السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1494. -- باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع
-- باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 7129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَروٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ:" إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ"، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَرَجُلٌ فَدُفِعَ إِلَى رَسُولِ ⦗١٠٩⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَاصِمٍ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا، آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ ”وہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور یہ کہ وہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کے لیے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز اس کے پاس وقت مقررہ کے ساتھ ہے، سو چاہیے کہ تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔“ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ ضرور ان کے پاس تشریف لائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی تھا۔ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: گویا وہ پرانا مشکیزہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے، اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں ہی پر رحم کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7130
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَاهُ شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: أَرَى هَذَا الرَّجُلَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ الْخَمْرَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الشَّامَ فَهَلَكَ هُنَالِكَ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ فَخَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَكَلَّمَهَا فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا مِثْلُكَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ امْرُؤٌ كَافِرٌ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ لَا يَصْلُحُ أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ دَهْرُكِ، قَالَتْ وَمَا دَهْرِي؟ قَالَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَا أُرِيدُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ أُرِيدُ مِنْكَ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَكَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ:" جَاءَكُمْ أَبُو طَلْحَةَ غُرَّةُ الْإِسْلَامِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ". فَجَاءَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَتَزَوَّجَهَا عَلَى ذَلِكَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا بَلَغَنَا أَنَّ مَهْرًا كَانَ أَعْظَمَ مِنْهُ أَنَّهَا رَضِيَتْ بِالْإِسْلَامِ مَهْرًا فَتَزَوَّجَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلِيحَةَ الْعَيْنَيْنِ فِيهَا صِغَرٌ، فَكَانَتْ مَعَهُ حَتَّى وُلِدَ مِنْهُ بُنَيٌّ، وَكَانَ يُحِبُّهُ أَبُو طَلْحَةَ حُبًّا شَدِيدًا إِذْ مَرِضَ الصَّبِيُّ وَتَواضَعَ أَبُو طَلْحَةَ لِمَرَضِهِ أَوْ تَضَعْضَعَ لَهُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَا يَنْعَيَنَّ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ أَحَدٌ ابْنَهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَنْعَاهُ لَهُ، فَهَيَّأَتِ الصَّبِيَّ وَوَضَعَتْهُ، وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ ابْنِي؟ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ السَّاعَةَ، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ. فَأَتَتْهُ بِعَشَائِهِ فَأَصَابَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَتْ فَتَطَيَّبَتْ وَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ طَعِمَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا قَوْمًا عَارِيَةً لَهُمْ فَسَأَلُوهُمْ إِيَّاهَا أَكَانَ لَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهَا؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَعَارَكَ ابْنَكَ عَارِيَةً ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَيْهِ فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ وَاصْبِرْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ تَرَكْتِنِي حَتَّى إِذَا وَقَعْتُ بِمَا وَقَعْتُ بِهِ نَعَيْتِ إِلَيَّ ابْنِي، ثُمَّ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا" فَتَلَقَّتْ مِنْ ذَلِكَ الْحَمْلِ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخْرُجُ مَعَهُ إِذَا خَرَجَ وَتَدْخُلُ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأْتُونِي بِالصَّبِيِّ"، فَأَخَذَهَا الطَّلْقُ لَيْلَةَ قُرْبِهِمْ مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَتْ: اللهُمَّ إِنِّي كُنْتُ أَدْخُلُ إِذَا دَخَلَ نَبِيُّكَ، وَأَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ نَبِيُّكَ، وَقَدْ حَضَرَ هَذَا ⦗١١٠⦘ الْأَمْرُ فَوَلَدَتْ غُلَامًا يَعْنِي حِينَ قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقَالَتْ لِابْنِهَا أَنَسٍ انْطَلِقْ بِالصَّبِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ أَنَسٌ الصَّبِيَّ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسِمُ إِبِلًا وَغَنَمًا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ لِأَنَسٍ" أَوَلَدَتِ ابْنَةُ مِلْحَانَ؟" قَالَ: نَعَمْ، فَأَلْقَى مَا فِي يَدِهِ فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ فَقَالَ:" ائْتُونِي بِتَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ" فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرَ فَجَعَلَ يُحَنِّكُ الصَّبِيَّ وَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ:" انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ". فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ. قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ، قِصَّةُ الْوَفَاةِ دُونَ مَا قَبْلَهَا مِنْ قِصَّةِ التَّزْوِيجِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنِ أَنَسٍ مُخْتَصَرًا.
نضر بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ کے والد مالک نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا تو نے اس شخص (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نہیں دیکھا کہ وہ شراب کو حرام کہتا ہے؟ پھر وہ شام چلا گیا اور وہیں ہلاک ہو گیا، تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا اور اس سلسلے میں ان سے بات کی تو وہ کہنے لگیں: اے ابو طلحہ! آپ جیسا آدمی لوٹایا تو نہیں جاتا، مگر آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں، اس لیے آپ سے میرا نکاح درست نہیں، تو انہوں نے کہا: یہ تمہاری اصل غرض نہیں۔ انہوں نے کہا: میری غرض کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سونا اور چاندی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: میں ایسا کچھ نہیں چاہتی، نہ سونا اور نہ ہی چاندی، میں تو آپ سے اسلام کا مطالبہ کرتی ہوں۔ انہوں نے پوچھا: میرے لیے اس کام میں کون ہے؟ انہوں نے کہا: آپ کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تمہارے پاس ابو طلحہ آیا ہے اور اسلام کی چمک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نظر آ رہی ہے“۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور جو کچھ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا تھا وہ بتا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر ان کا نکاح فرما دیا۔ ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ اس سے زیادہ عظیم کوئی مہر ہو کہ وہ مہر کے عوض اسلام لانے پر خوش ہوئیں اور نکاح کیا، اور وہ خوبصورت آنکھوں والی، چھوٹے قد کی عورت تھیں تو وہ ان کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اچانک بچہ بیمار ہو گیا تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کی دیکھ بھال کی، پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے اور بچہ فوت ہو گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی ابو طلحہ کو بچے کی موت کی خبر نہ دے، یہاں تک کہ میں خود انہیں آگاہ کروں گی، چنانچہ انہوں نے بچے کو تیار کیا اور رکھ دیا۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے تو پوچھا: میرے بیٹے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! کل جو اسے تکلیف تھی، اس سے اب سکون میں ہے۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“۔ پھر وہ رات کا کھانا لائیں تو انہوں نے اس میں سے کھایا، پھر وہ اٹھیں، خوشبو وغیرہ لگائی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا تو انہوں نے ان سے جماع کیا۔ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جان لیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا چکے ہیں اور ان سے لذت بھی حاصل کر لی ہے، تو کہا: اے ابو طلحہ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایک قوم دوسری قوم کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دے، پھر وہ ان سے واپس مانگ لیں، تو کیا انہیں زیب دیتا ہے کہ وہ اسے ان سے روکیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عاریت کے طور پر دیا تھا، پھر اسے اپنے پاس بلا لیا ہے، لہٰذا آپ اپنے بیٹے کی موت پر ثواب کی امید رکھیں اور صبر کریں۔ وہ غصے میں آ گئے اور کہا: تو نے مجھے خبر نہ دی، یہاں تک کہ جب میں نے وہ کام کر لیا تو اب تو نے مجھے میرے بیٹے کی موت کی خبر دی؟ پھر وہ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہاری گزشتہ رات میں برکت ڈالے“۔ چنانچہ وہ اس سے حاملہ ہو گئیں اور ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ نکلتیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (واپس) داخل ہوتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ داخل ہوتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ام سلیم کے ہاں ولادت ہو تو بچے کو میرے پاس لے آنا۔“ جس رات وہ مدینہ کے قریب پہنچے، انہیں دردِ زہ شروع ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ! میں تیرے نبی کے ساتھ داخل ہوتی تھی جب وہ داخل ہوتے اور نکلتی تھی جب وہ نکلتے، اور اب یہ معاملہ آ پہنچا ہے۔ پھر جب وہ دونوں مدینہ منورہ پہنچے تو ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، چنانچہ وہ بچے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کو نشان لگا رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ بنتِ ملحان کا بیٹا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز چھوڑ دی جو ہاتھ میں تھی اور بچے کو پکڑ لیا اور فرمایا: ”میرے پاس عجوہ کھجوریں لاؤ“۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور لی اور اسے چبا کر بچے کو گھٹی دی اور بچہ اسے چوسنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، انصاریوں کو کھجور سے کس قدر محبت ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کا شمار بہترین مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7131
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ أَبُو جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ التَّاجِرُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْجَوْهَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ بِمَكَّةَ مُقْعَدَانِ وَكَانَ لَهُمَا ابْنٌ يَحْمِلُهُمَا غُدْوَةً وَيَأْتِي بِهِمَا الْمَسْجِدَ فَيَضَعُهُمَا فِيهِ ثُمَّ يَذْهَبُ فَيَكْسِبُ عَلَيْهِمَا فَإِذَا أَمْسَى احْتَمَلَهُمَا فَأَقْلَبَهُمَا فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تُرِكَ أَحَدٌ لِأَحَدٍ لَتُرِكَ ابْنُ الْمُقْعَدَيْنِ" ثُمَّ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا، يَقُولُ ذَلِكَ. لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکہ میں دو اپاہج تھے اور ان کا بیٹا تھا، وہ انہیں صبح کے وقت اٹھاتا اور مسجد لاتا اور بٹھا دیتا، پھر وہ چلا جاتا، کمائی کرتا۔ پھر جب شام ہوتی تو وہ انہیں اٹھاتا اور لے جاتا، تو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ فوت ہو گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی کسی کے لیے چھوڑا جاتا تو ابن المقعدین کو چھوڑا جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات اکثر کہا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7131]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ طبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7132
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ خَالُكِ حَمْزَةُ فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ زَوْجُكِ، فَقَالَتْ: وَاحُزْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً لَيْسَتْ لِشَيْءٍ".
ابراہیم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے کہا گیا: تیرا بھائی شہید ہو گیا ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ اس پر رحم کرے، «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پھر ان سے کہا گیا: تیرا ماموں حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیا گیا، انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“۔ پھر ان سے کہا گیا: تیرا خاوند شہید کر دیا گیا، کہنے لگی: ہائے افسوس! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خاوند کا عورت سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے جو کسی سے نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7132]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7133
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ الْكُوفِيُّ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ كُنَّا ⦗١١١⦘ نَعْرِضُ الْمَصَاحِفَ عِنْدَ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَهُ} [التغابن: ١١] قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْهَا فَقَالَ:" هُوَ الرَّجُلُ تُصِيبُهُ الْمُصِيبَةُ فَيَعْلَمُ أَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللهِ فَيَرْضَى وَيُسَلِّمُ. وَرُوِيَ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابو ظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علقمہ بن قیس رحمہ اللہ کو اپنے مصاحف دکھایا کرتے تھے تو وہ اس آیت ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ [سورة التغابن: 11] پر سے گزرے کہ جو بھی انسان کو تکلیف آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں وہی اپنے دل کو درست سمت چلاتے ہیں، تو ہم نے اس کے متعلق سوال کر لیا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جسے تکلیف پہنچی اور وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، وہ اس پر خوش ہو جاتا ہے اور تسلیم کر لیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المؤلف»
الحكم على الحديث: صحيح
1495. -- باب: ما يرجى في المصيبة بالأولاد إذا احتسبهم
-- باب: اولاد کی مصیبت (وفات) پر ثواب کی نیت رکھنے والے کے لیے جس اجر کی امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7134
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان کے تین بچے فوت نہیں ہوتے کہ اسے آگ چھوئے، یہ ممکن نہیں مگر جو اس کے حصہ میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7134]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الَأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَزَادَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عبد الرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں معمر رحمہ اللہ نے خبر دی اور وہ زہری رحمہ اللہ سے اسی معنی میں حدیث روایت کرتے ہیں اور یہ اضافہ کیا کہ اس میں وہ شامل ہیں جو بلوغت کو نہیں پہنچے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7135]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7136
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نِسْوَةً اجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ:" مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاثْنَيْنِ، قَالَ:" وَاثْنَيْنِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَقَدْ رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زَادَ سُهَيْلٌ فِي رِوَايَتِهِ فَتَحْتَسِبُهُمْ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں اکٹھی ہوئیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسی عورت نہیں ہے جس نے اپنے سے آگے تین بچے بھیجے ہوں مگر وہ اسے جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے آڑ (پردہ) ہوں گے۔“ تو ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7136]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7137
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ ⦗١١٢⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُصِيبَ لَهُ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ فَاحْتَسَبَهُمْ كَانُوا لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دو بچے یا تین جو بلوغت کو نہیں پہنچے فوت ہو گئے اور اس نے اسے اجر کا باعث سمجھتے ہوئے صبر کیا، تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7138
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ:" لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُمْ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" أَوِ اثْنَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری عورتوں سے فرمایا: ”نہیں فوت ہوں گے تم میں سے کسی ایک کے تین بچے اور اس نے اجر کی امید رکھی ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گی“ تو ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر دو ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7138]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح