🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2398. -- كتاب الصلح
-- کتاب الصلح (صلح کے مسائل کا بیان)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11344
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
(١١٣٤٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلح کرانا مسلمانوں کے درمیان درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11344]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 2 /366۔ 877»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2399. -- باب: صلح الإبراء والحطيطة، وما جاء في الشفاعة في ذلك
-- باب: براءت (حق معاف کرنے) اور حطیطہ (کمی کرنے) کی صلح کا بیان، اور اس سلسلے میں سفارش کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ح قَالَ: وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ حَتَّى كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ، ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَضَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
(١١٣٤٥) حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے مسجد نبوی میں عبداللہ بن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی آوزیں بلند ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے سے سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردہ ہٹا کر باہر آئے اور فرمایا: اے کعب! اپنے قرض میں سے اتنا کم کردو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف معاف کرنے کا اشارہ کیا۔ کعب نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! پھر اس نے بقیہ ادا کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔457»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11346
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ. قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ فَاقْضِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١١٣٤٦) حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد کعب بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ابن ابی حدرد سے مسجد کے اندر تقاضا کیا، دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرے سے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: اے کعب! انھوں نے کہا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کر دو۔ حضرت کعب نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن ابی حدرد سے کہا: اٹھ اس کا قرض اداکر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11346]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11347
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ، قَالَ جَابِرٌ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَلَكِنْ قَالَ:" سَأَغْدُو عَلَيْكَ"، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ، قَالَ: فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ وَبَقِيَتْ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ وَهُوَ جَالِسٌ: اسْمَعْ عُمَرُ مَا يَقُولُ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَوَاللهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ.
(١١٣٤٧) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد احد کی لڑائی میں شہید ہوگئے اور ان پر قرض تھا۔ قرض خواہوں نے اپنے قرض میں بڑی شدت اختیار کی۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ سے اس بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (قرض خواہوں) سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجوریں لے لیں اور بقیہ میرے والد کو معاف کردیں۔ انھوں نے اس سے انکار کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ باغ دیا اور نہ پھل تڑوائے، پھر فرمایا: کل صبح میں تیرے باغ میں آؤں گا۔ صبح کے وقت آپ آئے اور باغ میں چلتے پھرتے رہے اور برکت کی دعا کرتے رہے۔ پھر میں نے پھل توڑا اور قرض خواہوں کا قرض ادا کیا اور میرے پاس پھل بچ بھی گیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا۔ وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا: عمر سن رہے ہو جو جابر کہہ رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم تو پہلے بھی جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ کی قسم! آپ اللہ کے رسول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11347]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2601»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَقَالَ لِأَبِي لُبَابَةَ فِي يَتِيمٍ لَهُ خَاصَمَهُ فِي نَخْلَةٍ فَقَضَى بِهَا لِأَبِي لُبَابَةَ، فَبَكَى الْغُلَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي لُبَابَةَ:" أَعْطِهِ نَخْلَتَكَ"، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهَا وَلَكَ عِذْقٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ: لَا، فَسَمِعَ بِذَلِكَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ فَقَالَ لِأَبِي لُبَابَةَ: أَتَبِيعُ عِذْقَكَ ذَلِكَ بِحَدِيقَتِي هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: النَّخْلَةُ الَّتِي سَأَلْتَ لِلْيَتِيمِ، إِنْ أَعْطَيْتُهُ أَلِي بِهَا عِذْقٌ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، ثُمَّ قُتِلَ ابْنُ الدَّحْدَاحَةِ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُبَّ عِذْقٍ مُذَلَّلٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحَةِ فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ دُونَ قِصَّةِ أَبِي لُبَابَةَ، وَكَأَنَّ قِصَّةَ أَبِي لُبَابَةَ ذَكَرَهَا الزُّهْرِيُّ مُرْسَلًا، فَقَدْ رَوَاهَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
(١١٣٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ابو لبابہ کے بارے میں بیان کیا کہ ابو لبابہ کا ایک یتیم کے ساتھ ایک باغ کے بارے میں جھگڑا چل رہا تھا۔ اس باغ کا فیصلہ ابو لبابہ کے حق میں ہوگیا تو وہ غلام (یتیم) رونے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو لبابہ سے کہا: تم اپنا کھجوروں کا باغ اس یتیم کو دے دو۔ ابو لبابہ نے انکار کردیا۔ آپنی فرمایا: تو اسے دے دے، تیرے لیے جنت میں باغوں کے خوشے ہوں گے۔ ابو لبابہ نے پھر انکار کردیا۔ ابن دحداحہ رضی اللہ عنہ نے یہ سارا قصہ سنا، پھر ابو لبابہ سے کہا: کیا تو اپنا باغ میرے اس باغ کے بدلے میں مجھے فروخت کرے گا؟ ابو لبابہ نے کہا: ہاں۔ ابن دحداحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ جو باغ یتیم کو دینا چاہتے تھے۔ اگر میں دے دوں تو کیا میرے لیے بھی جنت میں خوشے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر ابن دحداحہ احد کے دن شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنے خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11348]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11349
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ حَتَّى حَطَّ الْخَمْسَمِائَةِ، فَكَتَبَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَأَبْرَأَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ بِالْخَمْسِمِائَةِ فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ لِلشُّهُودِ:" هَلْ وَضَعَ الْخَمْسَمِائَةِ فِي كَفِّهِ؟" فَقَالُوا: لَا، فَأَمَرَ فَرُدَّ عَلَيْهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَنَحْنُ أَيْضًا لَا نُجِيزُ الْحَطَّ إِذَا كَانَ بِشَرْطٍ.
(١١٣٤٩) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص کے دوسرے پر ایک ہزار پانچ سو درہم تھے۔ انھوں نے وہ دینے سے انکار کردیا حتیٰ کے وہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئے۔ پھر اس نے ایک خط لکھا اور اس آدمی کو بری کردیا۔ پھر دوبارہ اس سے پانچ سو درہم کا مطالبہ کیا تو وہ دونوں اپنا معاملہ قاضی شریح کے پاس لے کر گئے۔ قاضی نے گواہوں سے کہا: کیا پانچ سو درہم اس آدمی کے پاس ہیں؟ انھوں نے جواب ہاں میں دیا تو قاضی صاحب نے انھیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: اور ہم کمی کو جائز نہیں مانتے جب کوئی شرط ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11349]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2400. -- باب: صلح المعاوضة، وأنه بمنزلة البيع يجوز فيه ما يجوز في البيع، ولا يجوز فيه ما لا يجوز في البيع
-- باب: معاوضے کی صلح کا بیان، اور یہ کہ یہ بیع (خرید و فروخت) کے قائم مقام ہے، اس میں وہ سب جائز ہے جو بیع میں جائز ہے، اور وہ ناجائز ہے جو بیع میں ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ".
(١١٣٥٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے درمیان صلح جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11350]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11351
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَوْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، شَكَّ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، زَادَ:" إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا".
(١١٣٥١) دوسری روایت میں اضافہ ہے مگر ایسی صلح جو حلال کو حرام کر دے وہ ناجائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11351]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11352
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا ابْنُ زَبَالَةَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى رِوَايَتِهِ؛ فَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ، وَرِوَايَةُ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ إِذَا انْضَمَّتْ إِلَى مَا قَبْلَهَا قَوِيَتَا.
(١١٣٥٢) کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے درمیان صلح جائز ہے مگر جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11352]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11353
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَذَكَرَهُ وَفِيهِ:" وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا".
(١١٣٥٣) ادریس الاودی فرماتے ہیں سعید بن بردہ نے ایک کتاب نکالی اور کہا: یہ وہ کتاب ہے جو عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ کی طرف بھیجی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ لوگوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جو حرام کو حلال کر دے اور حلال کو حرام کر دے وہ جائز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلح/حدیث: 11353]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں