السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1741. -- باب: لا يصام يوم الفطر ولا يوم النحر ولا أيام منى فرضا ولا تطوعا
-- باب: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ایامِ منیٰ میں نہ فرض روزہ رکھا جائے گا اور نہ نفلی۔
حدیث نمبر: 8248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابنِ ازہر کے غلام ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کے موقع پر حاضر ہوا، وہ تشریف لائے اور نماز پڑھائی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”ان دونوں دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ دن تمہارا روزوں کی افطاری کا دن ہے اور دوسرا دن وہ ہے جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8249
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ".
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ان دو دن کے روزوں سے منع کیا، جو یوم الاضحی ہے، اس میں تم قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور جو یوم الفطر ہے، یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8249]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8250
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حَرَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمَا ⦗٤٣٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
حکیم بن ابی حرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نذر کے روزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک آدمی دن کا نام لے کر نذر مانتا ہے کہ فلاں دن نہیں آئے گا مگر میں روزے سے ہوں گا، تو وہ دن عید الاضحی کا ہوتا ہے یا عید الفطر کا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ﴿تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاضحی اور یوم الفطر کو روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8250]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8251
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى أَنَّهُ:" لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور اوس بن حدثان رضی اللہ عنہما کو ایام تشریق میں اعلان کے لیے بھیجا کہ ”سوائے مومن کے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور ایام منیٰ کھانے پینے کے ایام ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8251]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِكَ لِلْغَدِ أَوْ بَعْدِ الْغَدِ مَنْ يوْمِ الْأَضْحَى فَقَدَّمَ إِلَيْهِ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو:" أَفْطِرْ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا"، فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللهِ وَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ.
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا غلام بیان کرتا ہے کہ میں اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ بات عید الاضحی کے بعد پہلے یا دوسرے دن کی ہے، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو ان سے عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ”افطار کرو، یہ ان ایام میں سے ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے“، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہما نے افطار کر لیا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8252]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: صحيح
1742. -- باب: الإفطار بالطعام وبغير الطعام إذا ازدرده عامدا أو بالسعوط والاحتقان، وغير ذلك مما يدخل جوفه باختياره
-- باب: کھانے سے یا کھانے کے علاوہ کسی چیز کے ذریعے روزہ ٹوٹ جانے کا بیان جب اسے جان بوجھ کر نگل لے، یا ناک میں دوا ڈالنے، اور انیمہ (حقنہ) لینے سے، اور اس کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز سے جو اس کے اختیار سے اس کے پیٹ میں داخل ہو۔
حدیث نمبر: 8253
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْوُضُوءُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ الْأَعْمَشُ مَرَّةً: وَالْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا الْوُضُوءُ مِمَّا يَخْرُجُ وَلَيْسَ مِمَّا يَدْخُلُ، وَإِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ" وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ:" وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے سے وضو اور روزے دار کے پچھنے لگوانے کے بارے میں تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: بے شک وضو اس سے ہے جو چیز نکلتی ہے نہ کہ اس سے جو داخل ہوتی ہے اور اس سے ٹوٹتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے نہ کہ خارج ہوتی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8253]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور»
الحكم على الحديث: صحيح
1743. -- باب: الصائم يذوق شيئا
-- باب: روزے دار کے کوئی چیز چکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8254
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ يَتَطَاعَمَ الصَّائِمُ بِالشَّيْءِ"، يَعْنِي الْمَرَقَةَ وَنَحْوَهَا.
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر روزے دار کوئی چیز چکھتا ہے، یعنی سالن وغیرہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8254]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد»
الحكم على الحديث: ضعيف
1744. -- باب: الصائم يمضمض، أو يستنشق فيرفق ولا يبالغ، فإن بالغ حتى وصل إلى رأسه أو إلى جوفه أفطر
-- باب: روزے دار کلی کرے یا ناک میں پانی چڑھائے تو نرمی برتے اور مبالغہ نہ کرے، پس اگر اس نے مبالغہ کیا یہاں تک کہ پانی اس کے دماغ یا اس کے پیٹ تک پہنچ گیا تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حدیث نمبر: 8255
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِالْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ"، فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَفِيمَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے بوسہ لے لیا اور میں روزے سے تھا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: آج میں نے بہت بڑا کام کیا ہے کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ میں نے کہا: کوئی حرج نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس میں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8255]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8256
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلِّلْ أَصَابِعَكَ، وَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی انگلیوں کا خلال کر اور مکمل وضو کر، جب ناک جھاڑ تو اس میں مبالغہ کر مگر روزے کی حالت میں نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8256]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريحه»
الحكم على الحديث: صحيح
1745. -- الصائم يكتحل
-- روزہ دار کا سرمہ لگانا۔
حدیث نمبر: 8257
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ" وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثًا فِي هَذِهِ وَثَلَاثًا فِي هَذِهِ هَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي اكْتِحَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے لیے اثمد (سرمہ) لازم کرو، بیشک وہ بصارت کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“ ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات اپنی ہر آنکھ میں تین تین بار سرمہ لگاتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمہ لگانے کے بارے میں جو کچھ مروی ہے، یہ ان میں سب سے صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8257]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمہ لگانے کے بارے میں جو کچھ مروی ہے، یہ ان میں سب سے صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8257]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف