السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2454. -- باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم
-- باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
(١١٦٢١) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے معاملہ کیا کہ پھلوں اور اناج کی پیداوار میں نصف ہمارا اور نصف تمہارا ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11621]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2329»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11622
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الِإسْفَرَايِينِيُّ الْإِمَامُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ يَزْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَغَيْرِهِ.
(١١٦٢٢) یحییٰ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: پھلوں اور اناج کی پیداوار میں نصف ہمارا اور نصف تمہارا ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11622]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11623
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ.
(١١٦٢٣) ابن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی خیبر کی فتح کے وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اس وقت خیبر کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جب یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے درخواست کی کہ انھیں یہاں ہی رہنے دیا جائے اور وہ زمین میں محنت کریں گے۔ جس کے صلے میں ان کو نصف پھل ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تم کو برقرار رکھتے ہیں اس شرط پر کہ جب تک ہماری مرضی ہوئی۔ پس وہ وہیں رہے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں انھیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلاوطن کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11623]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11624
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ ⦗١٨٩⦘ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.
(١١٦٢٤) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور نصرانیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11624]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا"، فَكَانُوا فِيهَا كَذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَطَائِفَةٍ مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَكَانَتِ الثَّمَرَةُ تُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١١٦٢٥) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو وہیں رہنے دیا جائے اس شرط پر کہ وہ خیبر کی زمین میں کام کریں گے اور جو پھل اور اناج ہوگا اس کا نصف ان کو ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم تمہیں اسی شرط پر بر قرار رکھتے ہیں لیکن جب تک ہماری مرضی ہوگی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر اور کچھ عر صہحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسی شرط پر قائم رہے اور خیبر کا نصفمختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے خمس لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11625]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهِمْ فِي كُلِّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَامٍ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ:" يَا أَعْدَاءَ اللهِ، تُطْعِمُونِي السُّحْتَ وَلَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ، وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ" فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ.
(١١٦٢٦) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے لڑائی کی یہاں تک کہ ان کو ایک قلعے کی طرف قید کردیا۔ زمین اور باغات پر فتح پا لی۔ انھوں نے کہا: اے محمد! ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ ہم ان باغات کی دیکھ بھال کریں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے پاس بھی خدام نہ تھے جو وہاں رہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر ان کو دے دیا اس شرط پر کہ وہ پھلوں، اناج یا جو بھی چیز ہوگی اس کا نصف دیں گے اور عبداللہ بن رواحہ ہر سال ان کے پاس جاتے۔ اندازہ لگاتے پھر نصف ان پر لازم کردیتے۔ انھوں نے ایک سال ابن رواحہ کے سختی کے ساتھ فرص لگانے کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی اور انھوں نے رشوت دینے کا ارادہ کیا۔ آپ نے کہا: اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو، حالانکہ میں نے تمہاری طرف بہترین آدمی کو بھیجا ہے اور تم خنزیر اور بندر سے بھی زیادہ بغض والے ہو۔ میرے نزدیک تمہارا بغض اور اس کی محبت مجھے اس بات پر مجبور نہ کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ عدل نہ کروں۔ پھر انھوں نے کہا: اسی عدل کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطبراني في الاوسط 3321»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11627
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَاقَى يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى تِلْكَ الْأَمْوَالِ عَلَى الشَّطْرِ، وَسِهَامُهُمْ مَعْلُومَةٌ، وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ إِنَّا إِذَا شِئْنَا أَخْرَجْنَاكُمْ".
(١١٦٢٧) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سی منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے بارے میں نصف پر معاملہ طے کیا اور ان کے حصے متعین کیے اور ان پر شرط عائد کی کہ ہم جب چاہیں گے تم کو نکال دیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11627]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الدارقطني 2988»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11628
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَخَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُوهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ:" فِي ذَا كَذَا وَكَذَا"، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا آخُذُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ"، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ.
(١١٦٢٨) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خیبر فتح ہوا اور ان پر شرط عائد کی زمین کی ہر چیز یعنی، سونا چاندی پر، خیبر والوں نے کہا: ہم اس زمین کو بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہمیں دے دیں۔ ہم اس میں کام کریں گے اور پھلوں کا نصف ہمارا ہوگا اور نصف تمہارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شرط پر خیبر کی زمین ان کو دے دی۔ جب پھل تیار ہوگئے تو ابن رواحہ کو ان کی طرف بھیجا۔ انھوں نے پھلوں کا اندازہ لگایا، جسے اہل مدینہ خرص کہتے تھے۔ ابن رواحہ نے کہا: اس اس طرح ہے۔ انھوں نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ زیادہ لے رہے ہیں۔ ابن رواحہ نے کہا: میں پھلوں کا نصف تم کو دوں گا۔ انھوں نے کہا: یہ ہی وہ حق ہے جس سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم وہ لے کر راضی ہیں جو آپ نے کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 2255»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11629
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ صَالِحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ دَعَا يَهُودَ فَقَالَ:" نُعْطِيكُمْ نِصْفَ الثَّمَرِ عَلَى أَنْ تَعْمَلُوها، أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ يَخْرُصُهَا ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا أَوْ يَتْرُكُوهَا، وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ، فَدَعَا عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُمْ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا، وَإِنْ تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ وَقَالَتْ: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ:" لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ"، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَكُمْ عَلَى هَذِهِ الْأَمْوَالِ وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ، يَعْنِي مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ، وَقَدْ أَذِنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِجْلَائِكُمْ حِينَ عَهِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَهِدَ، فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ يَهُودِيٍّ وَنَصْرَانِيٍّ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ.
(١١٦٢٩) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو یہودیوں کو بلایا اور فرمایا: ہم تم کو پھلوں کا نصف دیں گے اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو گے۔ میں تمہیں ٹھہراتا ہوں جیسا کہ اللہ نے تم کو ٹھہرایا ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے، وہ اندازہ لگاتے، پھر انھیں اختیار دیتے کہ اسے رکھ لیں یا چھوڑ دیں اور یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن رواحہ کو بلایا اور بتایا جو انھوں نے بیان کیا تھا۔ عبداللہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس میں انھیں اختیار ہوتا ہے، اگر چاہیں تو پکڑ لیں یا چھوڑ دیں تو ہم اسے رکھ لیں گے۔ پس یہودی راضی ہوگئے اور انھوں نے کہا: اسی کے ساتھ آسمان اور زمین قائم ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے۔ جب یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انھوں نے خیبر کے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو ان اموال پر عامل بنایا ہے اور شرط لگائی تھی کہ وہ تم کو بر قرار رکھیں گے۔ یعنی جتنی دیر اللہ برقرار رکھے گا اور تحقیق اللہ نے تمہاری جلاوطنی کی اجازت دے دی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کردیا۔ ہر یہودی اور عیسائی کو حجاز کی زمین سے نکال دیا۔ پھر اس کو اہل حدیبیہ کے درمیان تقسیم کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11629]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
2455. -- باب: المعاملة على زرع البياض الذي بين أضعاف النخل مع المعاملة على النخل
-- باب: کھجور کے درختوں کے معاملے کے ساتھ ان کے درمیان موجود خالی زمین کی زراعت کا معاملہ طے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا ⦗١٩١⦘ جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" أَعْطَى خَيْبَرَ الْيَهُودَ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ.
(١١٦٣٠) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر یہودیوں کو دیا کہ وہ اس میں کام اور کھیتی باڑی کریں گے اور ان کے لیے پیداوار کا نصف ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المساقاة/حدیث: 11630]
تخریج الحدیث: «بخاري 2338»
الحكم على الحديث: بخاري 2338