🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2444. -- باب: من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا
-- باب: جس شخص نے کوئی تختہ غصب کیا پھر اسے کسی کشتی میں لگا دیا یا اس پر دیوار تعمیر کر لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11543
وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: الْحَدِيثُ عِنْدِي حَدِيثُ سُهَيْلٍ.
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سہیل کی حدیث قابلِ اعتماد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11543]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11544
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ نُعْمَانَ الْبَزَّازُ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا، فَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ" ⦗١٦٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْحُرْفِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا، فَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ".
عبداللہ بن السائب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”تم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی کا سامان مذاق کے طور پر نہ لے اور نہ سچائی کے طور پر۔ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی لکڑی لے تو اسے واپس کر دے۔“ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان مذاق کے طور پر نہ لے اور نہ سچائی کے طور پر۔ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا عصاء پکڑے تو اسے واپس کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11544]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11545
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ".
ابو حرہ رقاشی رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا مال حلال نہیں ہے مگر اس کی رضامندی سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11545]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2445. -- باب: من غصب جارية فباعها ثم جاء رب الجارية
-- باب: جس شخص نے کوئی لونڈی غصب کی پھر اسے بیچ دیا، پھر اس لونڈی کا اصل مالک آ گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11546
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا مال کسی آدمی کے پاس پایا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اور خریدنے والا اس کا پیچھا کرے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11546]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11547
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا بَاعَ جَارِيَةً لِأَبِيهِ، وَأَبُوهُ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَبُوهُ أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، وَقَدْ وَلَدَتْ مِنَ الْمُشْتَرِي، فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَضَى لِلرَّجُلِ بِجَارِيَتِهِ وَأَمَرَ الْمُشْتَرِي أَنْ يَأْخُذَ بَيِّعَهُ بِالْخَلَاصِ، فَلَزِمَهُ، فَقَالَ أَبُو الْبَائِعِ: مُرْهُ فَلْيُخَلِّ عَنِ ابْنِي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَأَنْتَ فَخَلِّ عَنِ ابْنِهِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی ایک لونڈی بیچ دی اور اس کا باپ موجود نہیں تھا، جب وہ آیا تو اس نے انکار کر دیا کہ وہ بیع کو قائم رکھے اور اس کی لونڈی نے خریدنے والے کے پاس بچہ بھی جنم دیا۔ وہ اپنا جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ آپ نے لونڈی والے کے لیے لونڈی کا فیصلہ کیا اور خریدنے والے کو حکم دیا کہ وہ اپنی قیمت واپس لے لے، پس اس نے ایسا ہی کیا۔ بیچنے والے کے باپ نے کہا: ”اسے کہو کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تو اس کے بیٹے کو چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11547]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ وَجَدَ جَارِيَتَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ قَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ، فَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا جَارِيَتُهُ، وَأَقَامَ الَّذِي فِي يَدِهِ الْجَارِيَةُ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا، فَقَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ:" يَأْخُذُ صَاحِبُ الْجَارِيَةِ جَارِيَتَهُ، وَيُؤْخَذُ الْبَائِعُ بِالْخَلَاصِ".
عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی لونڈی کسی دوسرے آدمی کے پاس دیکھی اور اس سے بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔ اس نے دلیل قائم کی کہ وہ اس کی لونڈی ہے اور جس کے پاس تھی، اس نے بھی دلیل پیش کی کہ اس نے اسے خریدا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لونڈی والا اپنی لونڈی لے لے اور بیچنے والے سے قیمت لی جائے گی۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: قبضہ اس چیز میں نہیں جس کو کسی نے بیچا اور وہ اس کا مالک نہ ہو۔ وہ تو اس کے ساتھی کی ہے اور خریدنے والا بیچنے والے کے پیچھے جائے جو اس نے اسے دیا اور بیچنے والے سے لیا جائے گا جو اس نے دیا تھا۔ زائد نہیں لیا جائے گا اور نہ کوئی اور چیز۔ شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس نے قبضہ کی شرط لگائی تو وہ احمق ہے۔ جو تو نے بیچا اس پہ قائم رہ یا جو تو نے لیا اسے لوٹا دے۔ قبضہ کوئی چیز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ بیچنے والے سے قبضے کے ساتھ لیا جائے گا ان کی مراد قیمت اور بچے کی قیمت ہے، یہ بعد والے قول کے موافق ہے اور اس حدیث کے (بھی موافق ہے) جو ہم نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11548]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2446. -- باب: من قتل خنزيرا أو كسر صليبا أو طنبورا
-- باب: جس شخص نے کسی خنزیر کو مار ڈالا یا صلیب اور طنبور (باجے) کو توڑ دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ" لَفْظُ عَبْدِ الْأَعْلَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ابن مریم عادل حکمران بن کر اتریں گے۔ وہ خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑ دیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ کوئی بھی لینے والا نہ ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11549]
تخریج الحدیث: «بخاري 2222، مسلم 155»

الحكم على الحديث: بخاري 2222، مسلم 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11550
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَحَوْلَ الْبَيْتِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ بِيَدِهِ وَيَقُولُ:" {جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ} [سبأ: ٤٩] ، {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ} [الإسراء: ٨١] الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں 360 بت نصب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک چھڑی کے ساتھ توڑنے لگے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ﴾ [سورة سبأ: 49] ”حق آچکا ہے اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے اور نہ آئندہ کچھ ہوگا“، ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آگیا اور باطل مغلوب ہو گیا، بیشک باطل مغلوب ہونے والا ہے“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11550]
تخریج الحدیث: «بخاري 2478، مسلم 1781»

الحكم على الحديث: بخاري 2478، مسلم 1781
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11551
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ" أَنَّ رَجُلًا كَسَرَ طُنْبُورًا لِرَجُلٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ".
حضرت ابو حصین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا طنبور (باجا) توڑ دیا، شریح رحمہ اللہ کے پاس معاملہ گیا تو انہوں نے اسے ضامن قرار نہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11551]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2447. -- باب: من أراق ما لا يحل الانتفاع به من الخمر وغيرها وكسر وعاءها
-- باب: جس شخص نے شراب یا دیگر ایسی اشیاء بہا دیں جن سے نفع اٹھانا حلال نہیں اور ان کے برتن توڑ دیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11552
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فُضَيْحٍ وَتَمْرٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أَنَسُ، قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی کھجور اور کھجور کی شراب پلایا کرتا تھا، اچانک ایک آنے والا آیا، اس نے خبر دی کہ شراب حرام ہو چکی ہے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس! اٹھو اور ان مٹکوں کو توڑ دو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنی ایک اوکھلی کی طرف اٹھا اور اس کے نچلے حصے سے مٹکوں کو مارا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11552]
تخریج الحدیث: «بخاري 7253، مسلم 1980»

الحكم على الحديث: بخاري 7253، مسلم 1980
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں