السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2377. -- باب: الحجر على المفلس وبيع ماله في ديونه
-- باب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11260
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ التَّوقَاتِيُّ بِهَا وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْمُفَسِّرُ بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"" حَجَرَ عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَالَهُ، وَبَاعَهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ"".
(الف) سلمان شاذکونی ہشام بن یوسف سے بیان کرتے ہیں۔ (ب) ابراہیم بن معاویہ ہشام بن یوسف سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر مالی تصرف کی پابندی لگائی اور ان کا مال قرضے کی ادائیگی کے لیے بیچ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11260]
حدیث نمبر: 11261
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَابًّا حَلِيمًا سَمْحًا مِنْ أَفْضَلِ شَبَابِ قَوْمِهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُمْسِكُ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ يَدَّانُ حَتَّى أَغْرَقَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي الدَّيْنِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ غُرَمَاءَهُ، فَلَوْ تَرَكُوا أَحَدًا مِنْ أَجَلِ أَحَدٍ لَتَرَكُوا مُعَاذًا مِنْ أَجَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي مَالَهُ، حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ" هَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَخَالَفَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ.
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے سب سے معزز، نرم خو نوجوان تھے۔ وہ اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتے تھے، چنانچہ ہمیشہ مقروض رہتے تھے حتیٰ کہ ان کا سارا سامان قرضے میں چلا گیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بات کی، اگر وہ کسی کو کسی کی خاطر قرضہ معاف کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر معاذ رضی اللہ عنہ کو معاف کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا مال بیچ دیا اور معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11261]
حدیث نمبر: 11262
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَابًّا جَمِيلًا سَمْحًا مِنْ خَيْرِ شَبَابِ قَوْمِهِ، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى دَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَغْرَقَ مَالَهُ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يُكَلِّمَ لَهُ غُرَمَاءَهُ، فَفَعَلَ، فَلَمْ يَضَعُوا لَهُ شَيْئًا، فَلَوْ تُرِكَ لِأَحَدٍ بِكَلَامِ أَحَدٍ لَتُرِكَ لِمُعَاذٍ بِكَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْرَحْ مِنْ أَنْ بَاعَ مَالَهُ وَقَسَّمَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ. قَالَ: فَقَامَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا مَالَ لَهُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، فَذَكَرَهُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ مُعَاذٍ.
امام زہری رحمہ اللہ حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوبصورت اور نرم خو نوجوان تھے اور اپنی قوم کے بہترین فرزند تھے۔ جو کچھ ان سے مانگا جاتا وہ دیتے تھے، حتیٰ کہ ان پر اتنا قرض ہو گیا کہ ان کا سارا مال قرض میں چلا گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے قرض خواہوں سے بات کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی لیکن انہوں نے کچھ معاف نہ کیا۔ اگر کسی کو کسی کی خاطر قرض معاف ہوتا تو معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر قرض معاف کر دیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا مال بیچتے رہے اور قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کرتے رہے، چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ نہ بچا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11262]
حدیث نمبر: 11263
وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٨١⦘ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ" أَنَّ غُلَامَيْنِ مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَحَبَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَاعَ فِيهِ غُنَيْمَةً لَهُ" هَذَا مُرْسَلٌ.
اسماعیل بن رجاء، ابومجلز رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کے دو لڑکوں کا ایک غلام تھا، ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک لیا حتیٰ کہ اس بارے میں اس کی بکریاں بیچیں۔ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11263]
حدیث نمبر: 11264
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْبَابَسِيرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" كَانَ رَجُلَانِ مِنْ جُهَيْنَةَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ، فَأَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّنَهُ إِيَّاهُ، وَكَانَتْ لَهُ قَرِيبٌ مِنْ مِائَتَيْ شَاةٍ فَبَاعَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَهُ" الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَشْبَهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہینہ کے دو آدمیوں کا ایک مشترک غلام تھا۔ ان میں سے ایک نے اسے آزاد کر دیا تو (معاملہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرنے والے کو (دوسرے کے حصے کا) ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کی دو سو کے قریب بکریاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیچ دیا اور دوسرے شخص کو دے دیں۔
حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اور ثوری نے اسے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابومجلز سے مرسلاً روایت کیا ہے اور یہی زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11264]
حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اور ثوری نے اسے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابومجلز سے مرسلاً روایت کیا ہے اور یہی زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11264]
حدیث نمبر: 11265
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، إِلَّا أَنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ دِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ؛ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ، وَآخِرَهُ حَرْبٌ".
عمر بن عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی سواریاں مہنگے داموں خریدتا تھا، پھر تیز چلتا تھا تاکہ حاجیوں سے پہلے پہنچ جائے۔ پھر وہ مفلس ہو گیا، اس کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما بعد! اے لوگو! اُسیفع، جہینہ کا اُسیفع، اپنے دین اور امانت کے بارے میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ کہا جائے: وہ حاجیوں سے سبقت لے گیا، مگر اس نے بے پروائی سے قرض لیا، چنانچہ وہ اس حال میں ہو گیا کہ قرض نے اسے گھیر لیا۔ جس کا اس پر قرض ہو وہ کل صبح ہمارے پاس آئے، ہم اس کا مال اس کے قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیں گے، اور قرض سے بچو، اس کا آغاز غم سے ہے اور اختتام لڑائی پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11265]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَقَالَ:" نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ".
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کا فیصلہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہم اس کا مال قرض خواہوں کے درمیان حصے کر کے تقسیم کر دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11266]
2378. -- باب: حلول الدين على الميت
-- باب: میت پر قرض کے فوری واجب الادا ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ⦗٨٢⦘ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا نفس اس کے قرض کی وجہ سے معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11267]
تخریج الحدیث: «مسند شافعي 1645»
الحكم على الحديث: مسند شافعي 1645
حدیث نمبر: 11268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي سَمْعَانُ بْنُ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" أَهَا هُنَا مِنْ آلِ فُلَانٍ أَحَدٌ؟" فَقَالَ ذَاكَ مِرَارًا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنْ مُؤَخِّرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِاسْمِكَ إِلَّا لِخَيْرٍ؛ إِنَّ فُلَانًا، لِرَجُلٍ مِنْهُمْ، مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ، فَلَوْ رَأَيْتَ أَهْلَهُ وَمَنْ يَتَحَرَّوْنَ أَمْرَهُ قَامُوا فَقَضَوْا عَنْهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الْبَغْدَادِيِّ. وَرُوِيَ فِي حُلُولِ الدَّيْنِ عَلَى الْمَيِّتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْقُوفًا، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت پر نماز جنازہ پڑھی، جب سلام پھیر لیا تو پوچھا: ”کیا فلاں قبیلے کا کوئی شخص ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا جو تمام لوگوں سے پیچھے بیٹھا تھا وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”میں نے کسی بھلائی کے لیے ہی تیرا نام لیا ہے، سن! فلاں آدمی، جو انہی میں سے ایک شخص تھا، اپنے قرضے کی وجہ سے قید ہے۔ اگر آپ اس کے گھر والوں کو یا تلاش کرنے والوں کو دیکھیں (تو انھیں بتا دیں کہ وہ) اس کا قرض ادا کر دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11268]
2379. -- باب: لا يؤاجر الحر في دين عليه، ولا يلازم إذا لم يوجد له شيء
-- باب: آزاد انسان کو اس پر موجود قرض کی وجہ سے مزدور نہیں بنایا جائے گا، اور اگر اس کے پاس کچھ نہ پایا جائے تو اس سے چمٹے نہیں رہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 11269
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ"، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کچھ پھل خریدے تو کسی آفت کی وجہ سے وہ ضائع ہو گئے اور اس پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر صدقہ کرو۔“ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن پھر بھی اس کا مکمل قرض ادا نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ تمہیں مل گیا ہے اسے لے لو، تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11269]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1556»
الحكم على الحديث: صحيح