی کریں، اور یہ کہ جس نے امام کی قربانی کا وقت واجب ہونے سے پہلے قربانی کر لی اس پر اس کا دہرانا لازم ہے
حدیث نمبر: 6262
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ هُوَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَنَّادٍ وَقُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: ”جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پالیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو یہ گوشت کی بکری ہے۔“ سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز کی طرف آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی اور میں پہچانتا تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، میں نے جلدی کی اور میں نے خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے۔“ عرض کیا: میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے بھی اچھا ہے، کیا وہ مجھ سے کفایت کر جائے گا؟ فرمایا: ”ہاں، لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6262]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5236»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى إِلَى الْبَقِيعِ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ"، فَقَامَ خَالِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ:" اذْبَحْهَا ثُمَّ لَا تُوَفِّي جَذَعَةٌ بَعْدَكَ". قَالَ زُبَيْدٌ: فَسَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ قَالَ: عَنَاقُ جَذَعَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ زُبَيْدٍ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی جانب آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”آج کے دن ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتدا کریں، پھر ہم قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہے، اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی کی ہے، قربانی نہیں۔“ میرے ماموں کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی ذبح کر دی ہے اور میرے پاس «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے جو «مُسِنَّةٌ» ”مسنہ“ سے بہتر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے ذبح کر لے، تیرے بعد کسی سے «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ کفایت نہ کرے گی۔“
زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ”بکری کا «جَذَعَةٌ» ”جذعہ““۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6263]
زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ”بکری کا «جَذَعَةٌ» ”جذعہ““۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6263]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6264
أَخْبَرَنَا ابْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُ:" شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ أَضْحَى فَقَالَ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ مِنْكُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ مَكَانَ ذَبِيحَتِهِ أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللهِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
اسود نے جندب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی کے دن حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا، وہ اپنے ذبیحہ کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6264]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 942»
الحكم على الحديث: صحيح
1271. -- باب: من قال: يكبر في الأضحى خلف صلاة الظهر من يوم النحر إلى أن يكبر خلف صلاة الصبح من آخر أيام التشريق، ثم يقطع استدلالا بأن أهل الأمصار تبع لأهل منى والحاج ذكره التلبية حتى يرمي جمرة العقبة يوم النحر ثم يكون ذكره التكبير
-- باب: اس شخص کا قول کہ بقر عید میں یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کی ظہر کی نماز کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی فجر کی نماز کے بعد تک تکبیر کہے، پھر بند کر دے، اس دلیل کی بنا پر کہ شہروں کے لوگ اہلِ منیٰ کے تابع ہیں، اور حاجی کا ذکر تلبیہ ہے یہاں تک کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، پھر اس کا ذکر تکبیر ہے
حدیث نمبر: 6265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِهِ، هَذَا أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى ابْنُ خَشْرَمٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ سے لوٹتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فضل رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فضل رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ تلبیہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6265]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1469»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ: فَلَقِيتُ أَبَا مَلِيحٍ فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ". ⦗٤٣٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
خالد کہتے ہیں کہ میں ابو ملیح سے ملا، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ ”ایامِ تشریق کھانے، پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6266]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1141»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهِ بِمِنًى فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ، حَتَّى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا".
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منیٰ کے اندر اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے، مسجد والے اس کو سنتے اور تکبیریں کہتے، ان کو بازار والے سنتے اور تکبیریں کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیروں سے گونج اٹھتا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایامِ (تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6267]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایامِ (تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6267]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ".
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر کی نماز سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن فجر کی نماز تک تکبیریں کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6268]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن أبي شيبه 5640»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ".
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نحر کے دن ظہر کی نماز سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن نمازِ عصر تک تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6269]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن أبي شيبه 5639»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6270
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدُّبَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ" يُكَبِّرُ يَوْمَ الصَّدْرِ، وَيَأْمُرُ مَنْ حَوْلِهِ أَنْ يُكَبِّرُوا، فَلَا أَدْرِي تَأَوَّلَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: ٢٠٣] أَوْ قَوْلَهَ {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ} [البقرة: ٢٠٠] ".
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ (منیٰ سے) واپسی کے دن تکبیریں کہتے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکبیریں کہنے کا حکم دیتے۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اللہ رب العزت کے اس قول کی تاویل کی
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6270]
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6270]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
1272. -- باب: من استحب أن يبتدئ بالتكبير خلف صلاة الصبح من يوم عرفة
-- باب: جس نے یومِ عرفہ (نویں ذی الحجہ) کی فجر کی نماز کے بعد سے تکبیر شروع کرنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 6271
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" كَانَ يَهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ.
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے محمد بن ابی بکر ثقفی کے واسطے سے قراءت کی کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جب وہ دونوں منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے کہ آپ ان دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر انکار نہ کیا جاتا تھا اور ہم میں سے تکبیریں کہنے والے تکبیریں کہتے تو ان پر بھی انکار نہ کیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6271]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1576»
الحكم على الحديث: صحيح