السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2385. -- باب: استحلاف من ذكر عسرة
-- باب: جو شخص تنگ دستی کا دعویٰ کرے اس سے قسم لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11290
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أنبأ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" كَانَا يَسْتَحْلِفَانِ الْمُعْسِرَ: بِاللهِ مَا تَجِدُ مَا تَقْضِيهِ مِنْ عَرْضٍ، وَلَا فَرْضٍ، أَوْ قَالَ: نَاضٍّ، وَلَئِنْ وَجَدْتَ مِنْ حَيْثُ لَا يُعْلَمُ لَتَقْضِيَنَّهُ، ثُمَّ يُخَلِّيَانِ سَبِيلَهُ".
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تنگ دست آدمی سے اللہ کی قسم لیتے تھے کہ کیا واقعی تیرے پاس ادائیگی کے لیے کچھ نہیں ہے؟ کوئی سامان اور نہ کسی سے قرض لے کر یا فرمایا: کوئی درہم اور اگر تجھے کسی سے کچھ مل جائے جس کا ہمیں پتہ نہ چلے تو تو اس سے ادائیگی کرے گا۔ پھر اس کا راستہ چھوڑ دیتے، یعنی اسے مہلت دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11290]
2386. -- باب: حبسه إذا اتهم، وتخليته متى علمت عسرته وحلف عليها
-- باب: جب اس پر (مال چھپانے کی) تہمت ہو تو اسے قید کرنا، اور جب اس کی تنگ دستی کا علم ہو جائے اور وہ اس پر قسم کھا لے تو اسے چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11291
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ".
حکیم بن معاویہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی تہمت میں دن کے کچھ حصے تک قید رکھا، پھر اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11291]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق 15313»
الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزاق 15313
حدیث نمبر: 11292
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ السَّقَطِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنَّمَا الْحَبْسُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لِلْإِمَامِ، فَمَا حَبَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ جَوْرٌ".
ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قید کرنا اس وقت تک ہے جب تک امام کے لیے مسئلہ واضح نہ ہو، جب مسئلہ واضح ہو جائے تو اس کے بعد قید کیے رکھنا ظلم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11292]
2387. -- باب: من باع سلعة بدين ثم طلب منه كفيلا
-- باب: جس شخص نے کوئی سامان ادھار بیچا پھر اس (خریدار) سے ضامن کا مطالبہ کیا۔
حدیث نمبر: 11293
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٨٩⦘ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ: بِعْتُ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ، فَلَمَّا بِعْتُهُ إِيَّاهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ مُفْلِسٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ شُرَيْحًا فَقُلْتُ: خُذْ لِي مِنْهُ كَفِيلًا فَقَالَ شُرَيْحٌ:" مَالُكَ حَيْثُ وَضَعْتَهُ"، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ لِي كَفِيلًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي شَرَطْتُ عَلَيْهِ، فَإِنِ اتَّبَعَتْهَا نَفْسِي فَأَنَا أَحَقُّ بِهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" قَدْ أَقْرَرْتَ بِالْبَيْعِ، فَبَيِّنَتُكَ عَلَى شَرْطِكَ".
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سامان بیچا، جب میں نے وہ سامان بیچ لیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ تو کنگال ہے، تو میں اسے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس لایا اور کہا: آپ میرے لیے اس سے کفیل لیں، تو شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: آپ کا مال وہیں رہے گا جہاں آپ نے بیچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کفیل لینے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے کہا: میں نے اس پر شرط لگائی تھی کہ اگر میرے دل نے چاہا تو میں اس مال کا زیادہ حق دار ہوں گا، تو شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: تو نے بیع کا اقرار کیا ہے لیکن اپنی شرط پر کوئی دلیل تو لا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب التفليس/حدیث: 11293]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرازق 14295»
الحكم على الحديث: مصنف عبدالرازق 14295