السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2398. -- كتاب الصلح
-- کتاب الصلح (صلح کے مسائل کا بیان)۔
حدیث نمبر: 11344
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلح کرانا مسلمانوں کے درمیان درست ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11344]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 2 /366۔ 877»
الحكم على الحديث: حسن
2399. -- باب: صلح الإبراء والحطيطة، وما جاء في الشفاعة في ذلك
-- باب: براءت (حق معاف کرنے) اور حطیطہ (کمی کرنے) کی صلح کا بیان، اور اس سلسلے میں سفارش کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ حَتَّى كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ، ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَضَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے سے سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ ہٹا کر باہر آئے اور فرمایا: ”اے کعب! اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف معاف کرنے کا اشارہ کیا، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! پھر اس نے بقیہ ادا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔457»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11346
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ. قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ فَاقْضِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے مسجد کے اندر تقاضا کیا، دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے سے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: ”اے کعب!“ انہوں نے کہا: ”حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کر دو۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اٹھ، اس کا قرض ادا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11346]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11347
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَلَكِنْ قَالَ:" سَأَغْدُو عَلَيْكَ"، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ وَبَقِيَتْ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ وَهُوَ جَالِسٌ: اسْمَعْ عُمَرُ مَا يَقُولُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَوَاللهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے والد احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور ان پر قرض تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے قرض میں بڑی شدت اختیار کی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ سے اس بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (قرض خواہوں) سے فرمایا: ”وہ میرے باغ کی کھجوریں لے لیں اور بقیہ میرے والد کو معاف کر دیں۔“ انہوں نے اس سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ باغ دیا اور نہ ہی پھل تڑوائے، پھر فرمایا: ”کل صبح میں تیرے باغ میں آؤں گا۔“ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور باغ میں چلتے پھرتے رہے اور برکت کی دعا کرتے رہے۔ پھر میں نے پھل توڑا اور قرض خواہوں کا قرض ادا کیا اور میرے پاس پھل بچ بھی گیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا۔ وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”عمر! سن رہے ہو جو جابر کہہ رہا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہم تو پہلے بھی جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ کی قسم! آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11347]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2601»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَقَالَ لِأَبِي لُبَابَةَ فِي يَتِيمٍ لَهُ خَاصَمَهُ فِي نَخْلَةٍ فَقَضَى بِهَا لِأَبِي لُبَابَةَ، فَبَكَى الْغُلَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ:" أَعْطِهِ نَخْلَتَكَ"، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهَا وَلَكَ عِذْقٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ: لَا، فَسَمِعَ بِذَلِكَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ فَقَالَ لِأَبِي لُبَابَةَ: أَتَبِيعُ عِذْقَكَ ذَلِكَ بِحَدِيقَتِي هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: النَّخْلَةُ الَّتِي سَأَلْتَ لِلْيَتِيمِ، إِنْ أَعْطَيْتُهُ أَلِي بِهَا عِذْقٌ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، ثُمَّ قُتِلَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُبَّ عِذْقٍ مُذَلَّلٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحَةِ فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ دُونَ قِصَّةِ أَبِي لُبَابَةَ، وَكَأَنَّ قِصَّةَ أَبِي لُبَابَةَ ذَكَرَهَا الزُّهْرِيُّ مُرْسَلًا، فَقَدْ رَوَاهَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا ایک یتیم کے ساتھ ایک باغ کے بارے میں جھگڑا چل رہا تھا، اس باغ کا فیصلہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ہو گیا تو وہ غلام (یتیم) رونے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنا کھجوروں کا باغ اس یتیم کو دے دو۔“ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے دے دے، تیرے لیے جنت میں باغوں کے خوشے ہوں گے۔“ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے پھر انکار کر دیا، سیدنا ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ نے یہ سارا قصہ سنا، پھر سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تو اپنا باغ میرے اس باغ کے بدلے میں مجھے فروخت کرے گا؟ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، سیدنا ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ جو باغ یتیم کو دینا چاہتے تھے، اگر میں دے دوں تو کیا میرے لیے بھی جنت میں خوشے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں جواب دیا، پھر سیدنا ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن شہید ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے خوشے جنت میں ابودحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11348]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11349
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ حَتَّى حَطَّ الْخَمْسَمِائَةِ، فَكَتَبَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَأَبْرَأَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِالْخَمْسِمِائَةِ فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ لِلشُّهُودِ:" هَلْ وَضَعَ الْخَمْسَمِائَةِ فِي كَفِّهِ؟" فَقَالُوا: لَا، فَأَمَرَ فَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَنَحْنُ أَيْضًا لَا نُجِيزُ الْحَطَّ إِذَا كَانَ بِشَرْطٍ.
ابو اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے دوسرے پر ایک ہزار پانچ سو درہم تھے۔ انہوں نے وہ دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ وہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئے۔ پھر اس نے ایک خط لکھا اور اس آدمی کو بری کر دیا۔ پھر دوبارہ اس سے پانچ سو درہم کا مطالبہ کیا تو وہ دونوں اپنا معاملہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس لے کر گئے۔ قاضی صاحب نے گواہوں سے کہا: کیا پانچ سو درہم اس آدمی کے پاس ہیں؟ انہوں نے جواب ہاں میں دیا تو قاضی صاحب نے انہیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: اور ہم کمی کو جائز نہیں مانتے جب کوئی شرط ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11349]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2400. -- باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع
-- باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
حدیث نمبر: 11350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11350]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11351
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، شَكَّ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ:" إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا".
دوسری روایت میں اضافہ ہے: ”مگر ایسی صلح جو حلال کو حرام کر دے وہ ناجائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11351]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا ابْنُ زَبَالَةَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى رِوَايَتِهِ؛ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَرِوَايَةُ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَى مَا قَبْلَهَا قَوِيَتَا.
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11352]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 11353
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَذَكَرَهُ وَفِيهِ:" وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا".
ادریس الاودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن بردہ رحمہ اللہ نے ایک کتاب نکالی اور کہا: یہ وہ کتاب ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجی تھی، اس میں لکھا تھا کہ: ”لوگوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11353]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح