🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2261. -- باب: قبض ما ابتاعه جزافا بالنقل، والتحويل إذا كان مثله ينقل
-- باب: جو چیز اندازے سے خریدی گئی ہو اس پر قبضہ اسے منتقل کرنے اور جگہ تبدیل کرنے سے ہوگا جب وہ چیز ایسی ہو جسے منتقل کیا جاتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10692
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْفَيْتُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِدَائِي مِنْ خَلْفِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ:" لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلْعَةُ حَيْثُ تَبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے بازار سے تیل خریدا، جب میں اس کا مستحق ٹھہرا، مجھے ایک آدمی ملا جو مجھے اچھا منافع دے رہا تھا، میں نے اس سے بیع کرنا چاہی، میرے پیچھے سے ایک شخص نے میری چادر پکڑ لی، جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہنے لگے: جہاں سے آپ نے خریدا وہاں فروخت نہ کرو، یہاں تک کہ آپ اس کو اپنے گھر منتقل کر لیں، کیونکہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کو اسی جگہ فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جہاں سے خریدا جائے، جب تک تاجر اپنے مقامات پر منتقل نہ کر لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10692]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 3499»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2262. -- باب: بيع الأرزاق التي يخرجها السلطان قبل قبضها
-- باب: بادشاہ کی طرف سے جاری کردہ رزق (غلے وغیرہ) کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْفَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِبَيْعِ الرِّزْقِ بَأْسًا" ⦗٥١٤⦘ وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِ الرِّزْقِ وَيَقُولُ:" لَا يَبِيعُهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ"، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ إِنْ شَاءَ اللهُ بِمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رزق کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رزق کی فروخت میں کوئی حرج نہیں، لیکن قبضے میں لینے سے پہلے اسے فروخت نہ کریں جو آپ نے خریدا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10693]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10694
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ" لَا تَبِعْ طَعَامًا مَا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ" فَحَكِيمٌ كَانَ قَدِ اشْتَرَاهُ مِنْ صَاحِبِهِ فَنَهَاهُ عَنْ بَيْعِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج خریدا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم لوگوں کو دیا۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کر دیا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سن لی تو اس پر واپس کر دیا اور فرمایا: ”اناج فروخت نہ کر جو آپ نے خریدا ہے جب تک قبضے میں نہ لے لو۔“ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی سے خریدا تو قبضے میں لینے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10694]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1313»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2263. -- باب: أخذ العوض عن الثمن الموصوف في الذمة
-- باب: ذمے میں واجب الادا موصوف (طے شدہ) قیمت کے بدلے کوئی اور چیز لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10695
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَتَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا، میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن اس کے عوض درہم وصول کرلیتا اور میں درہموں میں فروخت کرتا تو اس کے عوض دینار لے لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں، میں دیناروں میں فروخت کر کے اس کے عوض درہم وصول کرلیتا ہوں اور کبھی میں درہموں میں بیچ کر دینار لے لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، جب آپ اس دن کے بھاؤ کے مطابق وصول کریں، جب تک تم دونوں جدا نہ ہو اور تمہارے درمیان کچھ بھی باقی نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10695]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 10513»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2264. -- باب: الرجل يبتاع طعاما كيلا فلا يبيعه حتى يكتاله لنفسه، ثم لا يبرأ حتى يكيله على مشتريه
-- باب: ایک آدمی ماپ کر غلہ خریدتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اپنے لیے ماپ کر قبضہ نہ کر لے، پھر وہ اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہوگا جب تک اپنے خریدار کو بھی ماپ کر نہ دے دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10696
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا جَدِّي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنِّي كُنْتُ أَشْتَرِي التَّمْرَ كَيْلًا فَأَقْدَمُ بِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ أَحْمِلُهُ أَنَا ⦗٥١٥⦘ وَغِلْمَانٌ وَذَلِكَ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَدِينَةِ بِسُوقِ قَيْنُقَاعَ فَأَرْبَحُ الصَّاعَ وَالصَّاعَيْنِ فَأَكْتَالُ رِبْحِي ثُمَّ أُصُبُّ لَهُمْ مَا بَقِيَ مِنَ التَّمْرِ، فَحُدِّثَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اشْتَرَيْتَ يَا عُثْمَانُ فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ" رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْكِبَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لَهِيعَةَ، وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ میں نے ماپی ہوئی کھجور خریدی، میں اسے مدینہ لے آتا، میں اور (میرے) غلام اسے اٹھا کر لاتے اور یہ مدینہ کے قریب بنو قینقاع کے بازار میں تھا۔ میں ایک صاع یا دو صاع منافع لیتا تھا۔ میں اپنے منافع کو ماپ لیتا تھا، پھر باقی ماندہ کھجوریں انہیں ڈال دیتا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! جب اناج خریدو تو خود بھی ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کردیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10696]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 62»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10697
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: كُنْتُ أَشْتَرِي الْأَوْسَاقَ فَأَجِيءُ بِهَا إِلَى سُوقِ كَذَا فَيَأْخُذُونَهَا مِنِّي كَيْلًا وَيُرْبِحُونَنِي فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا ابْتَعْتَ كَيْلًا فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ كَيْلًا فَكِلْ" وَرُوِي عَنْ مُنْقِذٍ مَوْلَى سُرَاقَةَ، عَنْ عُثْمَانَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں کئی وسق خرید کر بازار میں لاتا، وہ مجھ سے ماپ کر لیتے اور مجھے نفع دیتے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو ماپی ہوئی چیز کو خریدے تو خود بھی ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کر دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10697]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10698
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مُنْقِذٍ، مَوْلَى سُرَاقَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعُثْمَانَ:" إِذَا ابْتَعْتَ فَاكْتَلْ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ" وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ مُرْسَلًا عَنْ عُثْمَانَ.
سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کے غلام منقذ، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب خریدو تو ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10698]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الدارقطني 3/8»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يَجْلِبَانِ الطَّعَامَ مِنْ أَرْضِ قَيْنُقَاعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَبِيعَانِهِ بِكَيْلِهِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ جَلَبْنَاهُ مِنْ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا وَنَبِيعُهُ بِكَيْلِهِ، قَالَ:" لَا تَفْعَلَا ذَلِكَ إِذَا اشْتَرَيْتُمَا طَعَامًا فَاسْتَوْفِيَاهُ فَإِذَا بِعْتُمَاهُ فَكِيلَاهُ" ⦗٥١٦⦘ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
مطر وراق اپنے بعض ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ حکیم بن حزام اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما یہ دونوں قینقاع کی زمین سے غلہ لے کر مدینہ آتے، وہ دونوں اس کو ماپ کر فروخت کرتے، ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ وہ دونوں کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! ہم فلاں زمین سے سامان لاتے ہیں اور ماپ کر فروخت کرتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم خریدو اس وقت ایسا نہ کرو بلکہ اس کو اپنے قبضہ میں لو اور جب فروخت کرو تو ماپ لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10699]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10700
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالُوا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِي" وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غلہ کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، یہاں تک کہ اس میں دو مرتبہ «صَاع» جاری ہو۔“ یعنی دو مرتبہ ماپا جائے، خریدنے والے کا «صَاع» اور فروخت کرنے والے کا «صَاع» دونوں ہی ماپ کر فروخت کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10700]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابن ماجه 2228»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10701
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الزَّيَّاتُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ فَيَكُونَ لِلْبَائِعِ الزِّيَادَةُ وَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”غلہ کو فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک اس میں دو صاع جاری نہ ہوں۔ فروخت کرنے والے کے ذمہ زیادتی اور نقصان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10701]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابزار كما في نصب الرواية 4414»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں