🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2442. -- باب: التشديد في غصب الأراضي وتضمينها بالغصب
-- باب: زمینوں کو غصب کرنے کی وعید اور غصب کی صورت میں ان کی ضمانت لازم ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى ⦗١٦٣⦘ بِنْتَ أَوْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ، يَعْنِي ظُلْمًا، طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ"، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا، قَالَ: اللهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا، قَالَ: فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَبَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ارویٰ بنت اوس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر دعویٰ دائر کیا کہ سعید رضی اللہ عنہ نے اس کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔ وہ عورت مروان کے پاس جھگڑا لے کر آئی۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کیسے اس کی زمین پر قبضہ کر سکتا ہوں جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ مروان نے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا ہے کہ ”جس نے ایک بالشت ظلم کے ساتھ لے لی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ مروان نے کہا: اب میں تجھ سے کسی اور دلیل کا سوال نہیں کرتا، پھر سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: «اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا» ”اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی نظر ختم کر دے اور اسے اس کی زمین میں قتل کر دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ نہ فوت ہوئی حتیٰ کہ اس کی نظر چلی گئی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک گڑھی میں گر کر مر گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11533]
تخریج الحدیث: «بخاري 3198»

الحكم على الحديث: بخاري 3198
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11534
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبِ الْأَرْضَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ أَرْضٍ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور وہ زمین کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوسلمہ! زمین سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جس نے ایک بالشت برابر زمین پر ظلم کیا، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11534]
تخریج الحدیث: «بخاري 2453، مسلم 1612»

الحكم على الحديث: بخاري 2453، مسلم 1612
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ لَهَا ذَلِكَ، فَقَالتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبِ الْأَرْضَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ وَأَبَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِمَا.
ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور لوگوں کے درمیان زمین کے بارے میں جھگڑا تھا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ان کو یہ بتایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابو سلمہ! زمین کے جھگڑے سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”جس نے ایک بالشت برابر زمین کے معاملہ میں ظلم کیا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11535]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11536
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک بالشت زمین ناجائز طور پر حاصل کی، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11536]
تخریج الحدیث: «مسلم 1611»

الحكم على الحديث: مسلم 1611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11537
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الصُّوفِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ يَعْنِي أَبَا خَيْثَمَةَ، قَالَا: ثنا ⦗١٦٤⦘ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلِيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قَالَ:" لَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، لَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، لَعَنَ اللهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْحَسَنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ سُرَيْجٍ وَأَبِي خَيْثَمَةَ.
سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف کیا چیز چھپائی ہے؟“ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی پوشیدہ بات نہیں بتائی جسے لوگوں سے چھپایا ہو ان چار کلمات کے علاوہ۔“ اس نے کہا: یا امیر المؤمنین! وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجی، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جو کسی بدعتی کو پناہ دے، اللہ اس پر لعنت کرے جو زمین کے نشانات تبدیل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11537]
تخریج الحدیث: «مسلم 1978»

الحكم على الحديث: مسلم 1978
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2443. -- باب: ليس لعرق ظالم حق
-- باب: ”ظالم کی رگ (ناحق بوئے گئے پودے یا تعمیر) کا کوئی حق نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ".
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم کے لیے کسی رگ پر کوئی حق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11538]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ ابو داؤد 3073»

الحكم على الحديث: منكر الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11539
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ"، قَالَ: فَاخْتَصَمَ رَجُلَانِ مِنْ بَيَاضَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَرَسَ أَحَدُهُمَا نَخْلًا فِي أَرْضِ الْآخَرِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ مِنْهَا. قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي قَالَ: رَأَيْتُهَا وَإِنَّهُ لِيُضْرَبُ فِي أُصُولِهَا بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتَّى أَخْرَجَتْ.
یحییٰ بن عروہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم کا کسی رگ پر حق نہیں ہے۔“ فرماتے ہیں: بیاضہ قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجوروں کا باغ لگایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کے لیے زمین کا فیصلہ کیا اور کھجور والے کو حکم دیا کہ اپنی کھجوریں نکال لے۔ عروہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے فرمایا: اس کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئی تھیں اور وہ مضبوط کھجوریں تھیں جب نکالی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11539]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَقَدْ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ بَيَاضَةَ يَخْتَصِمَانِ، فَذَكَرَهُ..
محمد بن اسحاق سے اسی معنی میں روایت منقول ہے، اس میں اضافہ ہے کہ راوی نے دیکھا کہ بیاضہ قبیلے کے دو آدمی جھگڑ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11540]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا وَهْبٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ مَكَانَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَأَنَا رَأَيْتُ الرَّجُلَ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ.
پچھلی حدیث کی طرح ہے سوائے ان الفاظ کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا، اور میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ تھے: میں نے آدمی کو دیکھا وہ کھجور کی جڑوں کو ضرب لگا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11541]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2444. -- باب: من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا
-- باب: جس شخص نے کوئی تختہ غصب کیا پھر اسے کسی کشتی میں لگا دیا یا اس پر دیوار تعمیر کر لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11542
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ هُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ" عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ. وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ فَقَالَ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَارِثَةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ، عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي مَضَى ذِكْرُهُ..
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کی لکڑی اس کی رضامندی کے بغیر پکڑے، یہ اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک مسلمان کا مال دوسرے پر حرام کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الغصب/حدیث: 11542]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أحمد 5/420، 2:24003»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں