السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1407. -- باب: من قال بتسنيم القبور
-- باب: اس شخص کا قول جو قبروں کو کوہان نما (اونچا) کرنے کا قائل ہے
حدیث نمبر: 6761
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ" أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَمَتَى مَا صَحَّتْ رِوَايَةُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قُبُورُهُمْ مَبْطُوحَةٌ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ فَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْطِيحِ، وَصِحَّةِ رُؤْيَةِ سُفْيَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا، فَكَأَنَّهُ غُيِّرَ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ فِي الْقَدِيمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُهُ فِي زَمَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقِيلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثُمَّ أُصْلِحَ، وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِيمَ فِي هَذَا الزَّمَانِ لِكَوْنِهِ جَائِزًا بِالْإِجْمَاعِ، وَأَنَّ التَّسْطِيحَ صَارَ شِعَارًا لِأَهْلِ الْبِدَعِ، فَلَا يَكُونُ سَبَبًا لِإِطَالَةِ الْأَلْسِنَةِ فِيهِ وَرَمْيِهِ بِمَا هُوَ مُنَزَّهٌ عَنْهُ مِنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو اونٹ کے کوہان کی مانند دیکھا۔
جب قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے کہ ان کی قبروں پر صحن کی کنکریاں بچھی ہوئی تھیں تو یہ قبروں کے ہموار ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور سفیان تمار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھنا بھی صحیح ہے، تو گویا وہ اپنی پہلی حالت سے بدل دی گئی تھی۔
کیونکہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، اور کہا گیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے، مگر ہمارے اصحاب (شافعی علماء) میں سے بعض اہل علم نے اس زمانے میں قبر کو کوہان نما بنانا مستحب قرار دیا ہے کیونکہ وہ بالاجماع جائز ہے، اور ہموار بنانا اہل بدعت کی علامت بن چکا ہے، تاکہ یہ میت کے بارے میں زبان درازی کا اور اسے اہل بدعت کے ان مذاہب سے متہم کرنے کا سبب نہ بنے جن سے وہ بری ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6761]
جب قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے کہ ان کی قبروں پر صحن کی کنکریاں بچھی ہوئی تھیں تو یہ قبروں کے ہموار ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور سفیان تمار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھنا بھی صحیح ہے، تو گویا وہ اپنی پہلی حالت سے بدل دی گئی تھی۔
کیونکہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، اور کہا گیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے، مگر ہمارے اصحاب (شافعی علماء) میں سے بعض اہل علم نے اس زمانے میں قبر کو کوہان نما بنانا مستحب قرار دیا ہے کیونکہ وہ بالاجماع جائز ہے، اور ہموار بنانا اہل بدعت کی علامت بن چکا ہے، تاکہ یہ میت کے بارے میں زبان درازی کا اور اسے اہل بدعت کے ان مذاہب سے متہم کرنے کا سبب نہ بنے جن سے وہ بری ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1408. -- باب: لا يبنى على القبور ولا تجصص
-- باب: قبروں پر عمارت نہ بنائی جائے اور نہ ہی انہیں پختہ (گچ) کیا جائے
حدیث نمبر: 6762
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُقَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ”کہ آدمی قبر پر بیٹھے یا قبر کو پختہ کیا جائے یا اس پر عمارت بنائی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ أَوْ يُزَادُ عَلَيْهِ وَزَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ. وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى فِي وَصِيَّتِهِ: وَلَا تَجْعَلُنَّ عَلَى قَبْرِي بِنَاءً وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَلَا تَضْرِبُنَّ عَلَيَّ فُسْطَاطًا وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ”یا اس پر کچھ زیادہ کیا جائے“ اور سلیمان بن موسیٰ نے اس میں اضافہ کیا کہ ”اس پر لکھا بھی نہ جائے۔“
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ان کی وصیت میں مروی ہے: ”میری قبر پر ہرگز کوئی عمارت نہ بنانا“ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”مجھ پر ہرگز خیمہ نہ لگانا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6763]
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ان کی وصیت میں مروی ہے: ”میری قبر پر ہرگز کوئی عمارت نہ بنانا“ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”مجھ پر ہرگز خیمہ نہ لگانا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
1409. -- باب: في غسل المرأة
-- باب: عورت کے غسل کا بیان
حدیث نمبر: 6764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَيُّوبَ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین، پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور یہ پانی اور بیری کے ساتھ دینا اور آخر میں کافور یا اس جیسی کوئی چیز لگانا۔ جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی چادر دی اور فرمایا: ”یہی اسے پہنانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6765
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ⦗٧⦘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا، فَلْيُبْدَأْ بِبَطْنِهَا فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى فَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِذَا أَرَدْتِ غَسْلَهَا فَابْدَئِي بِأَسْفَلِهَا، فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفًا، فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَحْسِنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ، وَلْتُفْرِغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ، وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النَّاسِ بِهَا، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتُغَسِّلْهَا امْرَأَةٌ أُخْرَى مُسْلِمَةٌ وَرِعَةٌ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سُفْلَتِهَا غَسْلًا نَقِيًّا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَهَذَا بَيَانُ وُضُوئِهَا، ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَنْقِي كُلَّ غِسْلَةٍ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا، بِمُشْطٍ فَإِنْ حَدَثَ مِنْهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسَلَاتِ الثَّلَاثِ فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا، وَإِنْ حَدَثَ بَعْدَ الْخَمْسِ، فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا، وَكُلُّ ذَلِكَ فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ حَتَّى لَا يَرِيبَكِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ غَسْلَةٍ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَاجْعَلِي شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرَّةٍ جَدِيدَةٍ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا، وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا، هَذَا بَيَانُ الْغُسْلِ، ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، ثُمَّ امْسَحِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبَنِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا يُرْبَطُ النِّطَاقُ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبَنِيَّةِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتِهَا، فَهَذَا بَيَانُ سُفْلَتِهَا، ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا وَاضْفِرِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُصَّةً وَقَرْنَيْنِ، وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا خَمْسَةَ أَثْوَابٍ، إِحْدَاهُنَّ الَّذِي تَلُفُّ فَخِذَيْهَا وَلَا تَنْقُصِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا يَعْنِي بِنَوْرَةٍ وَلَا غَيْرِهَا وَمَا سَقَطَ مِنْ شَعْرِهَا فَاغْسِلِيهِ، ثُمَّ أَعِيدِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا أَوْ قَالَ: اغْرِزِيهِ وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا، وَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ إِنْ شِئْتِ، وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا، وَلَا تَنْسَيْ ذَلِكَ، فَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُجَمِّرِيهَا فِي نَعْشِهَا فَاجْعَلِيهِ نُبْذَةً وَاحِدَةً حَتَّى يَكُونَ⦗٨⦘ وِتْرًا، هَذَا بَيَانُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَجْدُورَةً أَوْ مَخْضُوبَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ فَخُذِي خِرْقَةً وَاسِعَةً فَاغْسِلِيهَا فِي الْمَاءِ"، وَفِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ،" فَاغْمِسِيهَا فِي الْمَاءِ"، ثُمَّ فِي رِوَايَتِنَا،" وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا، وَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَنْفَجِرَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدُّهُ" هَذَا لَفْظُ ابْنِ خُزَيْمَةَ، وَحَدِيثُ الصَّغَانِيِّ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ:" وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا خَمْسَةً" رَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ، فَزَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ:" وَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ وَلَا تَغْسِلِيهِ بِمَاءٍ سَخِنٍ وَأَجْمِرِيهَا بَعْدَ مَا تُكَفِّنِيهَا بِسَبْعٍ إِنْ شِئْتِ"، وَكَأَنَّهُ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ شْيخِي.
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور وہ اسے غسل دینا چاہیں تو اس کے پیٹ سے آغاز کیا جائے اور اس کے پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے اگر وہ حاملہ نہ ہو۔ اگر وہ حاملہ ہو تو پھر اسے حرکت نہ دینا اور جب اس کے غسل کا ارادہ کرو تو اس کے نچلے حصے سے آغاز کرو اور اس کے ستر پر پردہ کرنے والا کپڑا ڈالو۔ پھر روئی لے کر اسے دھوؤ اور اچھی طرح دھوؤ۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے نیچے سے داخل کرو اور اسے وضو کرانے سے پہلے روئی کے ساتھ تین مرتبہ اچھی طرح صاف کرو۔ پھر اسے ایسے پانی سے وضو کراؤ جس میں بیری ہو اور چاہیے کہ ایک عورت کھڑی ہو کر پانی انڈیلے اور اس کے سوا کوئی اور کام نہ کرے، اور اسے غسل وہ دے جو اس کی سب سے قریبی رشتہ دار ہو وگرنہ کوئی پرہیزگار عورت۔ اگر وہ (قریبی رشتہ دار) چھوٹی یا کمزور ہو تو پھر اسے کوئی دوسری پرہیزگار مسلمان عورت غسل دے۔ پس جب وہ اس کے نچلے حصے کو پانی اور بیری کے ساتھ اچھی طرح صاف کرنے سے فارغ ہو جائے تو یہ اس کے وضو کا بیان ہے۔ پھر اس کے بعد پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ غسل دو اور سب سے پہلے اس کے سر سے آغاز کرو اور ہر غسل میں بیری کو پانی سے صاف کر دو اور اس کے بالوں کو کنگھے سے نہ سنوارو۔ اگر تین مرتبہ دھونے کے بعد کوئی حدث ظاہر ہو تو پھر اسے پانچ مرتبہ کر لو۔ اگر پانچ کے بعد بھی حدث ہو تو پھر سات مرتبہ کرو اور یہ سب طاق عدد میں پانی اور بیری کے ساتھ ہو یہاں تک کہ تمہیں کوئی شک نہ رہے۔ اور جب آخری غسل ہو، تیسرا یا کوئی اور، تو اس میں کچھ کافور اور کچھ بیری ملاؤ۔ پھر اسے نئے مٹکے میں ڈالو، پھر اسے بٹھا کر اس پر پانی بہاؤ، اس کا آغاز سر سے کرو یہاں تک کہ پاؤں تک پہنچ جاؤ۔ جب اس سے تم فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈالو۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے پیچھے سے ڈالو اور (پہلا) کپڑا اس سے کھینچ لو۔ یہ ہے غسل کا بیان۔ پھر جتنا ہو سکے اس کے نچلے حصے میں روئی بھر دو۔ پھر اس کی روئی کو اس کی خوشبو لگاؤ۔ پھر ایک لمبی دھلی ہوئی (سبنیہ) چادر لو اور اسے اس کی کمر پر باندھو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان گرہ لگاؤ اور اس کی رانوں کو ملا دو۔ پھر اس چادر کا کنارہ کمر سے گھٹنے کے قریب تک ڈال دو، یہ اس کے نچلے حصے کا بیان ہے۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بناؤ: ایک پیشانی کی اور دو اطراف کی، اور اسے مردوں کے مشابہ نہ بناؤ اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو۔ ان میں سے ایک وہ جو اس کی رانوں کو لپیٹے، اور اس کے بالوں میں سے کچھ کم نہ کرو، یعنی چونے سے اور نہ کسی اور چیز سے، اور جو اس کے بالوں میں سے گرے اسے دھو کر اس کے سر کے بالوں میں واپس رکھ دو، یا فرمایا: اسے (بالوں میں) اڑس دو، اور سر کے بالوں کو خوشبو لگاؤ اور اگر چاہو تو اچھی طرح لگاؤ اور اس کا ہر کام طاق عدد میں کرو، اس بات کو نہ بھولنا۔ پھر اگر تم اسے اس کی چارپائی پر دھونی دینا چاہو تو ایک ہی مرتبہ دینا تاکہ طاق ہو جائے، یہ اس کے کفن اور سر کا بیان ہے۔ اگر اسے چیچک ہو یا مہندی لگی ہو یا اس طرح کی کوئی اور حالت ہو تو کپڑے کا ایک بڑا ٹکڑا لے کر اسے پانی میں دھو لو۔“
ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے پانی میں ڈبو لو“ اور پھر ہماری روایت میں ہے: ”اس کے ہر حصے کا خیال رکھو مگر اسے حرکت نہ دو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی ایسی چیز نہ بہہ پڑے جسے روکا نہ جا سکے۔“ یہ ابن خزیمہ کے الفاظ ہیں اور صغانی کی حدیث ”اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو“ کے الفاظ پر ختم ہو گئی۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے محمود بن غیلان رحمہ اللہ سے روایت کیا اور ”اچھی طرح خوشبو لگاؤ“ کے الفاظ کے پاس یہ اضافہ کیا: ”اور اسے گرم پانی سے نہ دھوؤ اور اگر چاہو تو کفن پہنانے کے بعد اسے سات مرتبہ دھونی دو۔“ گویا یہ میرے شیخ کی کتاب سے رہ گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6765]
ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے پانی میں ڈبو لو“ اور پھر ہماری روایت میں ہے: ”اس کے ہر حصے کا خیال رکھو مگر اسے حرکت نہ دو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی ایسی چیز نہ بہہ پڑے جسے روکا نہ جا سکے۔“ یہ ابن خزیمہ کے الفاظ ہیں اور صغانی کی حدیث ”اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو“ کے الفاظ پر ختم ہو گئی۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے محمود بن غیلان رحمہ اللہ سے روایت کیا اور ”اچھی طرح خوشبو لگاؤ“ کے الفاظ کے پاس یہ اضافہ کیا: ”اور اسے گرم پانی سے نہ دھوؤ اور اگر چاہو تو کفن پہنانے کے بعد اسے سات مرتبہ دھونی دو۔“ گویا یہ میرے شیخ کی کتاب سے رہ گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6765]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6766
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مُقَطَّعًا بِمَعْنَاهُ، وَاللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَإِذَا فَرَغْتِ مِنَ الْخَمْسِ، فَلْتَجْعَلِي الْكَافُورَ فِي مَسَامِعِ الْمَيِّتِ".
ولید بن مسلم کہتے ہیں: مجھے خبر دی شیبان ابو معاویہ نے اور انہوں نے یہی حدیث ذکر کی مختلف معانی سے اور اس میں یہ بات بیان کی گئی کہ ”جب تو پانچویں مرتبہ سے فارغ ہو تو میت کے مسامع میں کافور لگاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6766]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الطبراني»
الحكم على الحديث: منكر
1410. -- باب: السنة الثابتة في تضفير شعر رأسها ثلاثة قرون وإلقائهن خلفها
-- باب: عورت کے سر کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانے اور انہیں اس کی پیٹھ پیچھے ڈال دینے کی ثابت شدہ سنت کا بیان
حدیث نمبر: 6767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ يَعْنِي حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي". قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ، قَالَتْ: فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ"، قَالَتْ: فَضَفَرْنَا رَأْسَهَا نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا. ⦗٩⦘.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فوت ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا، اگر تم کچھ ضرورت محسوس کرو تو اس سے بھی زیادہ کر لینا اور آخر میں کافور یا کافور جیسی کوئی چیز ملانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف ایک چادر پھینکی اور فرمایا: ”یہ اسے پہناؤ۔“ وہ کہتی ہیں: پھر ہم نے اس کے سر کے بالوں کو، پیشانی اور دونوں اطراف کے بالوں کو، تین مینڈھیوں میں گوندھا اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَجَعْفَرُ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى هَكَذَا.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے تین مینڈھیوں میں اس کے سر کو تقسیم کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ أَبِي تَمِيمَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ:" إنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ" وَقَالَ: نَقَضْنَهُ فَغَسَلْنَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ:" ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کو تین مینڈھیوں کے ساتھ تقسیم کیا اور کہا: انہیں ہم کھول کے دھو دیتی تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں احمد اور ابن وہب رحمہما اللہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ ”پھر انہوں نے اس کی تین مینڈھیاں بنا دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1411. -- باب: كفن المرأة
-- باب: عورت کے کفن کا بیان
حدیث نمبر: 6770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ أَبِي تَمِيمَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي"، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" قَالَ: وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أِيَّ بَنَاتِهِ وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ: الْفِفْنَهَا فِيهِ، قَالَ: وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ: يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَةً وَلَا تُؤْزَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو تو، اور یہ پانی اور بیری کے پتوں سے کرو اور آخر میں کافور ملانا۔“ جب ہم اس سے فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہماری طرف پھینکی اور فرمایا: ”اسے اس میں کفن دینا۔“
راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے زیادہ بیان نہیں کیا، اور کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ «إِشْعَار» کا مطلب ہے: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اور کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی حکم دیا کرتے تھے کہ عورت کو اندرونی لفافے میں لپیٹا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6770]
راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے زیادہ بیان نہیں کیا، اور کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ «إِشْعَار» کا مطلب ہے: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اور کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی حکم دیا کرتے تھے کہ عورت کو اندرونی لفافے میں لپیٹا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح