السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1978. -- باب: الخروج إلى الصفا والمروة، والسعي بينهما، والذكر عليهما
-- باب: صفا اور مروہ کی طرف نکلنے، ان کے درمیان سعی کرنے اور ان پر ذکر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9350
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَامَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الصَّدْعِ الَّذِي فِي الصَّفَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَا هُنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ:" هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
علقمہ اور اسود دونوں فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہاں؟ تو انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں، یہی اس شخص کا مقام ہے، جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9350]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9351
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جِئْتُ مُسَلِّمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَصَحِبْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَتَّى دَخَلَ فِي الطَّوَافِ فَطَافَ ثَلَاثَةً رَمَلًا وَأَرْبَعَةً مَشْيًا، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ:" وَلَكِنْ آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ" فَلَمَّا هَبَطَ إِلَى الْوَادِي سَعَى، فَقَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ" هَذَا أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر سلام کہتے ہوئے آیا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو لیا حتیٰ کہ طواف شروع کیا، تین طواف رمل اور چار چل کر کیے، پھر انہوں نے مقام کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں، پھر حجرِ اسود کی طرف گئے، بوسہ دیا، پھر صفا کی طرف چل نکلے اور صفا کے کنارے پر کھڑے ہوئے تو تلبیہ کہا، میں نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مقبول تھی جو ابراہیم کی قبول کی گئی، جب وہ وادی میں اترے تو سعی کی اور کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے اللہ! بخش دے اور رحم کر اور تو ہی عزت والا اور کرم والا ہے“۔
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9351]
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایات میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9351]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 15570۔ 15571»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9352
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْحَرَّانِيَّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ:" رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْ، وَأَنْتَ، أَوْ إِنَّكَ، الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ".
ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان یہ کہتے سنا: «رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ» ”اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور رحم کر اور تو ہی عزت و کرم والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9352]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9353
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَقُومُ فِي حَوْضٍ فِي أَسْفَلِ الصَّفَا وَلَا يَظْهَرُ عَلَيْهِ.
ابن ابی نجیح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے خبر دی، جس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ صفا سے نچلے حوض میں کھڑے ہوئے اور اس پر نہ چڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9353]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ شافعي في الام 2/ 323»
الحكم على الحديث: ضعيف
1979. -- باب: جواز السعي بين الصفا والمروة على غير طهارة وإن كان الأفضل أن يكون على طهارة
-- باب: بغیر طہارت کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے جواز کا بیان، اگرچہ افضل یہی ہے کہ طہارت کی حالت میں ہو۔
حدیث نمبر: 9354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ، وَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا الْهَدْيُ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ مَنِيًّا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ""، قَالَ: وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً أَمْ لِلْأَبَدِ؟، قَالَ:"" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ"" وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسِكَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّيَ حَتَّى تَطْهُرَ، فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ؟ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحِجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج کا تلبیہ کہا، ہم چار ذوالحجہ کو مکہ میں پہنچے تو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کریں اور اس کو عمرہ بنا کر حلال ہوجائیں، سوائے اس آدمی کے جس کے پاس قربانی ہے اور ہم میں سے کسی کے پاس بھی قربانی نہیں تھی، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے پاس بھی قربانی تھی تو انہوں نے کہا: میں بھی وہی تلبیہ کہتا ہوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو ہم نے کہا: ہم منیٰ جائیں گے اور ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنے اس معاملہ کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا“، کہتے ہیں کہ آپ کو سراقہ ملے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں مکہ پہنچیں تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ تمام تر مناسکِ حج ادا کریں، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کریں اور نماز نہ پڑھیں حتیٰ کہ پاک ہوجائیں، تو جب وہ بطحاء میں اترے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ حج اور عمرہ کر کے جائیں گے اور میں صرف حج کر کے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں، تو انہوں نے ذوالحجہ میں ایامِ حج کے بعد عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6803»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9355
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ قَوْلِهِ:" وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّي".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج کا تلبیہ کہہ اور حج کر، جو کچھ حاجی کرتے ہیں کر، لیکن بیت اللہ کا طواف اور نماز نہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9355]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9356
أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ طَافَتْ بِالْبَيْتِ ثُمَّ وَجَّهَتْ، لِتَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَحَاضَتْ، فَلْتَطُفْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ حَائِضٌ وَكَذَلِكَ الَّذِي يُحْدِثُ بَعْدَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَسْعَى.
ابوالزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہائے مدینہ کہا کرتے تھے کہ جو عورت بھی بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا و مروہ کا طواف کرنے کے لیے جائے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ صفا و مروہ کا طواف حالت حیض میں ہی کر لے، اور یہی حکم اس شخص کا ہے جس کا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور سعی کرنے سے پہلے وضو ٹوٹ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9356]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1980. -- باب: وجوب الطواف بين الصفا والمروة وأن غيره لا يجزي عنه
-- باب: صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کے واجب ہونے اور اس بات کا بیان کہ اس کے بدلے کوئی اور عمل کفایت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 9357
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ ⦗١٥٦⦘ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] ؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطُوفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ:" كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ وَكَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] " الْآيَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، جب کہ میں ابھی نو عمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] ”بیشک صفا و مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، اگر یہ بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی کہ ”اگر کوئی طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں“، یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، وہ مناۃ کے لیے تلبیہ کہتے تھے اور مناۃ قدید کے سامنے تھا، تو اس لیے وہ صفا و مروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے تھے۔ تو جب اسلام آیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9357]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو معاویہ نے ہشام سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج اور عمرہ مکمل نہ کرے جس نے صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کیا (سعی نہ کی)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9357]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1561۔ مسلم 1277»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9358
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، أنبأ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَ، هَنَّادٌ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ رَجُلًا لَوْ تَرَكَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ لَمْ يَضُرَّهُ، قَالَتْ:" وَلِمَ؟" قُلْتُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَتَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَلِكَ؟ كَانَتِ الْأَنْصَارُ يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمٍ عَلَى شَاطِئِ الْبَحْرِ ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَيَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا؛ لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ بَيْنَهُمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ} [البقرة: ١٥٨] فَعَادَ النَّاسُ فَطَافُوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ أَنَّ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكٍ فِي أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيمَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَهُمَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كِلَاهُمَا صَحِيحًا فَقَدْ:.
سیدنا عروہ بن زبیر بن عوام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں، اگر کوئی آدمی صفا و مروہ کا طواف چھوڑ دے تو اس کو کوئی نقصان نہ ہوگا، انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [سورة البقرة: 158] تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھانجے! اگر ایسی بات ہوتی جو تو کہتا ہے تو ہونا چاہیے تھا کہ ”ان کا طواف نہ کرنے میں حرج نہیں ہے“ اس شخص کا حج و عمرہ مکمل نہیں جس نے صفا و مروہ کا طواف نہ کیا۔ کیا تجھے علم ہے یہ کس بارے میں نازل ہوئی؟ انصار سمندر کے کنارے ایک بت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، پھر وہ آتے اور صفا و مروہ کا طواف کرتے اور سر منڈواتے، تو جب اسلام آیا تو انہوں نے اس وجہ سے جو وہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ان دونوں کے درمیان طواف کرنا ناپسند کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ﴾ [سورة البقرة: 158] (الخ) تو لوگ آئے اور انہوں نے طواف کیا۔
(ب) ابو معاویہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔
(ج) امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو ان دونوں کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، احتمال ہے کہ دونوں قول درست ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9358]
(ب) ابو معاویہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔
(ج) امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی جو ان دونوں کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے، احتمال ہے کہ دونوں قول درست ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] ؟ ⦗١٥٧⦘ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَاللهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ أَنْزَلَ اللهُ {إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] الْآيَةَ"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا".
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا اس آیت ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اگر کوئی صفا و مروہ کا طواف نہ بھی کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے بھانجے! تو نے بہت برا کہا ہے، اگر اس آیت کا وہ معنی ہوتا جو تو نے لیا ہے تو آیت یوں ہوتی: «فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا» ”تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کرے“، لیکن یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اسلام لانے سے پہلے مناۃ طاغوت کے لیے تلبیہ کہتے تھے، جس کی وہ مشلل کے پاس عبادت کرتے تھے اور جو اس کے لیے تلبیہ کہتا تھا وہ صفا و مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کرتا تھا، تو جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان طواف مشروع قرار دیا ہے، پس کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف نہ کرے۔“ [صحیح۔ مالک: 832] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9359]