🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1341. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ الرَّبِيعُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ بَحْرٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَوْعُوكٌ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَوَجَدَ حَرَارَتَهَا فَوْقَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا أَشَدَّ حَرَّ حُمَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كَذَلِكَ يُشَدَّدُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ، وَيُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ" ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْعُلَمَاءُ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الصَّالِحُونَ، كَانَ أَحَدُهُمْ يُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يَلْبَسُهَا، وَيُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ، وَلَأَحَدُهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِالْبَلَاءِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِالْعَطَاءِ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا تو چادر (کمبل) کے اوپر سے تپش کو محسوس کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بخار کی تپش کس قدر زیادہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہماری تکالیف یونہی سخت ہوتی ہیں اور ہمارا اجر بھی دو گنا ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تمام لوگوں میں سے سخت تکلیف میں کون لوگ ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر علماء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر صالحین؛ ان میں سے ایک محتاجی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ صرف ایک چادر ہی پاتا ہے جسے وہ پہنتا ہے اور جوؤں سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اسے ہلاک کر دیتی ہیں، اور ان میں سے کوئی آزمائش پر اس سے زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی عطا (نعمت) کے حصول پر خوش ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6533]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6534
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ⦗٥٢٢⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ:" النَّبِيُّونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسْبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا تَبْرَحُ الْبَلَايَا عَلَى الْعَبْدِ حَتَّى تَدَعَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ".
مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء کی۔ پھر درجہ بدرجہ ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ دین میں زیادہ پختہ ہے تو اس کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو وہ اپنے دین کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے۔ سو بندے پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں حتیٰ کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی کوئی غلطی (گناہ) نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6534]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ السَّهْمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَارِبُوا، وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ كُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ كَفَّارَةٌ لَهُ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا أَوِ النَّكْبَةُ يُنْكَبُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری۔ انہوں نے اس کا تذکرہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے رہو اور خوش ہو جاؤ، یقیناً مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ مصیبت جو اس پر آتی ہے (گناہوں کے کفارے کا باعث ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ؟ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] أَكَلُّ سُوءٍ عَمِلْنَا بِهِ جُزِينَا؟ فَقَالَ:" غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ الْبَلَاءُ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ فِي الدُّنْيَا".
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آیت کے بعد خلاصی کیسے؟ ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”کہ جس نے برے اعمال کیے اسے پورا بدلہ دیا جائے گا“ یعنی جو بھی ہم برا عمل کرتے ہیں اس کی سزا دی جائے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ تجھے معاف کرے“، یہ بات تین مرتبہ کہی۔ ”کیا تو بیمار نہیں ہوتا؟ کیا تو غمگین نہیں ہوتا؟ کیا تجھے تکلیف نہیں آتی؟ کیا تجھے مصیبت نہیں آتی؟“ میں نے کہا: جی ہاں آتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی تو ہے وہ جس کا دنیا میں بدلہ دیے جاتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6536]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6537
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيِّ بْنِ السَّقَّا الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا سَقَمٍ، وَلَا حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ، إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کسی مومن کو کبھی کوئی تکلیف، پریشانی، بیماری اور غم، حتیٰ کہ کوئی پریشانی جو اس کو پریشان و غمگین کر دیتی ہے، نہیں پہنچتی مگر اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کی خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6537]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ⦗٥٢٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مصیبت جو مومن کو پہنچتی ہے تو اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کے گناہ مٹاتا ہے، حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے تکلیف دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6538]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6539
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي: قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُؤْمِنُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا". لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی ایسی مصیبت نہیں جو مومن کو پہنچے مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے چبھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6539]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6540
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نہیں ہے کوئی مومن جسے کانٹا چبھتا ہے یا اس سے کمتر کوئی تکلیف مگر اس سے اللہ سبحانہ اس کے گناہ کو مٹا دیتے اور اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6540]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کو کانٹا نہیں لگتا یا اس سے کم تکلیف، مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور اس سے اس کی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6541]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم، ترمذي»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6542
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعُودُهُ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ نَحِيفَةٌ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ بَاتَ؟ قَالَ: بَاتَ بِأَجْرٍ، قَالَ أَبُو ⦗٥٢٤⦘ عُبَيْدَةَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ، قَالَ: فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَنِ الْكَلِمَةِ؟ قَالُوا: مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَبِسَبْعِ مِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ، أَوْ مَازَ أَذًى عَنْ طَرِيقٍ فَالْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَلَهُ بِهِ حِطَّةُ خَطِيئَةٍ". قَالَ خَالِدٌ:" يَعْنِي تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبَهُ".
عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے تو ان کے پاس ان کی بیوی تھی، ہم نے ان سے پوچھا: انہوں نے رات کیسے گزاری ہے؟ تو انہوں نے کہا: اجر کے ساتھ۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا (میں نے) اجر پاتے ہوئے رات گزاری ہے؟ تو لوگ خاموش ہو گئے، انہوں نے کہا: کیا تم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھو گے؟ تو انہوں نے کہا: جو آپ نے کہا ہے اس نے ہمیں تعجب میں نہیں ڈالا مگر ہم آپ سے پوچھتے ہیں، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”جس نے اضافی درہم و دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اور جس نے ایک درہم اپنے اہل پر خرچ کیا یا پھر راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹایا تو یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے، اور روزہ ڈھال ہے جب تک وہ اسے پھاڑتا نہیں ہے، اور جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی بیماری سے آزمایا اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹائے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6542]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں