السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2648. -- باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه
-- باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث نمبر: 12743
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ" وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" إِنَّا لَا نُورَثُ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبی وارث نہیں بناتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12743]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ:" أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ مَكَانَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَحَكَمْتُ بِمِثْلِ مَا حَكَمَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي فَدَكٍ".
زید بن علی رحمہ اللہ نے کہا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک کے بارے میں کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12744]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ح قَالَ: وَأنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" قَالَ: فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قُدِمَ بِمَالِ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ؟ فَلْيَقُمْ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي:" إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، يَعْنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ: فَخُذْ، فَحَثَوْتُ، فَقَالَ عُدَّهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، قَالَ: فَخُذْ بِعَدَدِهَا مَرَّتَيْنِ. زَادَ فِيهِ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: أَتَيْتُهُ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، مَرَّةً فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ⦗٤٩٤⦘ الثَّانِيَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: قَدْ سَأَلْتُكَ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تُبَخَّلَ، قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي مَرَّةً إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ، فَأِيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟ قَالَ إِسْحَاقُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ أَوْ نَحْوَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا (تین دفعہ فرمایا) دوں گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بحرین کا مال نہ آیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، پھر جب بحرین کا مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کسی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی وعدہ کیا ہو، پس وہ کھڑا ہوجائے۔“ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں یہ یہ دوں گا“، یعنی تین مٹھیاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پکڑ لو۔“ میں نے مٹھی بھری تو انہوں (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”ان کو شمار کرو“، تو وہ پانچ سو تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”دو مرتبہ اس تعداد کو (مزید) پکڑو۔“ ابن منکدر نے زیادتی کی ہے: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ آیا، پس میں نے ان سے سوال کیا لیکن انہوں نے نہ دیا، پھر میں دوسری مرتبہ آیا اور میں نے سوال کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے نہ دیا، میں نے کہا: میں نے آپ سے دو دفعہ سوال کیا ہے آپ نے مجھے دیا نہیں، یا تو آپ مجھے دے دیں یا آپ بخیل سمجھے جائیں گے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم جب بھی میرے پاس آئے میرا ارادہ یہی تھا کہ تمہیں دے دوں، بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2296»
الحكم على الحديث: صحيح
2649. -- باب: بيان مصرف خمس الخمس وأنه بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الذي يلي أمر المسلمين يصرفه في مصالحهم
-- باب: خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کے حکمران کے اختیار میں ہے جو اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کرے گا
حدیث نمبر: 12746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَهْلُهُ، قَالَتْ: فَمَا بَالُ الْخُمُسِ؟ فقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَطْعَمَ اللهُ نَبِيًّا طُعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ، كَانَتْ لِلَّذِي يَلِي بَعْدَهُ" فَلَمَّا وَلِيتُ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: أَنْتَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ، ثُمَّ رَجَعَتْ.
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں یا ان کے اہل؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ ان کے اہل وارث ہیں۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”خمس کا کیا معاملہ ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اس کو فوت کر دے تو وہ کھانا (غلہ) اس کا ہوتا ہے جو اس کا والی ہے اس کے بعد۔“ پس جب میں والی بنا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسلمانوں پر لوٹا دوں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں“، پھر وہ لوٹ گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12746]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 51»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ" يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: مَرْدُودٌ فِي مَصَالِحِكُمْ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن اونٹ کے پہلو سے «وَبَرَةً» ”رونگٹا“ پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! میرے لیے اس کے برابر بھی حلال نہیں اس میں سے جو اللہ نے تم پر لوٹایا ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
یعنی، واللہ اعلم: وہ تمہاری مصلحتوں میں لوٹا دیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12747]
یعنی، واللہ اعلم: وہ تمہاری مصلحتوں میں لوٹا دیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12747]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2650. -- باب: سهم الصفي
-- باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
حدیث نمبر: 12748
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا ⦗٤٩٥⦘ الْحِيُّ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَوْ قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا، قَالَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ سَهْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّفِيَّ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ" تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ بِذِكْرِ الصَّفِيِّ فِيهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کا یہ قبیلہ (حائل) ہے، اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں پہنچ سکتے ہیں، یا کہا: رجب میں، پس ہمیں کوئی ایسا حکم دیجیے جسے ہم اختیار کریں اور اپنی قوم کے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور مالِ غنیمت میں سے اللہ عزوجل کا حصہ اور «صَفِيّ» (وہ چیز جو امام اپنے لیے چن لیتا ہے) دو، اور میں تمہیں «الدُّبَّاءِ» (کدو) سے، «الْحَنْتَمِ» (سبز لاکھی برتن) سے، «الْمُزَفَّتِ» (روغنی برتن) سے اور «النَّقِيرِ» (کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) سے روکتا ہوں۔“
اس میں «صَفِيّ» کا ذکر کرنے میں ابو ہلال راسبی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12748]
اس میں «صَفِيّ» کا ذکر کرنے میں ابو ہلال راسبی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12748]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا، وَأُرَانِي أَحْدَثَ الْقَوْمِ، أَوْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: فَأَتَى عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا رَجُلٌ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ فِي قِطْعَةِ أَدَمٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: فِي قِطْعَةِ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، ثُمَّ سَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ، وَرُبَّمَا قَالَ: صَفِيَّةً، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ". قَالُوا: هَاتِ، حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ تُذْهِبُ كَثِيرًا مِنْ وَحَرِ الصَّدْرِ". قَالَ قُرَّةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَغْرِ الصَّدْرِ؟ فَقَالَ: وَحَرِ الصَّدْرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهِ؟ فَأَهْوَى إِلَى صَحِيفَةٍ فَأَخَذَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ مُسْرِعًا ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَرَاكُمْ تَخَافُونَ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا الْيَوْمَ.
یزید بن عبداللہ بن شِخِّیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مِربد میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے لوگوں میں نو عمر خیال کرتے تھے۔ ہمارے پاس دیہات کا ایک آدمی آیا، جب ہم نے اسے دیکھا تو ہم نے کہا: لگتا ہے یہ آدمی اس شہر کا نہیں ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس کے پاس چمڑے وغیرہ کا لکھا ہوا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ ٹکڑا میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا۔ پس اس میں لکھا تھا:
«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور صفی (منتخب مال) دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ، ہمیں بیان کرو، اللہ تیری اصلاح کرے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12749]
«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور صفی (منتخب مال) دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ، ہمیں بیان کرو، اللہ تیری اصلاح کرے، جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12749]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار غنیمت میں سے زائد حصے (نفل) کے طور پر لی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12750]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ:" كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى سَهْمَ الصَّفِيِّ، إِنْ شَاءَ عَبْدًا، وَإِنْ شَاءَ أَمَةً، وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا، يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ".
عامر شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حصہ ہوتا تھا جسے «الصَّفِيُّ» ”صفی“ کہتے تھے، اگر غلام، لونڈی، گھوڑا چاہتے تو اسے خمس سے پہلے پسند کر لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12751]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ:" ⦗٤٩٦⦘ كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ، وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ".
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محمد رحمہ اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ اور «صَفِيّ» کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا اگرچہ حاضر نہ ہوتے اور «صَفِيّ» میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خمس میں سے ایک راس (غلام یا جانور) ہر چیز سے پہلے لیا جاتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12752]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني 2994»
الحكم على الحديث: صحيح