السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1640. -- باب: ما يستدل به على أن قوله صلى الله عليه وسلم: " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى " وقوله حين سئل عن أفضل الصدقة: " جهد من مقل " إنما يختلف باختلاف أحوال الناس في الصبر على الشدة والفاقة والاكتفاء بأقل الكفاية، وبالله التوفيق
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں ہو“
حدیث نمبر: 7779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ:" رَجُلٌ كَانَ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عَرْضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ" يَعْنِي فَتَصَدَّقَ بِهَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک درہم ایک لاکھ درہم سے کیسے سبقت لے گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کے پاس صرف دو درہم تھے، اس نے ان میں سے ایک درہم کا صدقہ کر دیا، جبکہ دوسرا وہ شخص تھا جس کے پاس بہت زیادہ مال تھا، اس نے اپنے کثیر مال میں سے ایک لاکھ درہم لیے اور انہیں صدقہ کر دیا (تو پہلا شخص سبقت لے گیا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7779]
تخریج الحدیث: «منكر الاسنا د۔ اخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: منكر الاسنا د
حدیث نمبر: 7780
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: لِي مِائَةُ أُوقِيَّةٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَةِ أَوَاقٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، وَقَالَ الثَّالِثُ: لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ بِدِينَارٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِعُشْرِ مَالِهِ، كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس سو اوقیہ ہیں، میں نے دس اوقیہ کا صدقہ کر دیا، دوسرے نے کہا: میرے پاس سو دینار ہیں، میں نے دس دینار صدقہ کر دیے اور تیسرے نے کہا: میرے پاس دس دینار ہیں، میں نے ایک دینار کا صدقہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کے دسویں حصے کا صدقہ کیا ہے اور تم سب اجر میں برابر ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7780]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1641. -- باب: كراهية إمساك الفضل وغيره محتاج إليه
-- باب: ضرورت سے زائد مال کو روک کر رکھنے کی کراہت کا بیان جب کہ کوئی دوسرا اس کا محتاج ہو۔
حدیث نمبر: 7781
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَفِي رِوَايَةِ الْجَهْضَمِيِّ: شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
شداد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابنِ آدم! اگر تو اپنا بچا ہوا (زائد مال) خرچ کر دے تو تیرے لیے بہتر ہے، اگر تو اسے روک رکھے تو تیرے لیے برا ہے، اور کفایت (بقدرِ ضرورت مال پاس رکھنے) پر تجھے ملامت نہیں کی جائے گی، اور (صدقہ و خیرات کا) آغاز اپنے اہل سے کرو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو الْفَضْلِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْأَيْلِيُّ، حدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ ⦗٣٠٦⦘ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ" قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اچانک ایک آدمی اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس اضافی سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس اضافی زادِ راہ ہو وہ اسے دے، جس کے پاس زادِ راہ نہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی کچھ اقسام بیان کیں، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ بچے ہوئے پر ہمارا کوئی حق نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7782]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7783
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، وَمَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُطْعِمِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طُوبَى لِمَنْ تَوَاضَعَ مِنْ غَيْرِ مَنْقَصَةٍ، وَذَلَّ فِي نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ مَسْكَنَةٍ، وَأَنْفَقَ مَالًا جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَرَحِمَ أَهْلَ الذِّلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ وَالْحِكْمَةِ، طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَصَلُحَتْ سَرِيرَتُهُ، وَحَسُنَتْ عَلَانِيَتُهُ، وَعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ، طُوبَى لِمَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ، وَأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ".
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خوشخبری ہو جس نے تواضع کی بغیر کسی کمی کے اور جس نے مسکین ہوئے بغیر اپنے آپ کو کم تر جانا اور جس نے وہ مال خرچ کیا جو بغیر نافرمانی کے جمع کیا تھا اور جس نے مسکینوں اور محتاجوں پر رحم کیا اور جو کوئی سمجھدار اور دانا لوگوں سے مل گیا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے آپ کو کم تر حقیر جانا اور پاکیزہ کمایا اور اپنے باطن کو درست کیا اور اپنے ظاہر کو اچھا کیا اور لوگوں کو اپنے شر سے دور رکھا۔ خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنے بچے ہوئے مال کو خرچ کیا اور اپنی زائد باتوں کو روک رکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7783]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7784
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا آدَمُ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْمُطْعِمِ بْنِ مِقْدَامٍ، وَعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ نَصِيحٍ، عَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ:" طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَطَابَ كَسْبُهُ، وَقَالَ طُوبَى لِمَنْ حَسُنَتْ سَرِيرَتُهُ، وَكَرُمَتْ عَلَانِيَتُهُ".
سیدنا رکب مصری رضی اللہ عنہ وہی حدیث بیان کرتے ہیں، مگر انہوں نے اس قول کا تذکرہ نہیں کیا کہ ”بشارت ہو اس کو جس نے اپنے آپ کو حقیر جانا اور عمدہ کمایا“ اور فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم کہ ”خوشخبری ہو اسے جس نے اپنے باطن کو صاف کیا اور اپنے ظاہر کو عمدہ بنایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7784]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف
1642. -- باب: ما ورد في حقوق المال
-- باب: مال کے حقوق کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفَةِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا، لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَمَنِيحَتِهَا، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَحَمَلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زِكْوَتَهَ إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ، وَيُقَالُ: هَذَا مَالِكٌ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ:" حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا، وَمَنِيحَتِهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ" ⦗٣٠٧⦘.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی اونٹوں والا اور نہ بکریوں والا اور نہ گائے والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر اسے قیامت کے دن ایک میدان میں بٹھایا جائے گا۔ پھر اسے کھروں والے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں والے اپنے سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن کوئی جانور گنجا نہیں ہوگا اور نہ ہی ٹوٹے سینگوں والا۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کا کیا حق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سانڈ کو (جفتی کے لیے) عاریتاً دینا، اس کا ڈول عاریت پر دینا، اسے دودھ کے لیے عاریتاً دینا، پانی پر اسے دوہنا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار کرانا اور آدمی اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن بڑے اژدھا میں تبدیل کر دیا جائے گا جو اپنے مال دار مالک کا پیچھا کرے گا وہ جہاں بھی چلا جائے اور وہ اس سے بھاگے گا اور اسے کہا جائے گا: تیرا مال یہ ہے جس کی وجہ سے تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تب اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈالے گا تو وہ اسے نگلنا شروع کر دے گا جیسے جانور چباتا ہے۔“
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اونٹ کا کیا حق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی پر دوہنا، اس کا ڈول عاریت پر دینا اور اس کے سانڈ کو عاریت پر دینا، اسے دودھ کے لیے عاریتاً دینا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار کرانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7785]
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اونٹ کا کیا حق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی پر دوہنا، اس کا ڈول عاریت پر دینا اور اس کے سانڈ کو عاریت پر دینا، اسے دودھ کے لیے عاریتاً دینا اور اللہ کی راہ میں اس پر سوار کرانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7785]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7786
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعَةٌ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مُسْنَدَةٌ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابو الزبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔۔۔ (آگے پوری حدیث بیان کی)۔
ابو الزبیر کی عبید بن عمیر کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت منقطع ہے اور ان کی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت مسند (متصل) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7786]
ابو الزبیر کی عبید بن عمیر کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت منقطع ہے اور ان کی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت مسند (متصل) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7786]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ:" وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُعْطِي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا وَهِيَ تُجْمَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ آخِرُهَا رَجَعَ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَرَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا"، وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّفْظَ فِي الْحَلْبِ، وَرَوَاهُ أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ فِيمَنْ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: تُعْطِي الْكَرِيمَةَ، وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ، وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ، وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ، وَتَسْقِي اللَّبَنَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ ”نہیں کوئی اونٹ والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، اس کے دوہنے کا حق وارد ہونے کے وقت، مگر یہ قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے، ان میں سے ایک بچہ بھی گم نہیں ہوگا۔ پھر اسے صاف میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اپنے ناخنوں سے اسے روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے، جب اس پر آخری گزرے گا تو پہلا پلٹ آئے گا۔ یہ ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دیکھ لے۔“ آگے مکمل حدیث ذکر کی۔
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے یہ حدیث روایت کی تو اس میں کہا: کوئی بھی اونٹوں والا جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، مگر (حلب) یعنی دوہنے کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ نیز ابو عمر غدانی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہیں معانی میں حدیث بیان کی ”جو اس کا حق ادا نہیں کرتا“ تو کہا گیا: اے ابوہریرہ! یہ اونٹ کا حق کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: عمدہ اونٹ دینا، زیادہ دودھ والی اونٹنی عاریتاً دینا، اس کی پیٹھ سواری کے لیے عاریتاً دینا، سانڈ کو (جفتی کے لیے) دینا اور دودھ پلانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7787]
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے یہ حدیث روایت کی تو اس میں کہا: کوئی بھی اونٹوں والا جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، مگر (حلب) یعنی دوہنے کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ نیز ابو عمر غدانی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہیں معانی میں حدیث بیان کی ”جو اس کا حق ادا نہیں کرتا“ تو کہا گیا: اے ابوہریرہ! یہ اونٹ کا حق کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: عمدہ اونٹ دینا، زیادہ دودھ والی اونٹنی عاریتاً دینا، اس کی پیٹھ سواری کے لیے عاریتاً دینا، سانڈ کو (جفتی کے لیے) دینا اور دودھ پلانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7787]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7788
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ وَاللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ إِلَّا مَا نَقَلْتُهُ مِنْ لَفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ قَدْ تُوهِمُ أَنَّ تَفْسِيرَ الْحَقِّ فِي رِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ كَمَا هُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ إِلَى أَنَّ وُجُوبَ الزَّكَاةِ نَسَخَ وَجُوبَ هَذِهِ الْحُقُوقِ سِوَى الزَّكَاةِ مَا لَمْ يُضْطَرَّ إِلَيْهِ غَيْرُهُ، وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى ذَلِكَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الزَّكَاةِ وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِي التَّحْرِيضِ عَلَى الْمَنِيحَةِ وَهِيَ مَحْمُولَةٌ عَلَى الِاسْتِحْبَابِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں، مگر اس کے الفاظ مختلف ہیں اور جو میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7788]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح