السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2673. -- باب: ما ينهى عنه من تقليد الخيل الأوتار
-- باب: گھوڑوں کے گلے میں تانت (کمان کی ڈوری) ڈالنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12902
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا هِشَامٌ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ، وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا"، أَوْ قَالَ:" وَأَكْفَالِهَا، وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ".
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے تیار کرو اور ان کی پیشانیوں اور ان کے پچھلے حصوں پر ہاتھ پھیرو اور ان کی گردنوں میں ہار نہ لٹکاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12902]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2674. -- باب: ما ينهى عنه من جز نواصي الخيل وأذنابها
-- باب: گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کی دمیں کاٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ نَصْرٍ الْكِنَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، وَقَالَ أَبُو تَوْبَةَ: عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي ⦗٥٣٨⦘ سُلَيْمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، وَهَذَا لَفْظُهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَقُصُّوا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ، وَلَا مَعَارِفَهَا، وَلَا أَذْنَابَهَا؛ فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا، وَمَعَارِفَهَا دِفَاؤُهَا، وَنَوَاصِيَهَا مَعْقُودٌ فِيهَا الْخَيْرُ".
عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں، ان کی ایال (گردن کے بالوں) اور ان کی دموں کو نہ کاٹو، پس بیشک اس کی دم مکھیاں اڑانے کے لیے ہے، اس کی ایال اس کی گرمی (کا ذریعہ) ہے اور اس کی پیشانی میں خیر باندھ دی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12903]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2675. -- باب: من دخل يريد الجهاد فمرض أو لم يقاتل
-- باب: اس شخص کا بیان جو جہاد کی نیت سے شریک ہوا لیکن بیمار پڑ گیا یا اس نے قتال نہ کیا
حدیث نمبر: 12904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَنْصُرُ اللهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضُعَفَائِهِمْ، بِصَلَاتِهِمْ وَدَعْوَتِهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ.
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے ان کے کمزوروں کی وجہ سے اور ان کی نمازوں اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2896»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْغُونِي الضُّعَفَاءَ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو، پس تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے تمہارے کمزوروں کی وجہ سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12905]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 5/ 198»
الحكم على الحديث: صحيح
2676. -- باب: من دخل أجيرا يريد الجهاد أو لم يرده
-- باب: اس شخص کا بیان جو مزدور بن کر شامل ہوا، خواہ اس کی نیت جہاد کی ہو یا نہ ہو
حدیث نمبر: 12906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الثَّقَفِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُنْيَةَ قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ، فَالْتَمَسْتُ أَجِيرًا وَأُجْرِي لَهُ سَهْمَهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا، فَلَمَّا دَنَا الرَّحِيلُ أَتَانِي فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا السُّهْمَانُ، وَمَا يَبْلُغُ سَهْمِي، فَسَمِّ لِي شَيْئًا كَانَ السَّهْمُ أَوْ لَمْ يَكُنْ، فَسَمَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَةٌ أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ، فَذَكَرْتُ الدَّنَانِيرَ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ:" مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا - أَظُنُّهُ قَالَ: وَالْآخِرَةِ - إِلَّا دَنَانِيرَهُ الَّتِي سَمَّى".
سیدنا یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوے کا اعلان کیا، میں بوڑھا تھا، میرا کوئی خادم بھی نہ تھا، پس میں نے کوئی مزدور تلاش کیا اور سوچا اسے اجرت دے دوں گا، پس میں نے ایک آدمی کو پایا۔ جب وہ غزوے پر جانے کے وقت میرے پاس آیا تو اس نے کہا: ”میں نہیں جانتا کہ حصہ کتنا ہو گا اور مجھے کتنا ملے گا، پس میرے لیے کچھ مقرر کر دو کہ حصہ ہو یا نہ ہو مجھے وہ مل جائے گا۔“ میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دیے، جب غنیمت آئی تو میں نے ارادہ کیا کہ اسے اس کا حصہ دے دوں۔ مجھے دنانیر یاد آئے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کے لیے اس غزوے میں دنیا میں (اور راوی کا خیال ہے آخرت کا لفظ بھی بولا) اور آخرت میں صرف اس کے مقرر کردہ دینار پاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12906]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2677. -- باب: من دخل يريد التجارة
-- باب: اس شخص کا بیان جو تجارت کی نیت سے شریک ہوا
حدیث نمبر: 12907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ بے شک آدمی کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوئی، پس اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے اور جس کی ہجرت کی نیت دنیا ہوئی کہ وہ اسے پالے گا یا کسی عورت کی نیت سے ہجرت کی کہ اس سے شادی کرلے گا، پس اس کی ہجرت اس کے لیے ہے جس نیت سے اس نے ہجرت کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جہاد کرے اور اس کی نیت جہاد کی نہ ہو بلکہ غنیمت کے مال کی ہو تو اس کی نیت جو ہوگی اسے وہی حاصل ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12908]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَلْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَبْتَاعُونَ غَنَائِمَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَهُ الْيَوْمَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ؟" قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَمِائَةَ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ"، قَالَ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
عبید اللہ بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو انہوں نے اپنی غنیمتیں، سامان اور قیدیوں وغیرہ سے لیں، پس لوگ اپنی غنیمتیں بیچنے لگے، ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج میں نے اتنا نفع پایا ہے کہ اس وادی میں مجھ سے زیادہ کسی نے نہ پایا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ہلاکت ہو، تو نے کیا نفع پایا ہے؟“ اس نے کہا: میں ہمیشہ بیچتا اور خریدتا رہا حتیٰ کہ تین سو اوقیہ نفع حاصل کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اس آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے بہتر نفع پایا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بعد دو رکعتیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12909]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ أَوْ مَاتَ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَيْ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَبْتَغِي بِهِ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ".
ابوجعفاء سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو کہا: ”دوسرے جن کو کہتے ہو کہ وہ قتل کیے گئے تمہارے غزووں میں یا وہ فوت ہوئے کہ فلاں شہید کیا گیا، شاید کہ اس نے اپنی سواری کے دونوں پہلو سونے یا چاندی سے لاد رکھے ہوں اور وہ اس سے دنیا چاہتا ہو یا تجارت؛ پس تم ان کو یہ نہ کہو بلکہ تم کہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا یا وہ فوت ہو گیا، وہ جنت میں جائے گا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12910]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عبدالرزاق 10399»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12911
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأُخْرَى مَا تَقُولُونَهُ: الرَّجُلُ يَخْرُجُ فَيُقَاتِلُ فَيَقُولُونَ: اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ خَرَجَ قَدْ مَلَأَ عَجُزَ دَابَّتِهِ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ لِلتِّجَارَةِ، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكَ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ" وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، لَمْ يَذْكُرِ ابْنَهُ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جن کے بارے میں تم کہتے ہو کہ آدمی نکلا اور وہ لڑا، پھر تم کہتے ہو کہ فلاں شہید کر دیا گیا، حالانکہ شاید وہ اپنی سواری کی پشت تجارت کے دیناروں یا درہموں سے بھر کر نکلا ہو۔ پس تم یہ نہ کہو، بلکہ ویسے ہی کہو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیا گیا، وہ جنتی ہے۔““
(35) «بَابُ الْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ يُرْضَخُ لَهُمَا وَلَا يُسْهَمُ»
غلام اور عورتوں کو انعام ملے گا، ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12911]
(35) «بَابُ الْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ يُرْضَخُ لَهُمَا وَلَا يُسْهَمُ»
غلام اور عورتوں کو انعام ملے گا، ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12911]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن