السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1634. -- باب: وقت إخراج زكاة الفطر.
-- باب: زکوٰۃ الفطر نکالنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7740
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" تَصَدَّقُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: ١٥] ، وَقُولُوا كَمَا قَالَ أَبُوكُمْ: {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [الأعراف: ٢٣] . وَقُولُوا كَمَا قَالَ نُوحٌ: {وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [هود: ٤٧] ، وَقُولُوا كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ: {وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ} [الشعراء: ٨٢] وَقُولُوا كَمَا قَالَ مُوسَى: {رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [القصص: ١٦] وَقُولُوا كَمَا قَالَ ذُو النُّونِ: {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ} [الأنبياء: ٨٧] " وَأْرَاهُ كَتَبَ" مَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَلْيَصُمْ يُرِيدُ وَاللهُ أَعْلَمُ بَعْدَ الْعِيدِ".
جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ نمازِ عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو۔ ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ * وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ﴾ [سورة الأعلى: 14-15] اور تم اسی طرح کہو جیسے تمہارے والد نے کہا ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [سورة الأعراف: 23] اور تم کہو جیسے نوح علیہ السلام نے کہا ﴿وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [سورة هود: 47] اور ایسے کہو جیسے ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا ﴿وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ﴾ [سورة الشعراء: 82] اور ایسے کہو جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا ﴿رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ [سورة القصص: 16] اور ایسے کہو جیسے یونس علیہ السلام نے کہا ﴿لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة الأنبياء: 87] میرا خیال ہے کہ انہوں نے لکھا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ فطر دینے کے لیے کچھ نہیں تو وہ عید کے بعد روزہ رکھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7740]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
1635. جماع أبواب صدقة التطوع. -- باب: التحريض على الصدقة وإن قلت.
نفلی صدقات کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: صدقہ کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان، خواہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7741
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمُ الْعَبَاءُ أَوْ قَالَ: مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ لِمَا يَرَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَخَطَبَ، ثُمَّ قَالَ: {" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ"} [النساء: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ: {" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ"} [الحشر: ١٨] الْآيَةَ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ" حَتَّى قَالَ:" وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ قَدْ كَادَتْ كَفُّهُ أَنْ تَعْجِزُ عَنْهَا، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ عَنْهَا فَدَفَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِي الصَّدَقَاتِ فَرَأَيْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ وَجَعَلَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، وَقَالَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ ⦗٢٩٤⦘ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَحَدِيثُ النَّضْرِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ: عَلَيْهِمُ الْعَبَاءُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ایک ایسی قوم آئی جو ننگے بدن اور ننگے پاؤں تھی، وہ چادریں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے، ان میں سے اکثر بلکہ وہ سب کے سب قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ ان کی فاقہ زدہ حالت دیکھ کر وہ متغیر (تبدیل) ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر) داخل ہوئے، پھر باہر تشریف لائے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا (تو انہوں نے اذان دی) اور اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ظہر کی) نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] اس آیت کو آخر تک تلاوت کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص نے اپنے دینار سے صدقہ کیا، کسی نے اپنے درہم سے، کسی نے اپنے کپڑے سے، کسی نے گندم کے ایک صاع سے اور کسی نے کھجور کے ایک صاع سے صدقہ کیا“ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لے کر آیا، قریب تھا کہ اس کا ہاتھ اسے اٹھانے سے عاجز آ جاتا، بلکہ وہ عاجز آ چکا تھا، وہ تھیلی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی، پھر لوگوں نے صدقات دینے میں اس کی اتباع کی، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ (غلے اور کپڑے کے) دو ڈھیر لگ چکے تھے اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سونے کی طرح چمک رہا تھا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا بھی، بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کمی کی جائے۔“
نضر کی حدیث بھی اسی معنیٰ میں ہے، مگر نضر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان پر عباء تھی، امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن مثنیٰ کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ دھاری دار چادریں یا پھر عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7741]
نضر کی حدیث بھی اسی معنیٰ میں ہے، مگر نضر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان پر عباء تھی، امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن مثنیٰ کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ دھاری دار چادریں یا پھر عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7741]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
1636. -- باب: الاختيار في صدقة التطوع
-- باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَندَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ آزُرٌ وَلَا شَيْءَ غَيْرَهَا، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالْعُرَى وَالْجُوعِ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَهُ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {رَقِيبًا} [النساء: ١] {اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} [الحشر: ١٨] إِلَى قَوْلِهِ: {هُمُ الْفَائِزُونَ} [الحشر: ٢٠] تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ لَا تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ بُرِّهِ، مِنْ شَعِيرِهِ، وَلَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ فِي كَفِّهِ، فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِهِ، فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ". فَقَامَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا فَمِنْ ذِي دِينَارٍ، وَمِنْ ذِي دِرْهَمٍ، وَمِنْ ذِي وَمِنْ ذِي، قَالَ: فَاجْتَمَعَ فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ وَغَيْرِهِ.
سیدنا منذر بن جریر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم آئی جو چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر چادریں نہیں تھیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تنگدستی کو اور بھوک و افلاس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور منبر بھی چھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] ﴿رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] تک تلاوت کیا اور ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] کو ﴿الْفَائِزُونَ﴾ [سورة الحشر: 20] تک پڑھا“ اور فرمایا: ”اس دن سے پہلے پہلے صدقہ کرو، جب تم صدقہ نہ کر پاؤ گے۔ صدقہ و خیرات کرو اس سے پہلے کہ وہ تمہارے اور صدقے کے درمیان حائل ہو جائے۔ آدمی اپنے دینار سے صدقہ کرے، اپنے درہم سے، اپنی گندم سے اور اپنے جو سے، اور تم میں سے کوئی صدقے کی کسی چیز کو ہرگز حقیر نہ سمجھے، اگرچہ آدھی کھجور ہی ہو۔“ ایک انصاری ایک تھیلی لے کر کھڑا ہوا جو اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا ہوا تھا اور خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے اچھی روایت قائم کی اور اس پر عمل بھی کیا گیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان کے اجر کے برابر بھی جتنوں نے وہ عمل کیا ان کے اجر میں کمی کیے بغیر اور جس کسی نے بری روایت ڈالی اور اس کے مطابق عمل کیا گیا تو اس کے لیے اس کا گناہ ہو گا اور ان کا بھی جنہوں نے وہ گناہ کیا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا“۔ پھر لوگ کھڑے ہو گئے اور بکھر گئے، سو جو کوئی درہم و دینار یا جس چیز کا مالک تھا انہوں نے جمع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7742]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7743
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ قَرَأْتُ عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: اتَّقُوا اللهَ، وَاعْمَلُوا خَيْرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْقِلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". ⦗٢٩٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7743]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَاجِبٌ وَلَا تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ وَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کلام کریں گے اور درمیان میں کوئی پردہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ سو وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے کوئی چیز دکھائی نہیں دے گی مگر وہی جو اس نے آگے بھیجی ہوگی۔ پھر بائیں دیکھے گا تو اس کے سوا کچھ نہیں پائے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا، لہٰذا تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7744]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7745
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، وَذَكَرَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ. قَالَ شُعْبَةُ: أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلَا شَكَّ ثُمَّ قَالَ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا تذکرہ کیا اور اس سے پناہ مانگی اور اپنے چہرے کو پھیرا، پھر آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے پناہ مانگی اور چہرے کو پھیرا، شعبہ کہتے ہیں: دو مرتبہ میں تو کوئی شک نہیں۔ پھر فرمایا: ”آگ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو، اگر تم یہ بھی نہیں پاتے تو اچھی بات کے ذریعے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7746
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا طَيِّبٌ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ دِينَارٍ فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھجور کے برابر پاکیزہ کمائی سے صدقہ کیا، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ چیز ہی چڑھتی ہے، تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور اس کے صاحب کے لیے اسے پروان چڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پروان چڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7746]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٩٦⦘ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن دوسری کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7747]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري
حدیث نمبر: 7748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ:" كُنَّا نَتَحَامَلُ فَيَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ فَيُقَالُ: هَذَا مُرَائِي، وَيَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ، فَيُقَالُ: إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ هَذَا فَنَزَلَتْ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: ٧٩] إِلَى {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [التوبة: ٧٩] لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَامَلُ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی بڑا صدقہ کیا کرتا تو اسے کہا جاتا کہ یہ دکھاوے کی غرض سے کرتا ہے، اور اگر کوئی آدھا صاع صدقہ کرتا تو اسے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ تیرے صدقے سے بے نیاز ہے، تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ﴾ سے ﴿عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 79] تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7748]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7749
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْحَارِثِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ حوَّاءَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ".
محمد بن بجید انصاری رحمہ اللہ اپنی دادی حواء رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کو عطا کرو اگرچہ جلی ہوئی کھری ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح