السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1597. -- باب: الدين مع الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کے ساتھ قرض کا بیان۔
حدیث نمبر: 7614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِثْلُهُ أَعَلَيْهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ:" لَا".
یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ نے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے پاس مال ہے اور اتنا ہی قرض ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ تو انہوں نے کہا: زکوٰۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7615
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَسْتَسْلِفُ عَلَى حَائِطِهِ وَحَرْثِهِ مَا يُحِيطُ بِمَا تُخْرِجُ أَرْضُهُ، فَقَالَ:" لَا نَعْلَمُ فِي السُّنَّةِ أَنْ يُتْرَكَ حَرْثُ أَوْ ثَمَرُ رَجُلٍ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَلَا يُزَكِّي وَلَكِنَّهُ يُزَكِّي وَعَلَيْهِ دَيْنُهَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ ذَهَبٌ وَوَرِقٌ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَإِنَّهُ لَا يُزَكِّي حَتَّى يَقْضِيَ الدَّيْنَ".
ابن مبارک رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنے باغ اور کھیت پر اتنا پیشگی قرض لیتا ہے جو اس کی زمین کی پوری پیداوار کے برابر ہو جاتا ہے تو انہوں نے کہا: ہم سنت سے نہیں جانتے کہ کھیت یا پھل ایسے آدمی کے لیے جس پر اس میں قرض ہو، پھر وہ زکاۃ ادا نہ کرے، لیکن وہ زکاۃ ادا کرے گا اگر اس پر قرض بھی ہے۔ لیکن وہ شخص جس کے پاس سونا اور چاندی ہو اور اس میں اس پر قرض بھی ہو، تو وہ اتنی دیر زکاۃ نہیں دے گا جب تک قرض ادا نہ ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7616
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ النَّضْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ:" كَانُوا لَا يَرْصُدُونَ الثِّمَارَ فِي الدَّيْنِ"، قَالَ: قَالَ ابْنُ سِيرِينَ:" وَيَنْبَغِي لِلْعَيْنِ أَنْ تَرْصُدَ فِي الدَّيْنِ" قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْأَمْوَالِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَمْوَالِ الْبَاطِنَةِ.
طلحہ بن نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ پھل کو قرضہ میں نہیں روکتے تھے، فرماتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ نقدی (سونا چاندی) کو قرض کے مقابلے میں روک لینا چاہیے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7616]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7616]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7617
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:" يُزَكِّي مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُهُ". قَالَ: فَكَلَّمْتُهُ حَتَّى رَجَعَ عَنْهُ.
مسعر رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7618
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ قَالَ:" يُزَكِّي الرَّجُلُ مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُهُ؛ لَأَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَنْكِحُ فِيهِ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالظَّوَاهِرُ الَّتِي وَرَدَتْ بِإِيجَابِ الزَّكَاةِ فِي الْأَمْوَالِ تَشْهَدُ لِهَذَا الْقَوْلِ بِالصِّحَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ عُثْمَانَ يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ حُلُولِ الصَّدَقَةِ فِي الْمَالِ، وَقَوْلُهُ هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ يَجُوزُ أَنْ يَقُولَ: هَذَا الشَّهْرُ الَّذِي إِذَا مَضَى حَلَّتْ زَكَاتُكُمْ كَمَا يُقَالُ شَهْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَإِنَّمَا الْحِجَّةُ بَعْدَ مُضَيِّ أَيَّامٍ مِنْهُ. أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْكَلَامِ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے، اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو، کیونکہ وہ اسی سے کھاتا اور نکاح کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث (واللہ اعلم) اس بات کے مشابہ ہے کہ انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، اور ان کا فرمان: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے گزرنے پر تمہاری زکاۃ واجب ہو جائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7618]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے، اور وہ فرمایا کرتے تھے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث (واللہ اعلم) اس بات کے مشابہ ہے کہ انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، اور ان کا فرمان: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس کے گزرنے پر تمہاری زکاۃ واجب ہو جائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7618]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
1598. -- باب: زكاة الدين إذا كان على ملي موفى
-- باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی مالدار اور حق ادا کرنے والے کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7619
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" زَكِّهِ" يَعْنِي الدَّيْنَ إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُلَاءِ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زکاۃ ادا کرو یعنی قرض کی جب وہ مالدار (ادائیگی کی قدرت رکھنے والے) لوگوں کے پاس ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7619]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7620
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَا:" مَنْ أَسْلَفَ مَالًا فَعَلَيْهِ زَكَاتُهُ فِي كُلِّ عَامٍ إِذَا كَانَ فِي ثِقَةٍ".
لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے تھے: جس نے مال ادھار دیا اس پر ہر سال اس کی زکاۃ ہے جب وہ کسی قابلِ اعتماد شخص کے پاس ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7620]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7621
وَرُوِّينَا عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ زَكَاةِ مَالِ الْغَائِبِ، فَقَالَ:" أَدِّ عَنِ الْغَائِبِ مِنَ الْمَالِ كَمَا تُؤَدِّي عَنِ الشَّاهِدِ"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِذًا يَهْلِكُ الْمَالُ، فَقَالَ:" هَلَاكُ الْمَالِ خَيْرٌ مِنْ هَلَاكِ الدَّيْنِ". وَهَذَا فِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ ثَوْرٍ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے غائب مال کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنے غائب مال کی زکوٰۃ ادا کرو، جیسے موجودہ مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو، تو ان سے اس شخص نے کہا: جب مال برباد ہو جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: تو دین کے برباد ہونے سے مال کا برباد ہونا بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7621]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7622
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَسْلِفُ أَمْوَالَ يَتَامَى مِنْ عِنْدِهِ؛ لِأَنَّهُ كَانَ يَرَى أَنَّهُ أَحْرَزُ لَهُ مِنَ الْوَضْعِ، قَالَ: وَكَانَ يُؤَدِّي زَكَاتَهُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِثْلَ قَوْلِ هَؤُلَاءِ ثُمَّ عَنِ الْحَسَنِ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَالزُّهْرِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ.
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یتیموں کا مال قرض پر لیتے تھے، کیونکہ وہ اسے رکھے رہنے سے زیادہ محفوظ سمجھتے تھے اور ان کے اموال کی زکوۃ ادا کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
1599. -- باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد.
-- باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7623
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ الظَّنُونُ، قَالَ:" يُزَكِّيهِ لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا". حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَوْلُهُ: الظَّنُونُ: هُوَ الَّذِي لَا يَدْرِي صَاحِبُهُ أَيَقْضِيهِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَمْ لَا، كَأَنَّهُ الَّذِي لَا يَرْجُوهُ.
علی بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبید رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی جو انہوں نے ایسے شخص کے متعلق بیان کی جس کا کسی پر ایسا قرض ہو جس کی وصولی مشکوک ہو تو انہوں نے کہا: اگر وہ سچا ہے تو جب اس کے قبضے میں مال آئے گا، تب گزشتہ (سالوں) کی زکاۃ ادا کرے گا۔
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں قرض خواہ جانتا نہیں کہ مقروض اسے ادا کرے گا یا نہیں، گویا کہ وہ اس سے ناامید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7623]
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں قرض خواہ جانتا نہیں کہ مقروض اسے ادا کرے گا یا نہیں، گویا کہ وہ اس سے ناامید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره ابو عبيد»
الحكم على الحديث: صحيح