السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2455. -- باب: المعاملة على زرع البياض الذي بين أضعاف النخل مع المعاملة على النخل
-- باب: کھجور کے درختوں کے معاملے کے ساتھ ان کے درمیان موجود خالی زمین کی زراعت کا معاملہ طے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11631
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْأَصَمُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو مُوسَى الْفَرْوِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِنْهُ مِائَةَ وَسْقٍ، ثَمَانِينَ وَسْقًا تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَسَمَ خَيْبَرَ، فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْطَعَ لَهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ وَالْمَاءِ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ كُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ، فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِمَّنِ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ: أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ تَمْرٍ أَوْ زَرْعٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِيَ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
(١١٦٣١) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے نصف پر معاملہ کیا جو اناج اور پھلوں کی پیداوار ہوگی۔ آپ ہر سال اپنی بیویوں کو ایک سو وسق دیتے تھے۔ اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا تو آپ نے خیبر تقسیم کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کو اختیار دیا کہ اپنا پانی اور زمین لے لو یا اپنے وسق لے لو۔ بعض نے پانی اور زمین لی اور بعض نے وسق لے لیے۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے زمین اور پانی اختیار کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
2456. -- باب: شرط العمل في المساقاة على العامل
-- باب: مساقات (باغات کے معاملے) میں عامل (کام کرنے والے) پر کام کی شرط عائد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11632
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
(١١٦٣٢) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہویوں کو خیبر کے باغات دیے اور زمین بھی کہ وہ ان میں اپنے مالوں سے کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ان پھلوں کا نصف ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11632]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11633
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو الْقَاسِمِ ⦗١٩٢⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُبَيْبَ، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمُؤْنَةَ" وَذَكَرُوا بَاقِيَ الْحَدِيثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ.
(١١٦٣٣) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے اور ان کے پاس کچھ نہ تھا اور انصار زمین اور جائیداد والے تھے تو انصاریوں نے ان کو تقسیم کرلیا اس شرط پر کہ وہ ہر سال اپنے پھلوں کا نصف دیں گے اور ان میں کام کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11633]
تخریج الحدیث: «بخاري 3630، مسلم 1771»
الحكم على الحديث: بخاري 3630، مسلم 1771
حدیث نمبر: 11634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" لَمَّا خَرَجَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ فَقَاسَمَتْهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ فِي كُلِّ عَامٍ عَلَى أَنْ يَكْفُوهُمُ الْمُؤْنَةَ وَالْعَمَلَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
(١١٦٣٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ کی طرف آئے اور ان کے پاس کچھ نہ تھا تو انصاریوں نے اپنی زمینیں تقسیم کردیں۔ اس شرط پر کہ وہ ہر سال ان کو اپنے پھلوں کا نصف دیں گے اور ان میں کام کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11634]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2457. -- باب: جواز الإجارة
-- باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: Q11635
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6] ، فَأَجَازَ الْإِجَارَةَ عَلَى الرَّضَاعِ، وَقَالَ {قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26] إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرَ اللهُ أَنَّ نَبِيًّا مِنْ أَنْبِيَائِهِ آجَرَ نَفْسَهُ حِجَجًا مُسَمَّاةً، مَلَكَ بِهَا بُضْعَ امْرَأَةٍ، فَدَلَّ عَلَى تَجْوِيزِ الْإِجَارَةِ، قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: اسْتَأْجَرَهُ عَلَى أَنْ يَرْعَى لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اگر وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تو ان کو اجرت دو [الطلاق: ٦] اللہ تعالیٰ نے رضاعت میں اجارہ کو جائز قرار دیا اور فرمایا: ان میں سے ایک نے کہا: اے اباجان! اسے مزدور رکھ لیں، یقیناً بہتر مزدور جسے آپ رکھیں وہ ہے جو [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: Q11635]