🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1402. -- باب: رش الماء على القبر ووضع الحصباء عليه
-- باب: قبر پر پانی چھڑکنے اور اس پر کنکریاں ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6741
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَّهُ أَوَّلُ قَبْرٍ رُشَّ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ قَالَ حِينَ دَفَنَ وَفَرَغَ مِنْهُ:" سَلَامٌ عَلَيْكُمْ"، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: حَثَا عَلَيْهِ بِيَدِهِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ الْفَسَوِيُّ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
عبداللہ بن محمد بن عمر رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکا اور وہ پہلی قبر تھی جس پر پانی چھڑکا گیا اور جب اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو فرمایا: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ اور میں نہیں جانتا اس کے سوا کہ انہوں نے اس پر ہاتھوں سے مٹی ڈالی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6741]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6742
وَأنبأنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، إِجَازَةً أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، إِجَازَةً ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ" قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ:" وَحَثَا عَلَيْهِ بِيَدِهِ".
عبداللہ بن محمد بن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ رحمہ اللہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی قبر پر پانی چھڑکا، اور وہ کہتے ہیں: اس کے سوا میں نہیں جانتا مگر یہ کہ اپنے ہاتھوں سے اس پر مٹی بھی ڈالی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6743
وَرُوِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" رُشَّ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ رَشًّا، قَالَ: وَكَانَ الَّذِي رَشَّ الْمَاءَ عَلَى قَبْرِهِ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ بِقِرْبَةٍ، بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِالْمَاءِ إِلَى الْجِدَارِ، لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَدُورَ مِنَ الْجِدَارِ". أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ يَعْنِي ابْنَ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَذَكَرَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر پانی چھڑکا گیا اور جس نے اس پر پانی چھڑکا تھا وہ سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے مشکیزے کے ساتھ قبر کی دائیں طرف سے سر کی جانب سے شروع کیا یہاں تک کہ وہ پاؤں تک پہنچے۔ پھر پانی دیوار کی طرف پھینکا کیونکہ وہ دیوار کی طرف سے گھوم نہیں سکتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6743]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابن سعد»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1403. -- باب: إعلام القبر بصخرة أو علامة ما كانت
-- باب: قبر پر پتھر یا کسی بھی چیز کی علامت لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ:" لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ فَدُفِنَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ". قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهَا، ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ:" لِيُعْلَمَ بِهَا قَبْرُ أَخِي، وَأَدْفِنَ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي".
حضرت مطلب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے جنازے کو نکالا گیا اور انہیں دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ پتھر لائے، وہ اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹایا۔ کثیر کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے مجھے خبر دی اس نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا ہٹایا، پھر اسے اٹھایا اور ان کے سر کے پاس رکھا اور فرمایا: ”تاکہ اس سے میرے بھائی کی قبر پہچانی جائے اور میرے اہل میں سے جو فوت ہو اسے میں اس کے پاس دفن کروں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6744]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1404. -- باب: انصراف من شاء إذا فرغ من القبر أو إذا وري، وما في انتظاره ذلك له من الأجر
-- باب: قبر (کے کام) سے فارغ ہونے یا دفنا دیے جانے کے بعد جو چاہے واپس چلا جائے، اور اس کا انتظار کرنے والے کے لیے اجر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ" وَقِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ"". انْتَهَى حَدِيثُ شَبِيبٍ، زَادَ ابْنَ وَهْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ يُونُسَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ الزِّيَادَةَ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہوا یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے، اور جو اس میں حاضر رہا یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔“
سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر جب انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يَفْرُغَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ". قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ:" حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو دفن سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے دو قیراط۔“ انہوں نے کہا: دو قیراط کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو بڑے پہاڑوں کے مانند ہیں۔“
عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے؛ معمر کہتے ہیں: حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6747
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الذَّوْرَبِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَرَوَاهُ عَقِيلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ وَرَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، وَالشَّعْبِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے اس کے جنازے کی دفن ہونے تک اتباع کی“ اور دوسری حدیث میں ہے: ”جب تک اس سے فارغ نہ ہوا جائے (اتنی دیر ساتھ رہا اس کے لیے دو قیراط ہیں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6747]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6748
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ الصِّدِّيقِ الْمَعْرُوفُ بِحُسَامٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ"، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيخْبِرُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ. فَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ، وَرُوِيَ مِثْلُ مَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں صاحبِ مقصورہ خباب آئے اور کہا: اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نہیں سنتے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کر دیا گیا، اس کے لیے اجر و ثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کے لیے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کے متعلق پوچھیں، پھر واپس آ کر انہیں بتائیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں کی ایک مٹھی لے لی اور قاصد کے واپس آنے تک انہیں اپنے ہاتھ میں الٹتے پلٹتے رہے۔ اس نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابو ہریرہ نے سچ کہا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہاتھ میں موجود کنکریاں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6748]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6749
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَا: ثنا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ ثَوْبَانُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ چلا حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ (ابو حازم کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! قیراط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: احد پہاڑ کی مانند۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6750
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَأَبَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے دفن میں شامل ہوا اس کے لیے دو قیراط ہیں، جو احد پہاڑ کے برابر ایک ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6750]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں