🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1605. -- باب: من قال: المعدن ركاز فيه الخمس.
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز ہے، جس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7642
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ الْمَعْدِنَ بِمَنْزِلَةِ الرِّكَازِ فِيهِ الْخُمُسُ. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، مَكْحُولٌ لَمْ يُدْرِكْ زَمَانَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے «مَعَادِن» کو «رِكَاز» کے برابر کیا اور فرمایا: اس میں بھی خمس ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، مکحول نے عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7642]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ لانقطاع»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1606. -- باب: من قال: لا شيء في المعدن حتى يبلغ نصابا
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان میں اس وقت تک کچھ واجب نہیں جب تک وہ نصاب کو نہ پہنچ جائے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ بَيْضَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَبْتُ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنِي فَخُذْهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهَا ⦗٢٦٠⦘ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَذَفَهُ بِهَا فَلَوْ أَصَابَتْهُ لَأَوْجَعَتْهُ أَوْ لَعَقَرَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدُكُمْ بِمَا يَمْلِكُ فَيَقُولُ هَذِهِ صَدَقَةٌ ثُمَّ يَقْعُدُ يَسْتَكِفُّ النَّاسَ، خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غَنِيًّ". وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا امْتَنَعَ مِنْ أَخْذِ الْوَاجِبِ مِنْهَا لِكَوْنِهَا نَاقِصَةً عَنِ النِّصَابِ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَقَدْ مَضَتِ الْأَحَادِيثُ فِي نِصَابِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی انڈے کی مانند سونا لایا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ میں نے معدن (کان) سے حاصل کیا ہے، یہ لے لیں یہ صدقہ ہے، اس کے علاوہ میں کسی چیز کا مالک نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب سے آیا اور اس نے ایسے ہی کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، پھر وہ بائیں جانب سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کر لیا۔ پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اسے دے مارا، اگر اسے لگ جاتا تو اسے بہت تکلیف ہوتی یا اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس ایک ایسا شخص چیز لاتا ہے کہ وہی چیز اس کی مالیت ہے، پھر وہ کہتا ہے کہ یہ صدقہ ہے، پھر وہ بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی مال دار ہو محتاج نہ ہو۔“
اس سے یہ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب کے لینے سے منع کیا ہو نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے اور دوسرا بھی احتمال ہے اور سونے چاندی کے نصاب والی احادیث گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7643]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1607. -- باب: من قال: لا شيء فيه حتى يحول عليه الحول من يوم استفاده
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”اس میں اس وقت تک کچھ واجب نہیں جب تک اس کے حاصل ہونے کے دن سے اس پر سال نہ گزر جائے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7644
قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ أَخْبَرَنَاهُ مَوْصُولًا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ بِخَمْسَةِ أَوَاقٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ هَذَا مِنْ مَعْدِنٍ فَخُذْ مِنْهُ الزَّكَاةَ قَالَ:" لَا شَيْءَ فِيهِ" وَرَدَّهُ إِلَيْهِ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ خَبَرًا عَنْ قِصَّةٍ وَاحِدَةٍ إِلَّا أَنَّ جَابِرًا لَمْ يَذْكُرِ الْمِقْدَارَ وَذَكَرَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْحَدِيثَانِ مُتَّفِقَانِ فِي أَنَّهُ لَمْ يَرَ فِيهِ شَيْئًا فِي الْحَالِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانچ اوقیہ لے کر آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ میں نے کان سے حاصل کیا ہے، اس میں سے زکاۃ وصول کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کچھ نہیں“ اور واپس لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7644]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1608. -- باب: زكاة الركاز.
-- باب: رکاز (دفن شدہ خزانے) کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7645
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَاهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے اور کان بھی رائیگاں ہے اور رکاز (مدفون خزانے) میں خمس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7645]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7646
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے ہمیں خبر دی اور ایسی ہی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7646]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7647
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنِ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے (مالک پر جرمانہ نہیں) اور کنواں رائیگاں ہے اور معدن رائیگاں ہے اور رکاز (مدفون خزانے) میں خمس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7647]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7648
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ:" إِنْ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ أَوْ سَبِيلٍ مِئْتَاءٍ فَعَرِّفْهُ وَإِنْ وَجَدْتَهُ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ أَوْ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنز (خزانے) کے بارے میں، جسے لوگ پرانے مکانات سے حاصل کرتے ہیں، فرمایا: ”اگر تو وہ آباد گھر سے ملا ہے یا آباد راستے سے تو اس کا اعلان کرے اور اگر اس نے جاہلیت کے پرانے مکان یا بے آباد بستی سے حاصل کیا ہے تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7648]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الشافعي»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7649
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا خَرِبَةً يَقْضِي فِيهَا حَاجَتَهُ، فَذَهَبَ لِيَتَنَاوَلَ مِنْهَا لَبِنَةً فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا فَأَخَذَهَا فَأَتَى ⦗٢٦٢⦘ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" زِنْهَا" فَوَزَنَهَا فَإِذَا هِيَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا رِكَازٌ وَفِيهِ الْخُمُسُ". عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لیے ویران جگہ میں داخل ہوا تو اسے سونے کی ایک گٹھلی نظر آئی۔ وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا وزن کرو۔“ وزن کیا گیا تو وہ دو سو درہم تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رکاز ہے اس میں خمس ہے۔“
عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7649]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرِّكَازِ:" إِنَّمَا هُوَ دَفْنُ الْجَاهِلِيَّةِ مَا لَمْ يُطْلَبْ بِمَالٍ وَلَمْ يُكَلَّفْ فِيهِ كَبِيرُ عَملٍ، فَأَمَّا مَا طُلِبَ بِمَالٍ أَوْ كُلِّفَ فِيهِ كَبِيرُ عَمَلٍ فَأُصِيبَ مَرَّةً وَأُخْطِئَ مَرَّةً فَلَيْسَ بِرِكَازٍ" وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي". وَسَقَطَ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِي.
ابن بکیر رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ علما کو یہ بات کرتے سنا کہ «الرِّکَازُ» جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے، جسے مال خرچ کر کے تلاش نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس میں کوئی بڑی محنت کرنی پڑی ہو۔ لیکن جسے مال خرچ کر کے تلاش کیا گیا یا اس میں بڑی محنت کرنی پڑی، تو کبھی وہ مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، تو وہ رکاز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7650]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الموطاً»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1609. -- باب: من أجرى بالخمس الواجب فيه مجرى الصدقات فقد سماه المقداد بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم صدقة ولم ينكره.
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے رکاز میں واجب ہونے والے خمس کو زکوٰۃ کے قائم مقام قرار دیا، یقیناً مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے اسے صدقہ (زکوٰۃ) کا نام دیا تھا اور آپ ﷺ نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، وَقَالَ لَهُ: خُذْ صَدَقَتَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ؟" قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا".
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اپنی حاجت کے لیے بقیع گئے تو انہوں نے ایک چوہے کو دیکھا جو بل میں سے دینار نکال رہا تھا، پھر وہ ایک ایک کر کے دینار نکالتا رہا حتیٰ کہ اس نے سترہ دینار نکالے۔ پھر ایک سرخ کپڑے کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک دینار تھا تو وہ اٹھارہ دینار ہو گئے۔ وہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوری خبر دی اور کہا: اس کی زکوٰۃ لے لیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے بل کی طرف جھک کر دیکھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا» ”اللہ تجھے ان میں برکت دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7651]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں