🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2095. -- باب:: هل لمن أصاب الصيد أن يفديه بغير النعم؟
-- باب: کیا جس نے شکار مارا ہو وہ چوپایوں کے علاوہ کسی اور چیز سے اس کا فدیہ دے سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ سِتَّةَ مَسَاكِينَ".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو قربانی کرو، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو اور اگر چاہو تو چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9895]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2096. -- باب: تعديل صيام يوم بإطعام مسكين وذلك مد بمد النبي صلى الله عليه وسلم
-- باب: ایک دن کے روزے کو ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے برابر قرار دینے کا بیان، اور یہ نبی ﷺ کے مد کے حساب سے ایک مد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنَجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: مَا أَجِدُهَا، ⦗٣٠٤⦘ قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، فَقَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَأَطْعِمْ أَهْلَكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو برباد ہو، کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں رمضان المبارک میں اپنی بیوی سے مجامعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس غلام موجود نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ وہ کہنے لگا: میں نہیں پاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اپنے گھر والوں سے غریب لوگوں پر! اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ غریب کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9896]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5812»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9897
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَاسِبُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِقْلٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً" قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَ: مَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ، قَالَ:" خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنْبَيِ الْمَدِينَةِ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَسْنَانُهُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللهَ رَبَّكَ" وَقَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: فَأُتِيَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ غَيْرُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَقَالَ الْهِقْلُ: بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ دُحَيْمٌ:" وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ، عَنِ ابْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَى قَوْلِهِ: مَا بَيْنَ طُنْبَيِ الْمَدِينَةِ، لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! تو نے کیا کیا ہے؟“ کہنے لگا: رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک گردن یعنی غلام آزاد کرو۔“ کہنے لگا: میں پاتا نہیں ہوں۔ فرمایا: ”دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھو۔“ کہنے لگا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے گھر والوں کے علاوہ دوسروں پر، اللہ کی قسم! مدینہ میں مجھ سے زیادہ فقیر کوئی نہیں اور عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ فقیر اور ضرورت مند کوئی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر فرمایا: ”لو اور اللہ سے استغفار کرو۔“ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔
ہقل کہتے ہیں: اس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ دحیم نے کہا: تجھ پر افسوس! وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ماہ رمضان میں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر چکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9897]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5812»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2097. -- باب: من عدل صيام يوم بمدين من طعام
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے ایک دن کے روزے کو کھانے کے دو مد کے برابر قرار دیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9898
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَكَرِيَّا الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} [المائدة: ٩٥] قَالَ:" إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ ذَبَحَهُ وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ قُوِّمَ جَزَاؤُهُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا، وَإِنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامُ أَنَّهُ إِذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَاءَهُ".
مقسم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ [سورة المائدة: 95] کے متعلق روایت کی: ”پس بدلہ ہے اسی کے مانند جو اس نے چوپایوں میں سے شکار کو قتل کیا ہے۔“
جب محرم آدمی شکار کر لے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہموں میں اس کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزے کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9898]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 13360»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9899
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِي الَّذِي يُصِيبُ الصَّيْدَ لَا يَكُونُ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ، قَالَ:" يُقَوَّمُ الصَّيْدُ دَرَاهِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا فَيَصُومُ لِكُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا" قَالَ شُعْبَةُ: وَقَالَ لِي أَبَانُ، وَأَبُو مَرْيَمَ: إِنَّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَعْنِي أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ، كَذَا فِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ يُقَوَّمُ الصَّيْدُ، وَفِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ يُقَوَّمُ الْجَزَاءُ، وَمَنْصُورٌ أَحْسَنُهُمَا سِيَاقَةً لِلْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ عَدَلَ فِي الْجَزَاءِ إِذَا كَانَتْ شَاةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ بَدَنَةً أَوْ بَقَرَةً صِيَامَ يَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ، وَقَالَ: مُدٌّ مُدٌّ.
حَکَم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مِقْسَم رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کر لیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا «مِثْل» کی قیمت لگائی جائے۔
(د) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو «مِثْل» کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض۔ فرماتے ہیں: وہ «مُدّ»، «مُدّ» ہوا کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9899]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 155»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9900
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي ⦗٣٠٥⦘ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَيْئًا مِنَ الصَّيْدِ حُكِمَ عَلَيْهِ فِيهِ، فَإِنْ قَتَلَ ظَبْيًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ شَاةٌ تُذْبَحُ بِمَكَّةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَإِنْ قَتَلَ أَيْلًا أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَقَرَةٌ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ عِشْرِينَ يَوْمًا، وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَةً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَهُ فَعَلَيْهِ بَدَنَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ أَطْعَمَ ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ صَامَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبَعَهُمْ" وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَمَا قَبْلَهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَهُ عَلَى التَّرْتِيبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
علی بن ابی طلحہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے، اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ہیں۔ اگر اس نے شتر مرغ یا جنگلی گدھے یا اس کی مثل چیز کو قتل کر دیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے، اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے، اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے، یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9900]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبري في تفسير 5/41»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2098. -- باب:: أين هدي الصيد وغيره
-- باب: شکار اور اس کے علاوہ کی قربانی کہاں کی جائے گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q9901
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} [المائدة: 95] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾ ”ایسی قربانی جو کعبہ تک پہنچنے والی ہو۔“ [سورة المائدة: 95] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9901]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُكْتِبُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى قَمْلَةً سَقَطَتْ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟" قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللهُ: {فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ} فَرَقٌ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ نُسُكُ شَاةٍ، وَالنُّسُكُ بِمَكَّةَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شِبْلٍ دُونَ قَوْلِهِ: وَالنُّسُكُ بِمَكَّةَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ جوئیں تجھے تکلیف دیتی ہیں؟“ کہنے لگے: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”سر منڈوا دو“ اور وہ حدیبیہ میں تھے اور وضاحت نہ کی گئی کہ وہ حلال ہیں، حالاں کہ وہ تو لالچ کیے بیٹھے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں۔ اللہ نے یہ آیت نازل کی: ﴿فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] کہ فدیہ روزے، صدقہ یا قربانی ہے ایک فرق چھ مسکینوں کے درمیان یا ایک بکری کی قربانی اور وہ مکہ میں ہو۔
(ب) شبل کی حدیث میں «النُّسُكُ بِمَكَّةَ» کے الفاظ موجود نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9901]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1722»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9902
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ مَرْوَانُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ بِوَادِي الْأَزْرَقِ أَرَأَيْتَ مَا أَصَبْنَا مِنَ الصَّيْدِ لَا نَجِدُ لَهُ بَدَلًا مِنَ النَّعَمِ؟، قَالَ:" تَنْظُرُ مَا ثَمَنُهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى مَسَاكِينِ أَهْلِ مَكَّةَ".
عکرمہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ہم وادیٔ ازرق میں تھے، ہم نے پوچھا: ”اگر ہم شکار کر لیں اور چوپایوں میں سے ان کا بدل نہ پائیں؟“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”اس کی قیمت کا اندازہ کر کے مکہ کے مساکین پر تقسیم کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9902]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9903
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} [المائدة: ٩٥] ، إِلَى {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ} [المائدة: ٩٥] قَالَ: مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَصَابَهُ فِي حَرَمٍ يُرِيدُ الْبَيْتَ كَفَّارَةُ ذَلِكَ عِنْدَ الْبَيْتِ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ الی ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ﴾ [سورة المائدة: 95] ”بدلہ اس کی مثل جو شکار کیا چوپایوں میں سے ہے۔ قربانی کا کعبہ پہنچانا یا مساکین کا کھانا۔“ فرماتے ہیں کہ اس نے حرم کے اندر یہ کام کیا تھا اس لیے کفارہ بھی بیت اللہ میں ادا کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9903]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الشافعي 632»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں