السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2101. -- باب:: المحرم لا يقبل ما يهدى له من الصيد حيا
-- باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ دَمًا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَلَعَلَّ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، حَدِيثُ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ" عَجُزَ حِمَارٍ" وَحَدِيثُهُ عَنْ حَبِيبٍ" حِمَارَ وَحْشٍ" كَمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَدْ رَوَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحَدُهُمَا:" بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ"، وقَالَ الْآخَرُ:" حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ فَذَكَرَهُ، وَإِذَا كَانَتِ الرِّوَايَةُ هَكَذَا، وَافَقَتْ رِوَايَةُ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ رِوَايَةَ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، وَوَافَقَتْ رِوَايَةُ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ رِوَايَةَ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ فَيَكُونُ الْحَكَمُ مُنْفَرِدًا بِذِكْرِ اللَّحْمِ أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدید نامی جگہ پر تھے اور محرم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس کر دیا اور وہ خون بہا رہا تھا۔
شاید یہی صحیح ہے کہ شعبہ کی حکم سے روایت میں ”گدھے کی پشت کا حصہ“ ہے اور حبیب سے ان کی روایت میں ”نیل گائے“ ہے، جیسا کہ ابوداود نے روایت کیا ہے۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا، ان میں سے ایک کہتے ہیں: ”قدید میں گدھے کی پشت والا حصہ“۔ دوسرے نے کہا: ”نیل گائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا۔“
اگر روایت اسی طرح ہو تو شعبہ کی حبیب سے روایت اعمش کی حبیب سے روایت کے موافق ہو جاتی ہے، اور شعبہ کی حکم سے روایت منصور کی حکم سے روایت کے موافق ہو جاتی ہے، چنانچہ گوشت یا اس کے ہم معنی چیز کے ذکر میں حکم منفرد ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9934]
شاید یہی صحیح ہے کہ شعبہ کی حکم سے روایت میں ”گدھے کی پشت کا حصہ“ ہے اور حبیب سے ان کی روایت میں ”نیل گائے“ ہے، جیسا کہ ابوداود نے روایت کیا ہے۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا، ان میں سے ایک کہتے ہیں: ”قدید میں گدھے کی پشت والا حصہ“۔ دوسرے نے کہا: ”نیل گائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا۔“
اگر روایت اسی طرح ہو تو شعبہ کی حبیب سے روایت اعمش کی حبیب سے روایت کے موافق ہو جاتی ہے، اور شعبہ کی حکم سے روایت منصور کی حکم سے روایت کے موافق ہو جاتی ہے، چنانچہ گوشت یا اس کے ہم معنی چیز کے ذکر میں حکم منفرد ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9934]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1194»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9935
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣١٦⦘ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ فَرَدَّهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے کی ایک ٹانگ تحفہ میں دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدید نامی جگہ پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9935]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِمَارَ حَيًّا فَلَيْسَ لِمُحْرِمٍ ذَبْحُ حِمَارِ وَحْشٍ حَيٍّ، وَإِنْ كَانَ أَهْدَى لَهُ لَحْمًا فَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ أَنَّهُ صِيدَ لَهُ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَإِيضَاحُهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَنَّ الصَّعْبَ أَهْدِيَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ مَنْ حَدَّثَ أَنَّهُ أَهْدَى لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ الصَّعْبِ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نیل گائے تحفہ میں دی تھی تو محرم کے لیے زندہ نیل گائے کو ذبح کرنا جائز نہیں، اور اگر انہوں نے گوشت تحفہ میں دیا تھا تو ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو کہ یہ آپ کے لیے شکار کیا گیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا، جس کی وضاحت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔ واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9936]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔ واللہ اعلم۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9936]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن وهب كما في الفتح 4/ 32»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَهُوَ بِالْجُحْفَةِ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَأَكَلَ الْقَوْمُ" وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَكَأَنَّهُ رَدَّ الْحِيَّ، وَقِيلَ: اللَّحْمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ میں دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جحفہ کے مقام پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا۔
یہ سند صحیح ہے، اگر یہ محفوظ ہو تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کو تو واپس کر دیا اور گوشت قبول فرما لیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9937]
یہ سند صحیح ہے، اگر یہ محفوظ ہو تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کو تو واپس کر دیا اور گوشت قبول فرما لیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1195»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣١٧⦘ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟، قَالَ: فَقَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ:" إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَاصِمٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَدِمَ فَأَتَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَفْتَاهُ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ، فَقَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد دلاتے ہوئے پوچھا: آپ نے مجھے اس شکار کے گوشت کے بارے میں کیسے بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار والے گوشت کا ایک حصہ تحفہ میں دیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم اسے نہیں کھاتے، ہم حالتِ احرام میں ہیں۔“
(ب) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے پاس جا کر ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حالتِ احرام میں شکار کا گوشت لایا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9938]
(ب) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے پاس جا کر ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حالتِ احرام میں شکار کا گوشت لایا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9938]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1849»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَعَامًا، وَصَنَعَ فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلُحُومِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْقُضُ الْخَبْطَ مِنْ يَدِهِ فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ:" أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ" ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ؟" قَالُوا: نَعَمْ وَتَأْوِيلُ هَذَيْنِ الْمُسْنَدَيْنِ مَا ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَأْوِيلِ حَدِيثِ مَنْ رَوَى فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَيْهِ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَأَمَّا عَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا ذَهَبَا إِلَى تَحْرِيمِ أَكْلِهِ عَلَى الْمُحْرِمِ مُطْلَقًا، وَقَدْ خَالَفَهُمَا عُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَغَيْرُهُمْ وَمَعَهُمْ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، وَجَابِرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
اسحاق بن عبداللہ بن حارث اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے طائف پر نائب تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا بنایا۔ اس میں چکوروں، نر چکوروں اور جنگلی جانوروں کا گوشت شامل کیا، انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا، قاصد آیا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے پتے جھاڑ رہے تھے، وہ آئے تو اپنے ہاتھوں سے پتے جھاڑ رہے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا: کھائیے۔ انہوں نے فرمایا: حلال لوگوں کو کھلاؤ، ہم تو محرم لوگ ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اشجع قبیلہ کے ہر اس شخص کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جو یہاں موجود ہے، کیا تم جانتے ہو کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیل گائے تحفہ میں دی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
(ب) ان دونوں مسند روایتوں کی توجیہ وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے قصہ میں اس شخص کی حدیث کی توجیہ میں ذکر کی ہے جس نے روایت کیا کہ انہوں نے گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔ رہے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما تو ان دونوں کا موقف ہے کہ محرم کے لیے اس کا کھانا مطلق طور پر حرام ہے۔ ان دونوں کی مخالفت سیدنا عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ نے کی ہے اور ان کے ساتھ سیدنا ابوقتادہ اور جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9939]
(ب) ان دونوں مسند روایتوں کی توجیہ وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے قصہ میں اس شخص کی حدیث کی توجیہ میں ذکر کی ہے جس نے روایت کیا کہ انہوں نے گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔ رہے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما تو ان دونوں کا موقف ہے کہ محرم کے لیے اس کا کھانا مطلق طور پر حرام ہے۔ ان دونوں کی مخالفت سیدنا عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ نے کی ہے اور ان کے ساتھ سیدنا ابوقتادہ اور جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9939]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 787»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9940
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ:" يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ، فَإِنْ يَخْتَلِجْ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" يَعْنِي أَكْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: اے بھانجے! یہ صرف دس راتیں ہیں، اگر تمہارے دل میں کوئی چیز کھٹکے تو اس کو چھوڑ دینا۔ (ان کی مراد شکار کا گوشت کھانا تھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9940]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخه 41/ 379»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عبَدِ اللهِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لَحْمِ الصَّيْدِ يُهْدِيهِ الْحَلَالُ لِلْحَرَامِ فَقَالَتْ:" اخْتَلَفَ فِيهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَه بَعْضُهُمْ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ بَأْسًا وَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ".
عبداللہ بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو حلال (غیر محرم) آدمی محرم کو تحفہ دیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا اس میں اختلاف ہے، بعض تو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9941]
2102. -- باب:
-- باب:
حدیث نمبر: 9942
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا أَحْرَمَ الرَّجُلُ وَعِنْدَهُ صَيْدٌ فَلْيَتْرُكْهُ" وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ:" يُرْسِلُهُ فَإِنْ ذَبَحَهُ فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ".
مجاہد، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی محرم ہو اور اس کے پاس شکار ہو تو وہ اس کو چھوڑ دے۔
(ب) حسن بیان کرتے ہیں کہ وہ شکار کو چھوڑ دے، اگر اس نے ذبح کر دیا تو اس پر بدلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9942]
(ب) حسن بیان کرتے ہیں کہ وہ شکار کو چھوڑ دے، اگر اس نے ذبح کر دیا تو اس پر بدلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9942]
حدیث نمبر: 9943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحْرِمٍ ذَبَحَ صَيْدًا، قَالَ:" يَأْكُلُهُ وَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ، إِلْقَاؤُهُ فَسَادٌ" قَالَ حَمَّادٌ: وَكَانَ أَيُّوبُ يُعْجِبُهُ قَوْلُ عَمْرٍو هَذَا، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" هُوَ مَيْتَةٌ لَا يَأْكُلُهُ"، وَعَنْ عَطَاءٍ:" لَا يَأْكُلُهُ الْحَلَالُ"، وَعَنْ عَطَاءٍ:" إِذَا أَصَابَ صَيْدًا فَعَلَيْهِ فِدْيَةٌ، وَإِذَا أَكَلَهُ فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ، وَالْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالُوا فِي الصَّيْدِ يُذْبَحُ بِمَكَّةَ:" لَا يُؤْكُلُ"، قِيلَ: فَمَا يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ:" يُطْرَحُ بِمَنْزِلَةِ الْمَيِّتِ"، وَفِي رِوَايَةِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُذْبَحَ الصَّيْدُ الَّذِي يُصَادُ فِي الْحِلِّ فِي الْحَرَمِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنَ، أَوِ الْحُسَيْنَ كَرِهُوا ذَبْحَ الصَّيْدِ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُدْخَلَ بِهِ مَذْبُوحًا، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَصَابَ الْحَلَالُ فِي الْحَرَمِ الصَّيْدَ حُكِمَ عَلَيْهِ كَمَا يُحْكَمُ عَلَى الْمُحْرِمِ"، قَالَ:" وَالْمُحْرِمُ إِذَا أَصَابَ فِي الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ".
حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا گیا جو شکار کو ذبح کر لیتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اسے کھا لے اور اس پر بدلہ ہے اور اس کو پھینک دینا بگاڑ ہے، حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کو عمرو رحمہ اللہ کا یہ قول اچھا لگتا تھا۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مردار ہے، اسے نہ کھائے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حلال (آدمی) نہ کھائے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر فدیہ ہے، اور جب اس نے اسے کھایا تو جتنا کھایا اس کی قیمت اس پر ہوگی۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ کی روایت میں حضرت عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں ذبح کیے جانے والے شکار کے بارے میں فرمایا کہ اسے کھایا نہیں جائے گا۔ پوچھا گیا: اس کا کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا: اسے مردار کی طرح پھینک دیا جائے گا۔
(د) حجاج بن ارطاۃ کی روایت جو حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے اس بات کو مکروہ جانا کہ حرم سے باہر (حل میں) شکار کیے گئے جانور کو حرم میں ذبح کیا جائے۔
(ح) حجاج کی دوسری روایت میں ہے جو حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، یہ سب شکار کو مکہ میں ذبح کرنے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اسے ذبح شدہ حالت میں (مکہ میں) لانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(خ) حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حلال آدمی حرم میں شکار کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو محرم کا ہوتا ہے، اور محرم آدمی جب حرم میں شکار کرے تو اس کو ایک کفارہ دینا پڑے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9943]
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مردار ہے، اسے نہ کھائے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حلال (آدمی) نہ کھائے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر فدیہ ہے، اور جب اس نے اسے کھایا تو جتنا کھایا اس کی قیمت اس پر ہوگی۔
(ج) ابن ابی لیلیٰ کی روایت میں حضرت عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں ذبح کیے جانے والے شکار کے بارے میں فرمایا کہ اسے کھایا نہیں جائے گا۔ پوچھا گیا: اس کا کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا: اسے مردار کی طرح پھینک دیا جائے گا۔
(د) حجاج بن ارطاۃ کی روایت جو حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے اس بات کو مکروہ جانا کہ حرم سے باہر (حل میں) شکار کیے گئے جانور کو حرم میں ذبح کیا جائے۔
(ح) حجاج کی دوسری روایت میں ہے جو حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، یہ سب شکار کو مکہ میں ذبح کرنے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اسے ذبح شدہ حالت میں (مکہ میں) لانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(خ) حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حلال آدمی حرم میں شکار کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو محرم کا ہوتا ہے، اور محرم آدمی جب حرم میں شکار کرے تو اس کو ایک کفارہ دینا پڑے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9943]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1737»
الحكم على الحديث: صحيح