السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1415. جماع أبواب الشهيد ومن يصلي عليه ويغسل -- باب: المسلمين يقتلهم المشركون في المعترك فلا يغسل القتلى ولا يصلى عليهم ويدفنون بكلومهم ودمائهم
شہید اور ان لوگوں کے ابواب کا مجموعہ جن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں غسل دیا جائے گا -- باب: ان مسلمانوں کا بیان جنہیں مشرکین میدانِ جنگ میں شہید کر دیں تو ان مقتولین کو نہ غسل دیا جائے گا، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں ان کے زخموں اور خون سمیت دفن کر دیا جائے گا
حدیث نمبر: 6801
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبْيَوَرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ:" زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي عَلَيْهِمْ شَهِيدٌ" وَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيَسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدِّمُونَهُ. قَالَ جَابِرٌ فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین (شہدائے) احد کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو، بیشک میں ان کا گواہ ہوں۔“ اور ایک ہی قبر میں ایک، دو، تین تین آدمیوں کو دفن کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ”ان میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا کون ہے؟“ پھر اسے مقدم کیا جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس دن میرے باپ اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6801]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6802
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ ⦗١٨⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ نہیں کسی کو اللہ کی راہ میں زخم آتا اور اللہ جانتا ہے جسے بھی اس کی راہ میں زخم آیا مگر وہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کا زخم خون بہا رہا ہو گا، اس کا خون خون ہی کے رنگ میں ہو گا مگر اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
1416. -- باب: من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على شهداء أحد
-- باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جن کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے شہدائے احد کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 6803
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْغِفَارِيَّ، يَقُولُ:" كَانَ قَتْلَى أُحُدٍ يُؤْتَى بِتِسْعَةٍ وَعَاشِرُهُمْ حَمْزَةُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُحْمَلُونَ، ثُمَّ يُؤْتَى بِتِسْعَةٍ فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ".
حصین بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ احد کے مقتولین میں سے نو لائے گئے اور دسویں ان میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھا، پھر وہ اٹھائے گئے اور مزید نو کو لایا گیا، ان پر جنازہ پڑھا گیا اور حمزہ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر ہی تھے جب نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6803]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6804
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، ثنا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ عَشَرَةً عَشَرَةً، فِي كُلِّ عَشَرَةٍ مِنْهُمْ حَمْزَةُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلَاةً" هَذَا أَصَحُّ مَا فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ بِمَعْنَاهُ، ⦗١٩⦘ قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ عَلَى حَمْزَةَ سَبْعِينَ صَلَاةً بَدَأَ بِحَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو بِالشُّهَدَاءِ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ، وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ وَحَدِيثُ جَابِرٍ مَوْصُولٌ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ شُهَدَاءِ أُحُدٍ.
حضرت حصین، ابو مالک غفاری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولینِ احد میں دس دس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور ہر دس میں دسویں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر مرتبہ آپ کا جنازہ پڑھا۔
اس باب میں یہ سب سے صحیح روایت ہے اور یہ مرسل ہے۔
عطاء، شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ پر ستر جنازے پڑھے، آغاز بھی حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر شہداء کو منگواتے اور جنازے پڑھتے اور حمزہ رضی اللہ عنہ اسی جگہ پر رہے۔
یہ بھی منقطع ہے، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث موصول ہے اور ان کے والد شہدائے احد میں سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6804]
اس باب میں یہ سب سے صحیح روایت ہے اور یہ مرسل ہے۔
عطاء، شعبی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن حمزہ رضی اللہ عنہ پر ستر جنازے پڑھے، آغاز بھی حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر شہداء کو منگواتے اور جنازے پڑھتے اور حمزہ رضی اللہ عنہ اسی جگہ پر رہے۔
یہ بھی منقطع ہے، جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث موصول ہے اور ان کے والد شہدائے احد میں سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6804]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6805
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ لَا تَدْرِي مَا صَنَعَ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا، وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ: اذْكُرْ لِأُمِّكَ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَا بَلْ أَنْتَ اذْكُرْ لِعَمَّتِكَ، قَالَ: فَقَالَتْ: مَا فَعَلَ حَمْزَةُ فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا"، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا، وَدَعَا لَهَا، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقَامَ عَلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ:" لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَواصِلِ الطَّيْرِ"، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى، فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ فَيُوضَعُ تِسْعَةٌ وَحَمْزَةُ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَيُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ، ثُمَّ يُجَاءُ بِتِسْعَةٍ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعًا حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ" لَا أَحْفَظُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَكَانَا غَيْرَ حَافِظَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہِ احد میں جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا انہیں تلاش کرتی ہوئی آئیں اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا ہے، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ملیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی ماں کو بتا دو، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ تم اپنی پھوپھی کو بتاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کیا ہوا؟ تو ان دونوں نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ کچھ جانتے نہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کی عقل کے بارے میں ڈرتا ہوں (کہ کہیں حواس نہ کھو بیٹھے)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا اور دعا کی۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھی اور رو دیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور رک گئے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عورتوں کی جزع فزع (کا ڈر) نہ ہوتا تو میں اسے اسی حال میں چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اسے درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے اکٹھا کیا جاتا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین کے متعلق حکم دیا اور جنازہ پڑھا، تو نو مقتولین کو رکھا جاتا اور دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سات تکبیرات کہتے تو ان کو اٹھا لیا جاتا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جاتا، پھر مزید نو کو لایا جاتا، ان پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات تکبیرات کہتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے فارغ ہو گئے۔
میں اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی یزید بن ابی زیاد سے روایت ہی سے جانتا ہوں اور یہ دونوں حافظ (پختہ یادداشت والے) نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6805]
میں اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی یزید بن ابی زیاد سے روایت ہی سے جانتا ہوں اور یہ دونوں حافظ (پختہ یادداشت والے) نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6805]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6806
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا" هَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھا اور نو تکبیرات پڑھیں۔
یہ (روایت) محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6806]
یہ (روایت) محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے اور یہ منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6806]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي، عَنْ مِقْسَمٍ، وَقَدْ أَدْرَكَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَلَمْ يُؤْتَ بِقَتِيلٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ مَعَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً" وَهَذَا ضَعِيفٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ إِذَا لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ مَنْ حَدَّثَ عَنْهُ لَمْ يُفْرَحْ بِهِ ⦗٢٠⦘ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر سات تکبیرات کہیں، کسی بھی مقتول کو نہیں لایا گیا مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ پڑھتے، یہاں تک کہ ان کے بہتر (72) جنازے پڑھے۔
یہ ضعیف ہے اور محمد بن اسحاق بن یسار جب اپنے شیخ کا نام ذکر نہ کریں تو ان کی روایت قابلِ اعتبار نہیں۔
حسن بن عمارہ، حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا، مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6807]
یہ ضعیف ہے اور محمد بن اسحاق بن یسار جب اپنے شیخ کا نام ذکر نہ کریں تو ان کی روایت قابلِ اعتبار نہیں۔
حسن بن عمارہ، حکم سے اور وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین کا جنازہ پڑھا، مگر حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اس کی حدیث کو حجت نہیں بنایا جا سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6807]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي شيبة»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قَالَ لِي شُعْبَةُ:" ائْتِ جَرِيرَ بْنَ حَازِمٍ، فَقُلْ لَهُ: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَرْوِيَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ"، قَالَ مَحْمُودٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: قُلْتُ لِشُعْبَةَ: مَا عَلَامَةُ كَذِبِهِ؟ قَالَ:" رَوَى عَنِ الْحَكَمِ أَشْيَاءَ فَلَمْ أَجِدْ لَهَا أَصْلًا، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ؟ قَالَ: لَا. وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ. وَقَالَ: قُلْتُ لِلْحَكَمِ: مَا تَقُولُ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا؟ قَالَ: يُعْتَقُونَ، قَالَ: قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: فَقَالَ: يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ الْبَصْرِيِّينَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ يُعْتَقُونَ".
ابو داؤد کہتے ہیں کہ مجھ سے شعبہ نے کہا: ”جریر بن حازم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تمہارے لیے حسن بن عمارہ سے روایت کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہ بہت جھوٹا ہے۔“ محمود کہتے ہیں: میں نے ابو داؤد سے کہا: یہ کیسے؟ انہوں نے کہا: میں نے شعبہ سے پوچھا: اس کے جھوٹ کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”اس نے حکم سے ایسی چیزیں روایت کیں جن کی میں نے کوئی اصل نہیں پائی۔ میں نے حکم سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ جبکہ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے مقسم سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور میں نے حکم سے پوچھا: زنا سے پیدا ہونے والی اولاد کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: انہیں آزاد کیا جائے گا۔ میں نے کہا: کس سے (یہ روایت ہے)؟ انہوں نے کہا: یہ اہلِ بصرہ کی حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے۔ جبکہ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے یحییٰ بن جزار سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہیں آزاد کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6808]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الخطيب»
الحكم على الحديث: صحيح
1417. -- باب: ذكر رواية من روى أنه صلى عليهم بعد ثمان سنين توديعا لهم
-- باب: ان حضرات کی روایت کا ذکر جنہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 6809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحَدٍ صَلَاتَهَ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، إنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ الْآنَ إِلَى حَوْضِي وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ خَزَائِنَ مَفَاتِيحِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور شہدائے احد پر نماز پڑھی جیسے نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف پلٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں، اللہ کی قسم! اب میں حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور بے شک میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیا گیا ہوں (یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی چابیاں فرمایا) اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا" قَالَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عُقْبَةُ:" فَكَانَ آخِرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد مقتولینِ احد کی نماز جنازہ پڑھائی، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو الوداع کرنے والا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”بیشک میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور تمہارا وعدہ حوض پر ہے اور میں اسے اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر اس سے نہیں ڈرتا کہ تم شرک کرو گے، لیکن میں تو تم پر ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ اور یہ آخری نظر تھی جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخری مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6810]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح