السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2391. -- باب: بلوغ المرأة بالحيض
-- باب: عورت کے حیض کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11313
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ مَاهَانَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:" إِذَا حَاضَتِ الْجَارِيَةُ وَجَبَ عَلَيْهَا مَا يَجِبُ عَلَى أُمِّهَا"، تَقُولُ: مِنَ السِّتْرِ.
(١١٣١٣) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب لڑکی کو حیض آئے تو اس پر اس طرح پردہ فرض ہوجاتا ہے جس طرح اس کی ماں پر ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11313]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابن الجعد 2150»
الحكم على الحديث: اخرجه ابن الجعد 2150
2392. -- باب: البلوغ بالإنبات
-- باب: زیرِ ناف بال اگنے کے ذریعے بالغ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11314
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَرِيبًا، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ"، ⦗٩٦⦘ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ، فَقَالَ:" لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
(١١٣١٤) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب بنو قریظہ نے کہا کہ جو فیصلہ حضرت سعد کردیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں بلوا بھیجا اور وہ قریب ہی رہتے تھے، وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجا ؤ، وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضا مند ہیں۔ انھوں نے کہا: میرا فیصلہ ان میں یہ ہے کہ ان کے جنگ جو قتل کردیے جائیں اور بچوں کو قتل کردیا جائے تو آپ نے فرمایا: آپ نے ان میں وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11314]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3043»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11315
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٩٧⦘ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ:" كُنْتُ مِنْ سَبْيِ قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنَبْتَ الشَّعْرَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتِ الشَّعْرَ لَمْ يُقْتَلْ، وَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ".
(١١٣١٥) حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہوتے اسے قتل کردیتے اور جس کے نہیں اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیتے تھے تو میں ان میں سے تھا جس کے بال ابھی نہیں اگے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11315]
حدیث نمبر: 11316
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَشَكُّوْا فِيَّ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْظَرَ إِلِيَّ: هَلْ أَنَبَتُّ؟ فَنَظَرُوا إِلِيَّ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ".
(١١٣١٦) حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ والے دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، انھیں میرے بارے میں شک ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے زیر ناف بال دیکھو، آیا بال اگے ہیں یا نہیں! انھوں نے مجھے دیکھا تو بال نہیں اگے تھے، انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کرلیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11316]
حدیث نمبر: 11317
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ:" عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنَّا مُحْتَلِمًا، أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ، قُتِلَ قَالَ: فَنَظَرُوا إِلِيَّ فَلَمْ تَكُنْ نَبَتَتْ عَانَتِي، فَتُرِكْتُ".
(١١٣١٧) حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم قریظہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: کے سامنے پیش کئے گئے تو جو شخص احتلام والا ہوتا یا اس کے زیر ناف بال اگ گئے ہوتے وہ اسے قتل کردیتے۔ فرماتے ہیں: انھوں نے مجھے دیکھا تو میرے بال نہیں اگے تھے تو انھوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11317]
حدیث نمبر: 11318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، أَخْبَرَهُ" أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ جَرَّدُوهُ، فَلَمَّا لَمْ يَرَوَا الْمَوَاسِيَ جَرَتْ عَلَى شَعْرِهِ، يُرِيدُ عَانَتَهُ، تَرَكُوهُ مِنَ الْقَتْلِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.
(١١٣١٨) حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ جو بنو قریظہ کے ایک آدمی تھے، انھوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے میرے کپڑے اتارے تو انھوں نے دیکھا کہ بال ابھی تک استرے سے مونڈے نہیں گئے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے قتل نہیں کیا اور جسے احتلام نہ آیا ہوتا یا اس کے بال نہ اگے ہوتے وہ اسے چھوڑ دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11318]
حدیث نمبر: 11319
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ، حَدَّثَنِي أَبْنَاءُ قُرَيْظَةَ" أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ، أَوْ لَمْ يَكُنِ احْتَلَمَ أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ تُرِكَ".
(١١٣١٩) کثیر بن سائب فرماتے ہیں: قریظہ والے کہتے ہیں کہ انھیں قریظہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا چنانچہ جسے احتلام آچکا ہوتا یا بال اگ آئے ہوتے تو اسے قتل کردیتے تھے ورنہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11319]
حدیث نمبر: 11320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رُفِعَ إِلَيْهِ غُلَامٌ ابْتَهَرَ جَارِيَةً فِي شِعْرِهِ، فَقَالُوا: انْظُرُوا إِلَيْهِ، فَلَمْ يُوجَدْ أَنْبَتَ، فَدَرَأَ عَنْهُ الْحَدَّ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَعْضُهُمْ يَرْوِيهِ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَوْلُهُ: ابْتَهَرَ، الِابْتِهَارُ أَنْ يَقْذِفَهَا بِنَفْسِهِ، يَقُولُ: فَعَلْتُ بِهَا كَاذِبًا، فَإِنْ كَانَ قَدْ فَعَلَ فَهُوَ الِابْتِيَارُ.
(١١٣٢٠) یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک لڑکا لایا گیا جس نے اپنے اسعار میں ایک لڑکی پر اپنے ساتھ زنا کا بہتان لگایا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے دیکھو جب دیکھا تو پتہ چلا کہ اس کے زیر ناف بال نہیں اگے تو آپ نے اس سے حد ہٹالی۔ ابو عبید کہتے ہیں: ابتھر کا معنی ہے کہ اس نے بہتان لگایا کہ میں نے اس کے ساتھ یہ کیا ہے لیکن وہ اپنے قول میں جھوٹا ہے اگر حقیقت میں کیا ہو تو اسے ابتیار کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11320]
حدیث نمبر: 11321
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِابْنِ الصَّعْبَةِ قَدِ ابْتَهَرَ امْرَأَةً فِي شِعْرِهِ، قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى مُؤْتَزَرِهِ"، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوهُ أَنْبَتَ الشَّعْرَ، فَقَالَ:" لَوْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ لَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ".
(١١٣٢١) یحیٰی بن حبان فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ابن صعبہ کو لایا گیا، اس نے اپنے شعروں میں اپنے ساتھ ایک عورت پر زنا کا اعتراف کیا تھا تو آپ نے فرمایا: اسے دیکھو تو انھوں نے اسے دیکھا کہ اس کے بال ابھی نہیں اگے تھے، آپ نے فرمایا: اگر اس کے بال اگ چکے ہوتے تو میں اس پر حد لگاتا۔ عبید بن عمر کہتے ہیں: حضرت عثمان کے پاس ایک لڑکا لایا گیا جس نے چوری کی تھی تو آپ نے فرمایا: اس کی چادر کے نیچے دیکھو انھوں نے دیکھا تو اس کے بال نہیں اگے تھے۔ چنانچہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11321]
حدیث نمبر: 11322
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارٌ هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ:" إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ الْحَدَّ، فَارْتَبْتَ فِيهِ احْتَلَمَ أَمْ لَا، انْظُرْ إِلَى عَانَتِهِ".
(١١٣٢٢) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب بچے پر حد واجب ہوجائے اور شک ہو کہ آیا اسے احتلام ہوتا ہے یا نہیں تو اس کے زیر ناف بال دیکھے جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحجر/حدیث: 11322]