السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2612. -- باب: العول في الوصايا، وإجازة الورثة وصيته لوارث أو ما زاد على الثلث
-- باب: وصیتوں میں عول (حصوں کی زیادتی) کا بیان، اور ورثاء کا کسی وارث کے لیے یا ایک تہائی سے زائد کی وصیت کو جائز قرار دینا
حدیث نمبر: 12593
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَبُو عَاصِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ:" تَعْلَمُ الْفَرَائِضَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" تَعْرِفُ رَفْعَ السِّهَامِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" تَعْلَمُ الْوَصَايَا؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا تَرَى فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَجُلٍ، وَرُبْعَ مَالِهِ لِآخَرَ، وَنِصْفَ مَالِهِ لِآخَرَ؟" فَلَمْ أَدْرِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ذَاكَ لَا يَجُوزُ، إِنَّمَا يَجُوزُ لَهُ مِنْ مَالِهِ الثُّلُثُ، قَالَ:" فَإِنَّ الْوَرَثَةَ أَجَازُوهُ"، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَأُعَلِّمُكَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" انْظُرْ مَالًا لَهُ نِصْفٌ وَثُلُثٌ وَرُبُعٌ"، قُلْتُ: فَذَا اثْنَا عَشَرَ، قَالَ:" فَنَعَمْ، فَتَأْخُذُ نِصْفَهُ سِتَّةً، وَثُلُثَهُ أَرْبَعَةً، وَرُبُعَهُ ثَلَاثَةً، فَيَكُونُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَيُقْسَمُ الْمَالُ عَلَى ثَلَاثَةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَيُعْطَى صَاحِبُ النِّصْفِ مَا أَصَابَ سِتَّةً، وَصَاحِبُ الثُّلُثِ مَا أَصَابَ أَرْبَعَةً، وَصَاحِبُ الرُّبْعِ مَا أَصَابَ ثَلَاثَةً، فَذَاكَ كَذَاكَ"، قُلْتُ: نَعَمْ.
حضرت محمد بن ابو ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: کیا تو فرائض جانتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حصوں کے بارے میں علم رکھتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وصیتوں کے بارے میں جانتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: تیرا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی کے لیے اپنے «الثُّلُثِ» ”تہائی“ مال کی وصیت کرتا ہے اور دوسرے کے لیے «الرُّبُعِ» ”چوتھائی“ کی اور کسی اور کے لیے «النِّصْفِ» ”نصف“ مال کی؟ میں نے کہا: یہ جائز نہیں ہے، بے شک اس کے لیے اپنے مال سے «الثُّلُثِ» ”تہائی“ کی اجازت ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اگر ورثاء اجازت دیں؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: میں تجھے سکھا دیتا ہوں، میں نے کہا: ہاں۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اس کے مال کے «النِّصْفِ» ”نصف“، «الثُّلُثِ» ”تہائی“ اور «الرُّبُعِ» ”چوتھائی“ کو دیکھو۔ میں نے کہا: یہ بارہ ہو گئے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ہاں۔ پس اس کا نصف چھ، ثلث چار اور ربع تین حصے ہوں گے، پس یہ تیرہ حصے بن گئے، مال تیرہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور نصف والے کو چھ حصے، ثلث والے کو چار حصے اور ربع والے کو تین حصے دیے جائیں گے، میں نے کہا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12593]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2613. -- باب: الوصية بشيء بعينه
-- باب: کسی متعین چیز کی وصیت کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12594
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ أَوْصَى أَنْ يُجْعَلَ ثُلُثُهُ فِي حَائِطٍ، ثُمَّ سُبِّلَ ذَلِكَ الْحَائِطُ حَيْثُ أَرَادَهُ، فَقَالَ وَرَثَتُهُ: لَا نُجِيزُ، إِنَّمَا لَهُ ثُلُثُ حَائِطِهِ، فَذَلِكَ جَائِزٌ عَلَيْهِمُ، الْمُوصِي يَضَعُ ثُلُثَهُ حَيْثُ أَحَبَّ مِنْ مَالِهِ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ؛ إِنَّمَا الْحَائِطُ كَالرَّحْلِ أَوِ السَّيْفِ أَوِ الثَّوْبِ يُوصِي بِهِ لَيْسَ لِلْوَرَثَةِ أَنْ يَقُولَوا: إِنَّمَا لَهُ ثُلُثُ رَحْلِهِ وَسَيْفِهِ وَثَوْبِهِ".
ابن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کے ان فقہاء سے نقل کرتے ہیں جن کے قول پر بات ختم ہوتی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے: جو شخص وصیت کرے کہ اس کا تہائی مال ایک باغ کی صورت میں رکھا جائے، پھر وہ باغ جہاں اس نے چاہا وقف کر دیا جائے، اور اس کے وارث کہیں: ہم اس کی اجازت نہیں دیتے، اس کا حق تو صرف اس کے باغ کے تیسرے حصے میں ہے، تو یہ وصیت ان پر نافذ ہو گی۔ وصیت کرنے والا اپنا تہائی اپنے مال میں سے جہاں چاہے منصفانہ قیمت کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔ باغ تو کجاوے، تلوار یا کپڑے کی طرح ہے جس کی وہ وصیت کرتا ہے، وارثوں کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ اس کا حق تو صرف اس کے کجاوے، تلوار اور کپڑے کے تیسرے حصے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12594]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2614. -- باب: الوصية بالإعتاق عنه، ومن استحب استغلاء الرقاب وإقلالها أو إكثارها واسترخاصها
-- باب: اپنی طرف سے غلام آزاد کرنے کی وصیت کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے قیمتی غلام خرید کر آزاد کرنے اور ان کی تعداد کم رکھنے، یا سستے غلاموں کی تعداد زیادہ رکھنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 12595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ⦗٤٤٧⦘ الْعَبْسِيُّ، قَالَا: أنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تُعِينُ ضَعِيفًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں پسندیدہ ہو۔“ اس نے کہا: اگر اس کی میں طاقت نہ رکھوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کمزور کی مدد کر یا کسی اناڑی کا کام کر دے۔“ اس نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 527»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12596
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُخْتُرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، إِنَّهُ لَيَعْتِقُ الْيَدَ بِالْيَدِ، وَالرِّجْلَ بِالرِّجْلِ، وَالْفَرْجَ بِالْفَرْجِ" فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: ادْعُوا لِي مُطَرِّفًا، وَكَانَ مِنْ أَفْرَهِ غِلْمَانِهِ، فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ: أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی مومن غلام آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس غلام کے عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کردیں گے، بیشک وہ ہاتھ کو ہاتھ کے بدلے، پاؤں کو پاؤں کے بدلے، شرم گاہ کو شرم گاہ کے بدلے آزاد کرے گا۔“ علی بن حسین رحمہ اللہ نے راوی سے کہا: کیا آپ نے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ علی رحمہ اللہ نے کہا: مطرف کو بلاؤ اور وہ اس کے محنتی غلاموں سے تھے۔ جب وہ سامنے آئے تو کہا: تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2517»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12597
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ أَبُو الْفَضْلِ ح وَثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ دَاوُدَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مومن غلام آزاد کیا تو اللہ اس کے ہر عضو کو آگ سے اس غلام کے عضو کے بدلے آزاد کریں گے، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو (آزاد کردہ) کی شرم گاہ کے بدلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12597]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2615. -- باب: الوصية بالحج
-- باب: حج کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12598
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ فَرَّطَ فِي زَكَاةٍ، وَفَرَّطَ فِي الْحَجِّ، حَتَّى ⦗٤٤٨⦘ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ:" يَبْدَأُ بِالْحَجِّ وَالزَّكَاةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: لَا، وَلَا كَرَامَةَ، يَدَعُهُ حَتَّى إِذَا صَارَ الْمَالُ لِغَيْرِهِ قَالَ: حُجُّوا عَنِّي، وَزَكُّوا عَنِّي هُوَ مِنَ الثُّلُثِ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو زکوۃ اور حج میں کوتاہی کرے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔ حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: حج اور زکوۃ سے ابتدا کی جائے گی، پھر بعد میں کہا: نہیں، اور نہ اس میں کوئی عزت کی بات ہے، وہ اسے چھوڑے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب مال دوسروں کا ہونے لگتا ہے تو کہتا ہے: میری طرف سے حج کیا جائے اور میری طرف سے زکوۃ دی جائے، یہ ثلث میں سے ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12598]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12599
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يُوصِي أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ، قَالَ:" إِنْ كَانَ قَدْ حَجَّ فَمِنَ الثُّلُثِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّ فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، أَوْصَى أَوْ لَمْ يُوصِ، وَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ".
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو اپنی طرف سے حج کی وصیت کرے، انہوں نے کہا: اگر اس نے حج کیا تھا تو ثلث سے وصیت پوری ہوگی اور اگر نہ کیا تھا تو سارے مال سے حج کیا جائے گا، اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ وہ اس پر قرض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12599]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12600
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِشَيْءٍ يَكُونُ عَلَيْهِ وَاجِبًا؛ حَجٌّ أَوْ كَفَّارَةُ يَمِينٍ أَوْ ظِهَارٌ، فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
ابن طاؤس اپنے والد رحمہما اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی چیز کی وصیت کرے اور وہ اس پر واجب ہو، حج یا قسم کا کفارہ یا ظہار کا کفارہ، تو وہ سارے مال سے ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12600]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12601
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوزُقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِالْحَجِّ أَوْ بِالزَّكَاةِ، قَالَ:" هُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ" وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَوْصَى بِحَجٍّ أَوْ زَكَاةٍ فَهِيَ مِنَ الثُّلُثِ، حَجَّ أَوْ لَمْ يَحُجَّ وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ مِثْلُ ذَلِكَ، وَبِقَوْلِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَالزُّهْرِيِّ نَقُولُ؛ حَيْثُ قَالُوا: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ.
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرتا ہے کہ وہ سارے مال سے ہے۔
ہمیں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: جب وہ حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرے تو وہ ثلث میں سے ہو گی، خواہ اس نے حج کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ اور ہم حسن، طاؤس، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے کہا: یہ قرض کے درجے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12601]
ہمیں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: جب وہ حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرے تو وہ ثلث میں سے ہو گی، خواہ اس نے حج کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ اور ہم حسن، طاؤس، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے کہا: یہ قرض کے درجے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12601]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12602
اسْتِدْلَالًا بِمَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ إِنْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" اقْضِي اللهَ الَّذِي هُوَ لَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى وَمُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ وہ حج سے پہلے فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو حج کر لے۔ تیرا کیا خیال ہے اگر تیری ماں پر قرض ہوتا تو تو نے ادا کرنا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض پورا کرو، اس کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12602]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1315»
الحكم على الحديث: صحيح