السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2033. -- باب: ما يحل بالتحلل الأول من محظورات الإحرام
-- باب: تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) سے احرام کی جو پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9600
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، وَأُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدُورُ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ لَيْلَةِ النَّحْرِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، وَرَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَضْتُمَا؟" قَالَا: لَا، قَالَ:" فَانْزِعَا قَمِيصَكُمَا" فَنَزَعَاهَا، فَقَالَ لَهُ وَهْبٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" هَذَا يَوْمٌ أُرَخِّصُ لَكُمْ فِيهِ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ وَنَحَرْتُمْ هَدْيًا إِنْ كَانَ لَكُمْ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ وَلَمْ تُفِيضُوا صِرْتُمْ حُرُمًا كَمَا كُنْتُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نحر والی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے پاس تھی تو میرے پاس وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور ابن امیہ کا ایک اور آدمی آیا، انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، ان دونوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی یہ قمیصیں اتار دو۔“ تو انہوں نے اتار دیں۔ وہب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے کہ جب تم رمی کر لو اور اگر قربانی ہے تو وہ بھی کر لو تو پھر تم ہر چیز سے حلال ہو جو تم پر حرام ہوئی تھی عورتوں کے علاوہ حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لو، تو جب شام ہو جائے اور تم نے افاضہ نہ کیا ہو تو تم پھر محرم بن جاؤ گے جیسے کہ تم پہلے تھے، حتیٰ کہ طوافِ افاضہ کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9600]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 1999۔ احمد 6/ 295۔ ابن خزيمه 2958»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلِيَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلِيَّ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ:" هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللهِ؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ" فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، قَالَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا" قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينِ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً أَوْ قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينِ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: خَيْرٌ يَا أُمَّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا رَخَّصَ ⦗٢٢٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَى أَيْدِينَا، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ الْإِسْنَادِ الثَّانِي، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الذَّبْحَ أَيْضًا.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یومِ نحر کی شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے گھر باری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کا ایک شخص قمیص پہنے ہوئے داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ”ابوعبداللہ! کیا تو نے افاضہ کر لیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دے۔“ تو اس نے سر کی جانب سے اتار دی اور اس کے ساتھی نے بھی۔ ان دونوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم رمیِ جمار کر لو تو ہر وہ چیز جو تم پر حرام تھی تمہارے لیے عورتوں کے سوا حلال ہو جائے گی۔ لیکن جب شام ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف ابھی تک نہ کیا ہو تو تم پہلے کی طرح پھر حرام ہو جاؤ گے، جس طرح تم رمیِ جمار کرنے سے پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف کر لو۔“
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9601]
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9601]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
2034. -- باب: التلبية حتى يرمي جمرة العقبة بأول حصاة ثم يقطع
-- باب: جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ پڑھنے اور پھر اسے روک دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَفِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، وَكَذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ.
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو رمی کی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9602]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9602]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1601»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9603
وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرِ بْنُ خُزَيْمَةَ، أنبأ جَدِّي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9603]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ ابن خزيمه 2886»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9604
وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ مَعَ آخِرِ حَصَاةٍ قَالَ الشَّيْخُ: تَكْبِيرُهُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ كَالدِّلَالَةِ عَلَى قَطْعِهِ التَّلْبِيَةَ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ، كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَوْلُهُ: يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ أَرَادَ بِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ، وَأَمَّا مَا فِي رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّيَادَةِ فَإِنَّهَا غَرِيبَةٌ أَوْرَدَهَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَاخْتَارَهَا وَلَيْسَتْ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا فضل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول: «يُلَبِّي» ”کہ وہ تلبیہ کہتے“ حتیٰ کہ رمی جمار کر لیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے: «حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ» ”حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی شروع کر دی“
اور باقی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے، پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9604]
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول: «يُلَبِّي» ”کہ وہ تلبیہ کہتے“ حتیٰ کہ رمی جمار کر لیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے: «حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ» ”حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی شروع کر دی“
اور باقی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے، پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي 3079۔ بزار: 2142»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9605
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مِسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلِيَّ، فَقَالَ:" جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ" وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَى هَذَا مُخْتَصَرًا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر دیہاتیوں جیسی جھلک تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انہوں نے کہا: اے اعرابی! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے، تو اس وقت انہوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا: لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9605]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه 2806۔ حاكم 1/ 632»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا قَذَفَهَا أَمْسَكَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقَالَ:" رَأَيْتُ أَبِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹا تو میں انہیں تلبیہ کہتے ہوئے ہی سنتا رہا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب اس کی طرف پتھر پھینکا تو خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کو جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9606]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 1/ 114۔ ابو يعلي 321۔ ابن ابي شيبه 13987»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ قَدْ مَضَى ذِكْرُ ذَلِكَ.
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ ہم صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے نقل کرچکے ہیں اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9607]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2035. -- باب: النزول بمنى
-- باب: منیٰ میں پڑاؤ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9608
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَأَنْزَلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ:" لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا" وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ" وَالْأَنْصَارُ هَا هُنَا" وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ" ثُمَّ يَنْزِلُ النَّاسُ حَوْلَهُمْ" كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي عَنْ رَجُلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ، وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا وَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:" بِحَصَى الْخَذْفِ" ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا مُقَدَّمَ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ أَنْ يَنْزِلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ النَّاسُ بَعْدُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَارِثِ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ وَزَعَمُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ لَمْ يُدْرِكْهُ، وَأَنَّ رِوَايَتَهُ عَنْهُ مُرْسَلَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى يَسَارِ مُصَلَّى الْإِمَامِ بِمِنًى.
(الف) عبدالرحمن بن معاذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے منیٰ میں خطاب فرمایا اور ان کو ان کی جگہوں پر اتارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر یہاں پڑاؤ کریں“ اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ کیا اور فرمایا: ”اور انصار یہاں“ اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ کیا، پھر لوگ ان کے اردگرد اترے۔
اس روایت کو اسی طرح میں نے اپنی کتاب میں «عَنْ رَجُلٍ» ہی پایا ہے۔
(ب) امام ابوداود رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی، عبدالرحمن بن معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جب کہ ہم منیٰ میں تھے، ہماری سماعت تیز ہوگئی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہم (صحیح صحیح) سن رہے تھے، حالاں کہ ہم اپنی اپنی جگہوں (مقامات) پر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ان کے حج کے طریقے سکھا رہے تھے حتیٰ کہ جمرہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو رکھا، پھر فرمایا: ”ٹھیکری جیسی (چھوٹی) کنکریوں کے ساتھ“، پھر مہاجرین کو حکم دیا تو وہ مسجد کے سامنے والے حصے میں اترے اور انصار کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی پچھلی طرف اتریں، فرماتے ہیں کہ پھر اس کے بعد باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔
یہی صحیح ہے، عبدالرحمن بن معاذ صحابی ہیں، اور لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد بن ابراہیم تیمی نے ان کو نہیں پایا اور ان سے ان کی روایت مرسل ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9608]
اس روایت کو اسی طرح میں نے اپنی کتاب میں «عَنْ رَجُلٍ» ہی پایا ہے۔
(ب) امام ابوداود رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی، عبدالرحمن بن معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جب کہ ہم منیٰ میں تھے، ہماری سماعت تیز ہوگئی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہم (صحیح صحیح) سن رہے تھے، حالاں کہ ہم اپنی اپنی جگہوں (مقامات) پر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ان کے حج کے طریقے سکھا رہے تھے حتیٰ کہ جمرہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو رکھا، پھر فرمایا: ”ٹھیکری جیسی (چھوٹی) کنکریوں کے ساتھ“، پھر مہاجرین کو حکم دیا تو وہ مسجد کے سامنے والے حصے میں اترے اور انصار کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی پچھلی طرف اتریں، فرماتے ہیں کہ پھر اس کے بعد باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔
یہی صحیح ہے، عبدالرحمن بن معاذ صحابی ہیں، اور لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد بن ابراہیم تیمی نے ان کو نہیں پایا اور ان سے ان کی روایت مرسل ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1951۔ احمد 4/ 161»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بِنَاءً يُظِلُّكَ؟، قَالَ:" لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منیٰ میں عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! منیٰ ہر اس کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9609]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 3019»
الحكم على الحديث: ضعيف