السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1483. -- باب: ما يستحب من تعزية أهل الميت رجاء الأجر في تعزيتهم
-- باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7089
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو حَاتِمٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ مَكَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فِي قِصَّةِ رَجُلٍ لَهُ بُنَيٌّ صَغِيرٌ يَأْتِيَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ بُنَيَّهُ هَلَكَ فَمَنَعَهُ الْحُزْنُ عَلَيْهِ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَسَأَلَهُ عَنِ ابْنِهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ ⦗٩٩⦘ هَلَكَ، قَالَ: فَعَزَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ تُمَتِّعَ بِهِ عُمُرَكَ؟ أَوَ لَا تَأْتِي غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ فَفَتَحَهُ لَكَ؟" قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَا بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ:" فَذَاكَ لَكَ". قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ أَهَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَأَنَّ ذَلِكَ لَهُ".
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا، وہ دونوں (باپ بیٹا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، پھر اس کا بیٹا فوت ہو گیا تو اس کے غم نے اسے مجلس میں آنے سے روک لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ملے اور اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعزیت کی اور فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کیا محبوب ہے، یا تو اس سے عمر بھر نفع حاصل کرتا رہے یا جب تو جنت کے دروازے پر پہنچے تو یہ تجھ سے پہلے وہاں کھڑا ہو اور اسے تیرے لیے کھول دے۔“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! نہیں، بلکہ وہ مجھ سے جنت کے دروازے کی طرف سبقت لے جائے، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے وہی کچھ ہے۔“ انصاریوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا یہ نعمت اس بندے کے ساتھ خاص ہے یا پھر جس مسلمان کا بھی بچہ فوت ہو جائے اس کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جس مسلمان کا بچہ بھی فوت ہو جائے، اس کے لیے یہ اجر ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7089]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
1484. -- باب: ما يقول في التعزية من الترحم على الميت والدعاء له ولمن خلف
-- باب: تعزیت میں میت پر رحم کی دعا کرنے، اس کے لیے اور اس کے پسماندگان کے لیے دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَلَمَّا رَجَعْنَا وَحَاذَيْنَا بَابَهُ إِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ لَا نَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟" قَالَتْ: جِئْتُ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ رَحِمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، قَالَ:" فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟" قَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَبْلُغَ مَعَهُمُ الْكُدَى وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهِ مَا تَذْكُرُ، قَالَ:" لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ بَابَ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ" وَالْكُدَى الْمَقَابِرُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ایک آدمی کی قبر بنائی، جب ہم واپس پلٹے اور اس کے دروازے کے برابر آئے تو وہ ایک عورت تھی جو سامنے تھی، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جانتے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تو کہاں سے آئی؟“ تو انہوں نے کہا: ”میں ان گھر والوں کے پاس سے آئی ہوں، میں نے ان کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کی ہے اور میت کے لیے دعا بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تو ان کے ساتھ «الْكُدَى» (قبرستان) تک گئی ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”اللہ کی پناہ کہ میں «الْكُدَى» تک پہنچوں جب کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ سنا ہے جو آپ بیان فرماتے ہیں!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو ان کے ساتھ «الْكُدَى» تک چلی جاتی تو جنت کے دروازے کو نہیں دیکھ پاتی جب تک تیرے والد کا دادا نہ دیکھ لے۔“ اور «الْكُدَى» سے مراد قبرستان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7090]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا قَائِلًا يَقُولُ: إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ" وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِي أَسَانِيدِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے دادا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو تعزیت کرنے والے آئے، انہوں نے ایک کہنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر مصیبت میں ہمدردی ہوتی ہے اور ہر ہلاکت کے بعد بدل ہوتا ہے اور ہر چیز کے چھن جانے کے بعد ادراک ہوتا ہے، سو تم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ وابستہ رہو اور اسی سے امید رکھو، بے شک مصیبت زدہ تو وہ ہے جو ثواب سے محروم کر دیا گیا۔
اس کا مفہوم ایک دوسری سند سے جعفر عن ابیہ عن جابر اور ایک اور سند سے انس بن مالک سے بھی مروی ہے، اور ان کی اسانید میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7091]
اس کا مفہوم ایک دوسری سند سے جعفر عن ابیہ عن جابر اور ایک اور سند سے انس بن مالک سے بھی مروی ہے، اور ان کی اسانید میں ضعف ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7091]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 7092
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي الْوَالِبِيَّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزَّى رَجُلًا فَقَالَ:" يَرْحَمُكَ اللهُ وَيَأْجُرُكَ" وَهَذَا مُرْسَلٌ.
حسین بن ابی عائشہ رحمہ اللہ، ابو خالد یعنی الوالبی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے تعزیت کی اور فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ وَيَأْجُرُكَ» ”اللہ تجھ پر رحم کرے اور تجھے اجر دے۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7092]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7092]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: ضعيف
1485. -- باب: ما يستحب من مسح رأس اليتيم وإكرامه.
-- باب: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور اس کی عزت افزائی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ ⦗١٠٠⦘ بْنُ خَالِدِ ابْنِ سَارَةَ، وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللهِ ابْنَيِ الْعَبَّاسِ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ:" احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ"، فَجَعَلَنِي أَمَامَهُ، ثُمَّ قَالَ لِقُثَمَ:" احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ"، فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ مَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ وَتَرَكَ عُبَيْدَ اللهِ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِي ثَلَاثًا كُلَّمَا مَسَحَ قَالَ:" اللهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ". قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْهِدَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ: اللهُ وَرَسُولُهُ كَانَ أَعْلَمُ بِالْخِيَرَةِ، قَالَ: أَجَلْ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر تم مجھے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں قثم اور عبید اللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھتے جب ہم کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”اس کو میری طرف اٹھاؤ“ اور مجھے اپنے آگے بٹھاتے، پھر قثم کے متعلق فرماتے: ”اسے بھی میرے پاس لاؤ“ اور اسے اپنے پیچھے بٹھا لیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے نہیں شرمائے کہ آپ نے قثم کو اٹھا لیا اور عبید اللہ کو چھوڑ دیا۔ پھر میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرتے اور ہر مرتبہ فرماتے: «اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِيْ وَلَدِهِ» ”اے اللہ! جعفر کی ان کی اولاد میں جانشینی فرما (ان کی اولاد کو ویسا ہی بنا دے)۔“ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ قثم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: وہ شہید ہو گیا، تو میں نے عبداللہ سے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی اس کی بھلائی کو زیادہ جانتا ہے، انہوں نے کہا: ہاں واقعی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7093]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7094
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَيْسَانَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ:" إِنْ أَرَدْتَ أَنْ يُلَيَّنَ قَلْبُكَ فَأَطْعِمِ الْمَسَاكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے دل کی سختی کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مساکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر پیار دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7094]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَلْمَانَ: أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَرَدْتَ أَنْ يُلَيَّنَ قَلْبُكَ فَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمْهُ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے پھر تو یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ (پیار دے) اور اسے کھلا پلا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7095]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1486. -- باب: ما يهيأ لأهل الميت من الطعام
-- باب: میت کے اہل خانہ کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7096
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُنَّ مَا يَشْغَلُهُنَّ"، أَوْ" أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ". جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ خَالِدِ ابْنِ سَارَةَ مَخْزُومِيٌّ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انہیں مصروف کر دیا ہے۔“ یہ جعفر، خالد بن سارہ مخزومی کا بیٹا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7096]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7097
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ الْمَخْزُومِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَكَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا نُعِيَ جَعْفَرٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انہیں مصروف کر دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7097]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7098
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَحَامَتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطَبَخَتْ وَصَنَعَتْ ثَرِيدًا ثُمَّ صَبَّتِ التَّلْبِينَةَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَتْ: كُلُوا مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو اس کے لیے عورتیں اکٹھی ہو جاتیں، پھر وہ جدا ہو جاتیں، سوائے اس کے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں کے۔ پھر وہ تلبینے سے حریرہ بنانے کا حکم دیتیں، پھر اسے پکایا جاتا اور ثرید بنایا جاتا، پھر اس پر تلبینہ ڈالتی اور کہتیں: اس میں سے کھاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تلبینہ دل کے مریض کے لیے قوت کا باعث ہے اور کچھ غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح