السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2389. -- باب: البلوغ بالسن
-- باب: عمر کے لحاظ سے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11304
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: هَذَا ذِكْرُ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا، قَالَ يَعْقُوبُ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ⦗٩٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: هَذَا ذِكْرُ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي قَاتَلَ فِيهَا، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَنْبَلٍ.
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی کا تذکرہ ہے، جن میں آپ نے جہاد کیا (دوسری سند میں) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی کا تذکرہ ہے، جن میں آپ نے جہاد کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11304]
حدیث نمبر: 11305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ:" كَانَتْ بَدْرٌ لِسَنَةٍ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَأُحُدٌ بَعْدَهَا بِسَنَةٍ وَالْخَنْدَقُ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَبَنِي الْمُصْطَلِقِ سَنَةَ خَمْسٍ وَخَيْبَرُ سَنَةَ سِتٍّ، وَالْحُدَيْبِيَةُ فِي سَنَةِ خَيْبَرَ، وَالْفَتْحُ سَنَةَ ثَمَانٍ وَقُرَيْظَةُ فِي سَنَةِ الْخَنْدَقِ".
امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ بدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کر کے آنے کے ڈیڑھ سال بعد ہوئی اور غزوہ احد ایک سال بعد ہوئی اور خندق چار سال بعد اور بنی مصطلق پانچ سال بعد اور غزوہ خیبر چھٹے سال اور حدیبیہ بھی اسی سال اور فتح مکہ آٹھویں سال اور غزوہ بنو قریظہ خندق والے سال ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11305]
حدیث نمبر: 11306
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ:" كَانَتْ غَزْوَةُ أُحُدٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ".
محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: غزوہ احد شوال 3 ھ میں ہوا اور غزوہ خندق شوال 5 ھ میں ہوا۔ شیخ فرماتے ہیں: غزوہ خندق کے بارے میں عروہ، ابن شہاب اور مالک بن انس کا قول ہے کہ وہ 4 ھ میں ہوا۔ یہ اس شخص کے قول سے بہتر ہے جو کہتا ہے کہ غزوہ خندق پانچ ھ میں ہوا تھا؛ کیونکہ ان کا قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے موافق ہے۔ ہاں اہل علم نے دونوں اقوال کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔ غزوہ احد ہجرت کے اڑھائی سال بعد ہوئی اور خندق ساڑھے چار سال بعد ہوئی اور جس نے چار سال کہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ چار سال مکمل کرنے کے بعد اور پانچواں سال ختم ہونے سے پہلے؛ اور جس شخص نے پانچ سال کہے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ میں 14 سال کا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ میں چودھویں میں داخل ہو چکا تھا اور غزوہ خندق میں ان کا کہنا کہ میں 15 سال کا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں 15 مکمل کر چکا تھا، لیکن انہوں نے زیادتی نقل نہیں کی؛ کیونکہ وہ دلالت حال اور پندرہ سال بغیر زیادتی کے کا مطلب سمجھتے تھے۔ «وَاللّٰہُ اَعْلَمُ»
اور یہ میرے نزدیک زیادہ درست ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ احد اور خندق کے درمیان دو سال کا فرق تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11306]
اور یہ میرے نزدیک زیادہ درست ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ احد اور خندق کے درمیان دو سال کا فرق تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11306]
حدیث نمبر: 11307
وَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِكَانِيُّ، عَنْ أَبِي مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ" فَإِنْ لَمْ يَحْتَلِمْ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ ثَمَانِ عَشْرَةَ فَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ التَّوْبَكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّائِكَانِيُّ، فذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ مَوْضُوعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ هَذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِوَضْعِ الْحَدِيثِ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُذْلَانِ، وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا:" الصَّبِيُّ إِذَا بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ أُقِيمَتْ عَلَيْهِ الْحُدُودُ"، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ، وَهُوَ بِإِسْنَادِهِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ ”تین چیزوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے حتی کہ احتلام ہو جائے، اگر احتلام نہ ہو تو اٹھارہ سال کا ہو جائے تب تک۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت فرماتے ہیں: ”بچہ جب پندرہ سال کا ہو جائے تو اس پر حد قائم ہو گی۔“
پہلی روایت کو محمد بن قاسم طائکانی نے ایک لمبی موضوع (من گھڑت) حدیث میں ذکر کیا ہے، اور یہ محمد بن قاسم حدیثیں گھڑنے میں مشہور تھا، ہم رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11307]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت فرماتے ہیں: ”بچہ جب پندرہ سال کا ہو جائے تو اس پر حد قائم ہو گی۔“
پہلی روایت کو محمد بن قاسم طائکانی نے ایک لمبی موضوع (من گھڑت) حدیث میں ذکر کیا ہے، اور یہ محمد بن قاسم حدیثیں گھڑنے میں مشہور تھا، ہم رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11307]
2390. -- باب: البلوغ بالاحتلام
-- باب: احتلام کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q11308
قَالَ اللهُ تَعَالَى {حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ} [النساء: 6] ، قَالَ مُجَاهِدٌ: الْحُلُمَ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ﴾ ”یہاں تک کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں۔“ [سورة النساء: 6]
امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(اس سے مراد) بلوغت (احتلام) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: Q11308]
امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(اس سے مراد) بلوغت (احتلام) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: Q11308]
حدیث نمبر: 11308
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ" وَرُوِّينَاه مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ. وَمِنْ حَدِيثِ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا. وَمِنْ حَدِيثِ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ وہ نیند سے بیدار ہو جائے اور بچے سے حتیٰ کہ اسے احتلام ہو اور مجنوں سے حتیٰ کہ اسے ہوش آ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11308]
حدیث نمبر: 11309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ ⦗٩٥⦘ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ" وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوعًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا کہ ”احتلام کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ ہی دن بھر رات تک خاموش رہنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11309]
حدیث نمبر: 11310
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَطَّانِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ، ثنا أَبُو رَزِينٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" إِذَا احْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ فَعَلَيْهَا مَا عَلَى أُمَّهَاتِهَا مِنَ السِّتْرِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”جب بچی کو احتلام ہو تو اس پر اس طرح پردہ کرنا فرض ہو جاتا ہے جس طرح اس کی ماؤں پر ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11310]
2391. -- باب: بلوغ المرأة بالحيض
-- باب: عورت کے حیض کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11311
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیض والی (بالغ عورت) کی نماز بغیر دوپٹے کے نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11311]
حدیث نمبر: 11312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةِ الطَّلَحَاتِ، فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ، فَأَلْقَى إِلِيَّ حَقْوَهُ وَقَالَ:" شُقِّيهِ بِشِقَّتَيْنِ"، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا، وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا؛ فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا.
محمد فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صفیہ اُمِ طلحہ کے پاس گئیں اور اس کی بیٹیاں دیکھیں تو فرمایا: میرے حجرے میں ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں داخل ہوئے۔ آپ نے میری طرف اپنی چادر پھینکی اور فرمایا: ”اس کے دو حصے کر دے، ایک حصہ اسے دے اور ایک حصہ اسے دے دینا جو اُمِ سلمیٰ کے پاس ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بالغ ہو چکی ہے“ یا فرمایا: ”میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11312]