🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2644. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في الأمم الخالية إلى أن أحلها الله تعالى لمحمد صلى الله عليه وسلم ولأمته
-- باب: پچھلی امتوں میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لیے حلال کر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12706
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ كَانَ قَبْلَنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا".
(١٢٧٠٦) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمتیں حلال نہ تھیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ان کو ہمارے لیے پاکیزہ بنادیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3124»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12707
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ كَانَ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بِنَاءً لَهُ وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا، فَغَدَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ فَلَصَقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
(١٢٧٠٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ جائے جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور وہ اپنی بیوی سے رات گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی تک اس نے رات نہ گزاری ہو اور وہ آدمی جس نے نیا گھر بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت چاٹ نہ کی ہو اور نہ وہ آدمی جس نے حاملہ بکری یا اونٹنی خریدی ہو اور اس کے بچہ جننے کا انتظار کررہا ہو۔ پس اس نے جہاد کیا بستی کے قریب ہوگئے یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا یا اس کے قریب تو اس نبی نے سورج سے کہا: تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں، اے اللہ! اسے روک دے، پس وہ روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اسے فتح دی، پس انھوں نے مال غنیمت جمع کیا، آگ اسے کھانے کے لیے آئی، لیکن کھانے سے انکار کردیا، اس نبی نے کہا: تم میں کوئی چوری کرنے والا ہے، پس ہر قبیلہ کا ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، انھوں نے بیعت کی ایک آدمی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ نبی نے کہا: تمہارے قبیلے میں چور ہے، پس تمہارے قبیلے کا ہر فرد بیعت کرے، اس قبیلے نے بیعت کی دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ اس سے چمٹ گیا۔ اس نے کہا: تم نے چوری کی ہے، پس انھوں نے نکالا گائے کے سر کی مانند سونے کی چیز۔ اسے مال میں شامل کردیا۔ آگ آئی اس نے کھایا، پس ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ہمارے لیے حلال قرار دیا۔ [صحیح ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12707]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12708
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ ⦗٤٧٦⦘ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تُجْمَعُ فَتَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩] " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَاضِرٍ:" وَأَنّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَغَارُوا فِيهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ". وَزَادَ فِي آخِرِهِ:" فَأُحِلَّتْ لَهُمْ"، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
(١٢٧٠٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنیمتیں تم سے پہلے لمبے لمبے سروں والی قوم کے لیے حلال نہ تھیں، مال غنیمت جمع کیا جاتا تھا، آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی، وہ اسے کھا لیتی تھی، جب غزوہ بدر ہوا۔ لوگوں نے غنیمت میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے نازل کردیا { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللَّہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا } [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12708]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طِيبًا وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(١٢٧٠٩) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ہر نبی ایک قوم خاص کی طرف بھیجا جاتا تھا مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں ہیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں اور میرے لیے زمین پاکیزہ اور مسجد بنادی گئی ہے آدمی جہاں نماز کا وقت پالے وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ایک مہینہ کی مسافت سے اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12709]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 335۔ مسلم 521»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2645. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس
-- باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12710
بَابُ بَيَانِ مَصْرِفِ الْغَنِيمَةِ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا فِيمَنْ يَرَاهُ مِمَّنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ وَمِمَّنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، حَتَّى نَزَلَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [الأنفال: 41] ، فَكَانَ الْخُمُسُ لِأَهْلِ الْخُمُسِ، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
اور یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: Q12710]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12710
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ؛ أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ:" ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ"، وَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: اجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ.
(١٢٧١٠) حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے بدر کے دن تلوار ملی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دے دیں، کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہاں رکھ جہاں سے لی ہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی: { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1748»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ شُفِيَ صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ"، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ: يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ:" أَجِبْ"، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِي، فَجِئْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ؛ فَإِنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي، فَهُوَ لَكَ"، ثُمَّ قَرَأَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
(١٢٧١١) مصعب بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بدر کے دن ایک تلوار لے کر آیا میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے سینے کو ٹھنڈ پہنچائی ہے، پس یہ تلوار مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری۔ میں چلا گیا اور کہہ رہا تھا، آج یہ اس کو ملے گی جس کا امتحان میرے جیسا نہ ہوا ہوگا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا لیا، میں نے سمجھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہوگا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا اور وہ نہ میری تھی نہ تیری۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری کردی اور وہ اب تیرے لیے ہے پھر آیت پڑھی: { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ }۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12711]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12712
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفْلِ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ، وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ قَالَتِ الْمَشْيَخَةُ: كُنَّا رِدَاءً لَكُمْ، لَوِ انْهَزَمْتُمْ فِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَلَا تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى، فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا: جَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} [الأنفال: ٥] ، يَقُولُ: فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ، وَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ.
(١٢٧١٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جو یہ کام کرے گا اس کے لیے یہ انعام ہے تو جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے نشانوں کے پاس رہے۔ پھر وہ وہیں جمے رہے، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے، اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری طرف پلٹتے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ غنیمت کا مال تم لے جاؤ اور ہم یوں ہی رہ جائیں۔ پس نوجوان نہ مانے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو دیا ہے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ } سے { لَکَارِہُونَ } تک۔ ان کے لیے یہی بہتر تھا، پس تم میری اطاعت کرو میں انجام کار کو زیادہ جانتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12712]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12713
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. زَادَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ.
(١٢٧١٣) ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں برابر تقسیم کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12713]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، قَالَ:" فِينَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ الْتَقَى النَّاسُ بِبَدْرٍ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَكُنَّا أَثْلَاثًا؛ ثُلُثٌ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ وَيَأْسِرُونَ، وَثُلُثٌ يَجْمَعُونَ النَّفْلَ، وَثُلُثٌ قِيَامٌ دُونَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْشَوْنَ عَلَيْهِ كَرَّةَ الْعَدُوِّ حَرَسًا لَهُ، فَلَمَّا وَضَعَتِ الْحَرْبُ قَالَ الَّذِينَ أَصَابُوا النَّفْلَ: هُوَ لَنَا، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَقْتُلُونَ وَيَأْسِرُونَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، لَنَحْنُ شَغَلْنَا عَنْكُمُ الْقَوْمَ، وَخَلَّيْنَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّفْلِ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَحْرُسُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، لَقَدْ رَأَيْنَا أَنْ نَقْتُلَ الرِّجَالَ حِينَ مَنَحُونَا أَكْتَافَهُمْ، وَنَأْخُذَ النَّفْلَ لَيْسَ دُونَهُ أَحَدٌ يَمْنَعُهُ، وَلَكِنَّا خَشِينَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَّةَ الْعَدُوِّ، فَقُمْنَا دُونَهُ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ بَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] " وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ مَعَ تَقْصِيرٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَقَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى السَّوَاءِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِ يَوْمَئِذٍ خُمُسٌ".
(١٢٧١٤) ابو امامہ باہلی کہتے ہیں: میں نے عبادہ بن صامت سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: ہم میں اصحابِ بدر تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بدر کے دن لوگوں سے ملے تو ہر ایک کو حصہ دیا اور ہم تین گروہوں میں تھے، ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے اور انھیں قیدی بناتے تھے اور ایک تہائی غنیمت کا مال جمع کر رہے تھے اور ایک تہائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کر رہے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دے، یعنی وہ آپ کے لیے پہرہ دے رہے تھے۔ جب جنگ ختم ہوگئی تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا، وہ کہنے لگے: یہ ہمارا ہے اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر آدمی کے لیے حصہ مقرر کیا، جس مال کو اس نے پایا اور جو قتال کر رہے تھے اور دشمنوں کو قیدی بنا رہے تھے انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم دشمنوں کے ساتھ مصروف تھے۔ وہ (دشمن) تمہارے اور مال غنیمت کے درمیان حائل تھے، تو کیا تم اس (غنیمت) کے ہم سے زیادہ حق دار ہو اور جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد پہرا دے رہے تھے، انھوں نے کہا: تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم نے یقیناً دشمن کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جبکہ وہ اپنے کندھے ہمیں ہبہ کرچکے تھے (یعنی ہمیں ان کو قتل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی)۔ ہم مال غنیمت اکٹھا کرسکتے تھے اور اس کام کے کرنے میں کوئی بھی حائل نہ تھا، لیکن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دشمن کے حملے سے ڈرتے (کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے) تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ تو کیا تم ہم سے زیادہ حقدار ہوگئے۔ جب ہم نے اختلاف کیا اور اخلاقیات کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ (مال غنیمت) چھین کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے میں دے دیا تو اللہ کے رسول نے اسے لوگوں میں تقسیم کردیا تو یہ اللہ کے تقویٰ، اس کی اطاعت، اس کے رسول کی اطاعت اور لوگوں کی آپس کی اصلاح میں (درست) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنَکُمْ }وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں (ایک دوسرے کی) اصلاح کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12714]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں