🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2104. -- باب: ما جاء في حرم المدينة
-- باب: مدینہ منورہ کے حرم کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ" قَالَ: وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَجِدُ فِي يَدَيْ أَحَدِنَا الطَّيْرَ فَيَأْخُذُهُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا۔“
(ب) وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہمارے ہاتھوں میں پرندوں کو پاتے، اس کو پکڑتے اور مٹھی کھول دیتے اور چھوڑ دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9964]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1375»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9965
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَبَّانَ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَأَوْمَى بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ".
ابو عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ احترام اور امن کی جگہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9965]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9966
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: أَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ" ⦗٣٢٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
یسیر بن عمرو، سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مدینہ کی طرف جھکایا اور فرمایا: ”یہ حرم اور امن کی جگہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1362»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9967
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کا شکار نہ بھگایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ احمد 317»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9968
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَادَةَ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ عُصْفُورًا فَانْتَزَعَهُ مِنِّي، فَأَرْسَلَهُ وَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَكَّةَ"، وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یعلی بن عبدالرحمن بن ہرمز، عبداللہ بن عبادہ زرقی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اہاب کے کنویں پر چڑیوں کا شکار کرتے تھے جو وہاں تھیں، عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا، میں نے چڑیا پکڑ رکھی تھی، انہوں نے مجھ سے چھین لی اور چھوڑ دی، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور عبادہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9968]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البزار 3۔ رقم 1008»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9969
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اصْطَدْتُ طَيْرًا بِالْقُنْبُلَةِ فَخَرَجْتُ بِهِ فِي يَدِي فَلَقِيَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا فِي يَدِكَ؟" قُلْتُ: طَيْرٌ اصْطَدْتُهُ بِالْقُنْبُلَةِ فَعَرَكَ أُذُنِي عَرْكًا شَدِيدًا وَاسْتَنْزَعَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، فَقَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ: يَعْنِي حَرَّتَيِ الْمَدِينَةِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُؤَمَّلِيِّ، قَالَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" يَعْنِي الْمَدِينَةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ.
صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پھندے کے ذریعے ایک پرندے کا شکار کیا، میں اسے اپنے ہاتھ میں لے کر نکلا تو مجھے میرے والد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ایک پرندہ ہے جس کا میں نے پھندے سے شکار کیا ہے، انہوں نے میرے کان کو خوب مسلا، رگڑا اور اسے میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیا اور کہنے لگے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان شکار کو حرام قرار دیا ہے۔“ ابو مصعب کہتے ہیں: یعنی مدینہ کے دونوں سنگلاخ میدان۔
(ب) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور قصے کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9969]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1578»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9970
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ، فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فِي حَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا؟" قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ وَقَدِ ⦗٣٢٦⦘ اصْطَدْتُ نَهَسًا فَأَخَذَهُ زَيْدٌ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ: النُّهَسَاءُ الطَّيْرُ الصَّغِيرُ فَوْقَ الْعُصْفُورِ شَبِيهٌ بِالْقُنْبَرَةِ، الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ، يُقَالُ هُوَ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ.
عطاء بن یسار سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ لڑکوں کو پایا جنہوں نے ایک لومڑی کو ایک کونے میں گھیر رکھا تھا، تو انہوں نے ان کو اس لومڑی سے بھگایا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں مگر انہوں نے کہا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں یہ کیا جا رہا ہے؟
(ب) امام مالک رحمہ اللہ ایک شخص سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میں اسواف نامی جگہ پر تھا، میں نے «النُّهَس» (ایک پرندہ) کا شکار کیا، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چھوڑ دیا۔
ابو عبداللہ بوشنجی کہتے ہیں: نہس ایک چھوٹا پرندہ ہے جو چڑیا سے بڑا اور چنڈول کے مشابہ ہوتا ہے۔ وہ شخص جس کا نام امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے نہیں لیا، کہا جاتا ہے کہ وہ شرحبیل ابوسعد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9970]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ابي شيبه 36225»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9971
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ الْأَسْوَافَ، مَوْضِعٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَاصْطَادَ بِهَا نَهَسًا يَعْنِي طَيْرًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ مَعَهُ، قَالَ: فَعَرَكَ أُذُنِي، ثُمَّ قَالَ:" خَلِّ سَبِيلَهُ لَا أُمَّ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا؟" وَيُرْوَى فِيهِ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَرْفُوعًا.
ولید کہتے ہیں کہ شرحبیل ابوسعد نے مجھے بیان کیا کہ وہ مدینہ کی جگہ اسواف میں داخل ہوا، اس نے نہس پرندے کا شکار کیا۔ ان کے پاس سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے تو وہ پرندہ ان کے پاس ہی تھا، انہوں نے میرے کان ملے یا رگڑے پھر فرمایا: ”اس کا راستہ چھوڑو، تیری ماں نہ رہے! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ان دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ میں شکار کو حرام قرار دیا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9971]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1364»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2105. -- باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا
-- باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا فَاسْتَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ عَبْدِهِمْ، قَالَ:" مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا.
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے محل گئے۔ انہوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سامان چھین لیا۔ جب وہ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ وہ چیز واپس کریں جو ان کے غلام سے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9972]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9973
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَوَجَدَ غُلَامًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
عبداللہ بن جعفر جو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، اسی طرح نقل فرماتے ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو اس کا سامان چھین لیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ انہوں نے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9973]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطيالسي 218۔ ابوداود 2038»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں