🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2620. -- باب: الوصية بالعتق وغيره إذا ضاق الثلث عن حملها
-- باب: غلام آزاد کرنے وغیرہ کی وصیت کا بیان جب ایک تہائی مال ان کے لیے ناکافی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12623
وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَمُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ.
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12623]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا كَانَتْ وَصِيَّةٌ وَعَتَاقَةٌ تَحَاصُّوا".
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب وصیت ہو اور غلام ہو تو حصے کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12624]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12625
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الْوَصِيَّةِ يَكُونُ فِيهَا الْعِتْقُ فَتَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، قَالَ:" الثُّلُثُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ".
ایوب رحمہ اللہ، محمد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں فرمایا: جس میں آزادی ہو وہ ثلث سے زائد ہو کہ ثلث ان میں حصوں کے ساتھ ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12625]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12626
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: بِالْحِصَصِ.
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: حصوں کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12626]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2621. -- باب: الحج عن الميت وقضاء ديونه عنه
-- باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس کے قرضے ادا کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12627
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ أَخْبَرَنِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ:" فَاقْضُوا اللهَ؛ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی اور وہ فوت ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس پر قرض ہوتا تو ادا کرتا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا حق ادا کرو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1852»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12628
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَمَا تَرَى الْحَجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، ⦗٤٥٤⦘ فَحُجَّ عَنْهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِالْحَجِّ فَيُحَجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَتُؤْجَرُونَ"، قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ"، وَكَذَلِكَ فِي النَّذْرِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ هَذَا مُرْسَلٌ بَيْنَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَمَنْ فَوْقَهُ، وَمَعْنَاهُ مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُ.
ابوالغوث بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے باپ کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے اور وہ بوڑھے ہیں، سواری کی طاقت نہیں رکھتے، آپ ان کی طرف سے حج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس کی طرف سے حج کیا جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے گھر والوں میں سے جو بھی فوت ہو گیا اور اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو، کیا اس کی طرف سے بھی حج کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”ہاں، اور تمہیں بھی اجر دیا جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزے رکھے جائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذر میں اور مسجد کی طرف چلنے میں۔“
یہ روایت عطاء خراسانی اور ان سے اوپر والے راویوں کے درمیان مرسل ہے، اور اس کا مفہوم اس سے پہلے والی ثابت حدیث میں موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12628]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 8673»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2622. -- باب: الصدقة عن الميت
-- باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12629
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ فِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" إِلَّا أَنَّ مَالِكًا قَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میری ماں کی اچانک موت واقع ہو گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کو بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو اس کے لیے اجر ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ مالک کے الفاظ یہ ہیں: میرا گمان ہے کہ اگر وہ بات کرنے کا موقع پاتی تو صدقہ کرتی، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1388»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَحْدَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں کی اچانک موت واقع ہوگئی، میرا گمان ہے کہ اگر اسے بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا اس کے لیے اجر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12630]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ ⦗٤٥٥⦘ غَائِبٌ عَنْهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَافَ صَدَقَةٌ عَنْهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ رَوْحٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ کہتے ہیں: ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی ماں فوت ہو گئی اور وہ گھر نہ تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری ماں فوت ہو گئی ہے اور میں اس وقت پاس نہ تھا۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں، تو اسے نفع ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف والا باغ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2856»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12632
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاةُ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ فَخُبِّرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا، سَمَّاهُ، صَدَقَةٌ عَنْهَا.
سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں تھے کہ ان کی والدہ کی موت کا وقت آگیا، ان سے کہا گیا: وصیت کر دیں، انہوں نے کہا: میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہے، وہ سعد کے آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئیں، جب سعد رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو والدہ کے معاملے کی خبر دی گئی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو والدہ کے بارے میں بتایا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو اسے نفع دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں صدقہ ہے، اس کا نام لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ موطا 2211»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں