🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2684. -- باب: سهم ذي القربى من الخمس
-- باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12962
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ بُرَيْدٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ وَفَاطِمَةُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَبِرَ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَرَكِبَتْنِي مُؤْنَةٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَنِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا مِنْكَ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي قَدْ عَلِمْتَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا أَعِيشُ فِيهَا، ثُمَّ قَبَضْتَهَا مِنِّي، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، قُلْتُ أَنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي حَقَّنَا مِنَ الْخُمُسِ فِي كِتَابِ اللهِ فَأَقْسِمَهُ حَيَاتَكَ كَيْلَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَاكَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَا تَسْأَلُنِي الَّذِي سَأَلَهُ ابْنُ أَخِيكَ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْتَهَتْ مَسْأَلَتِي إِلَى الَّذِي سَأَلْتُكَ، قَالَ: فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِيِّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ، فَعَزَلَ حَقَّنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَقَالَ: هذا: مَالُكُمْ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ حَيْثُ كُنْتَ تَقْسِمُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بِنَا عَنْهُ الْعَامَ غِنًى، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ تِلْكَ السَّنَةَ، ثُمَّ لَمْ يَدْعُنَا إِلَيْهِ أَحَدٌ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى قُمْتُ مَقَامِيَ هَذَا. فَلَقِيتُ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَمَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، لَقَدْ حَرَمْتَنَا الْغَدَاةَ شَيْئًا لَا يُرَدُّ عَلَيْنَا أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ رَجُلًا دَاهِيًا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: رُوَاتُهُ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ. ⦗٥٦٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری عمر زیادہ ہو چکی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور مجھے مشقت نے آ لیا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے اتنے وسق کھانے کا حکم دے دیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دے دیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس جگہ پر ہوں، آپ میری حالت کو جانتے ہیں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے چچا کی طرح مجھے بھی کچھ دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی دے دیا۔ پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے رہنے کے لیے زمین دی تھی، پھر آپ نے مجھ سے لے لی تھی، آپ اگر مجھ پر واپس لوٹا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لوٹا دی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ خمس میں سے مجھے میرے حق کا والی بنا دیں، تاکہ آپ کے بعد کوئی اس کا جھگڑا نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بھی کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوالفضل! جو علی نے مجھ سے سوال کیا ہے تو نے نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے سوال کی انتہا ہو چکی ہے اس کے ساتھ جو آپ سے مانگ لیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والی بنا دیا، میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تقسیم کر دیا اور مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا۔ میں نے اس کو بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں تقسیم کر دیا، پھر مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا، میں نے اس کو بھی عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی تقسیم کر دیا۔ یہاں تک کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری برس تھے، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمارا حق علیحدہ کیا۔ پھر میری طرف پیغام بھیجا، کہا: یہ تمہارا مال ہے، اسے لے لو جہاں چاہو تقسیم کر دو، میں نے کہا: اے امیر المومنین! اس سال ہم اس سے بے پروا ہیں اور مسلمانوں کی ضرورتوں میں صرف کر دو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے بعد ہمیں کسی نے نہ بلایا، یہاں تک کہ میں خلیفہ بن گیا۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آنے کے بعد عباس رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انہوں نے کہا: اے علی! تو نے آج صبح ہمیں ایک ایسی چیز سے محروم کر دیا ہے کہ، وہ ہم تک قیامت تک واپس نہیں لوٹ سکے گی اور وہ معاملہ فہم انسان تھے۔
ابوعبداللہ (حاکم) کہتے ہیں: اس کے راوی کوفہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12962]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللهُ فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ، وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا أَشُكُّ، فَقَالَ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ، أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَأُوَفِّيَكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُطْمِعْهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟، فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِيَنَاهُ. وَقَالَ الْحَكَمُ: فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ، وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذَا كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا كُلَّهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي زَكَرِيَّا، وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرِيبًا مِنْ هَذَا الْمَعْنَى، وَذَكَرَهُ فِي الْقَدِيمِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں علی رضی اللہ عنہ سے احجار الزیت کے پاس ملا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے خمس کا اہل بیت کے بارے میں کیا کیا ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں خمس نہیں تھا، جو تھا انہوں نے ہمیں پورا دیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ہمیشہ دیتے تھے، یہاں تک کہ سوس اور اہواز کا مال آیا یا فارس کا، انہوں نے کہا: مسلمانوں کو ضرورت ہے، اگر تم پسند کرو تو اپنا حق چھوڑ دو، پس ہم اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کر دیں گے یہاں تک کہ مال آئے گا تو میں تم کو تمہارا حق پورا دوں گا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا حق نہ دینا۔ میں نے کہا: اے ابوالفضل! کیا ہم حق نہیں رکھتے کہ امیر المؤمنین کی بات مان لیں اور مسلمانوں کی مدد کریں؟ پس عمر رضی اللہ عنہ اس سے پہلے ہی فوت ہو گئے کہ ان کے پاس مال آتا اور وہ ہمیں ہمارا حق ادا کرتے۔
حکم کہتے ہیں: مطر اور دوسرے شخص کی روایت میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا حق ہے، لیکن جب مال زیادہ ہو جائے تو میرے علم میں یہ بات نہیں کہ وہ سارا تمہارا ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس میں سے اتنا دے دوں جتنا میں تمہارے لیے مناسب سمجھوں۔ ہم نے سارے کے سوا لینے سے انکار کیا تو انہوں نے ہمیں سارا دینے سے انکار کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12963]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ حَجَّ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى وَيَقُولُ: لِمَنْ تَرَاهُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" ⦗٥٦١⦘ لِقُرْبَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ حروری نے فتنہ ابن زبیر میں حج کیا تو اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کو بھیجا، رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں سوال پوچھا اور کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے لیے خود آپ نے ان کو حصہ دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں دیا اور ہم نے خیال کیا کہ وہ ہمارے حق کے علاوہ ہے، ہم نے اسے رد کر دیا اور ہم نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12964]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاهِدُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ، أَحْسِبُهُ قَالَ: وَالزُّهْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ يَعْنِي الْحَرُورِيَّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟ قَالَ:" كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟ فَهُوَ لَنَا، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا، وَيُخْدِمَ مِنْهُ عَائِلَنَا، وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا، فَأَبَيْنَا إِلَّا أَنْ يُسْلِمَهُ لَنَا، وَأَبَى أَنْ يَفْعَلَ، فَتَرَكْنَاهُ".
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رشتہ داروں کے حصے کے متعلق سوال کیا کہ وہ کس کے لیے ہے؟ انہوں نے کہا: ”تو نے مجھے لکھا ہے اور اقرباء کے حصے کے متعلق پوچھا ہے کہ وہ کس کے لیے ہے، وہ ہمارے لیے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں اس بات کی طرف دعوت دیتے تھے کہ وہ اس (حصے) سے ہمارے بے نکاح مردوں اور عورتوں کا نکاح کروا دیں، ہمارے محتاجوں کو اس سے خادم دے دیں اور اس سے ہمارے قرض داروں کا قرض ادا کر دیں تو ہم نے انکار کر دیا۔ صرف اس بات پر اڑ گئے کہ انہیں ہمارے سپرد کر دو، انہوں نے انکار کر دیا تو ہم نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12965]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12966
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ: هَلْ لَهُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَيْءٌ؟ وَكَتَبَ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، فَقَالَ:" اكْتُبْ يَا يَزِيدُ، لَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، سَأَلْتَ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ فَزَعَمْنَا أَنَّا نَحْنُ هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْوِلْدَانِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ لَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ، وَيَنْقَضِي يُتْمُهُ إِذَا أُونِسَ مِنْهُ الرُّشْدُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَى بِقَوْلِهِ:" فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا"، غَيْرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَأَهْلَهُ.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رشتہ داروں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون ہیں اور غلام اور عورت کے بارے میں سوال کیا جو غنیمت کی جگہ حاضر ہوں تو کیا ان کو غنیمت میں سے کچھ دیا جائے؟ اور بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا، پس انہوں نے کہا: ”اے یزید! لکھو، اگر بے وقوفی والا کام نہ ہوا ہوتا تو میں نہ لکھتا۔ تو نے رشتہ داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون ہیں، ہمارے خیال میں وہ ہم ہی ہیں، پس اس پر ہماری قوم نے انکار کیا اور تو نے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھا ہے، جو غنیمت کے وقت حاضر ہوں تو ان کے لیے کوئی مقرر حصہ نہیں مگر ان کو بطور انعام کچھ دے دیا جائے اور بچوں کے قتل کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قتل نہ کرتے تھے، پس تو بھی نہ کر مگر یہ کہ تو ان میں سے جان لے جیسے موسیٰ کے ساتھی نے جان لیا تھا اور تو نے یتیم کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی اور اس کی یتیمی اس وقت ختم ہوگی جب وہ رشد و ہدایت تک پہنچ جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے مراد یہ ہو ”ہم پر ہماری قوم نے انکار کیا“، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے علاوہ ہوں یزید بن معاویہ اور اس کے اہل۔ [صحیح] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12966]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2685. جماع أبواب تفريق ما أخذ من أربعة أخماس الفيء غير الموجف عليه -- باب: ما جاء في مصرف أربعة أخماس الفيء
باب: بغیر لڑائی کے حاصل ہونے والے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کی تقسیم کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کے متعلق جو احکام مروی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12967
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ..
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ بنی نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹائے تھے، جس پر مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے گئے تھے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے گھر والوں پر سال بھر خرچ کرتے تھے اور باقی کو اللہ کے راستے میں اسلحہ وغیرہ کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12967]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2904»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12968
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ زَادَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيَهَا عُمَرُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ فِيهِ قَدْ مَضَتْ فِي الْجُزْءِ الْأَوَّلِ.
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی تھے، پھر میں اس کا والی بنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے مجھ سے کہا: میں نے یہ (روایت) زہری سے نہیں سنی، بلکہ مجھے یہ عمرو بن دینار نے زہری سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12968]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2686. -- باب: ما جاء في قسم ذلك على قدر الكفاية
-- باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12969
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ ⦗٥٦٣⦘ الْحَافِظُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى ذَا الْأَهْلِ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب فئی آتا تو آپ اسی دن ہی تقسیم کر دیتے تھے، آپ اہل والے کو دو حصے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12969]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 6/ 25»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْطَى الْأَعْزَبَ حَظًّا زَادَ: فَدُعِينَا، وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ، فَدُعِيتُ، فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا.
صفوان بن عمرو سے اسی طرح روایت ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے کو ایک حصہ دیا، اور (سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ) زائد ہیں: پس ہمیں بھی بلایا گیا اور مجھے عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، پس مجھے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے دیے اور میرے اہل بھی تھے، پھر میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، پس انہیں ایک حصہ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12970]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِكُرَيْبِ بْنِ أَبْرَهَةَ: أَحَضَرْتَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْهَا؟ قَالَ كُرَيْبٌ: إِنْ بَعَثْتَ إِلَى سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ حَدَّثَكَ عَنْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ خُطْبَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَابِيَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّهُ لَمَّا اجْتَمَعَ الْفَيْءُ أَرْسَلَ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقْدَمَ بِنَفْسِهِ، فَقَدِمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فإِنَّ هَذَا الْمَالَ نَقْسِمُهُ عَلَى مَنْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ بِالْعَدْلِ، إِلَّا هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، فَلَا حَقَّ لَهُمْ فِيهِ". فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو حُدَيْرٍ الْأَجْذَمِيُّ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا عُمَرُ فِي الْعَدْلِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْعَدْلَ أُرِيدُ، أَنْ أَجْعَلَ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقُوا فِي الظَّهْرِ، وَشَدُّوا الْغَرَضَ، وَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ، مِثْلَ قَوْمٍ مُقِيمِينَ فِي بِلَادِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ الْهِجْرَةَ كَانَتْ بِصَنْعَاءَ أَوْ بِعَدَنَ مَا هَاجَرَ إِلَيْهَا مِنْ لَخْمٍ وَلَا جُذَامٍ أَحَدٌ"، فَقَامَ أَبُو حُدَيْرٍ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ وَضَعَنَا مِنْ بِلَادِهِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَسَاقَ إِلَيْنَا الْهِجْرَةَ فِي بِلَادِنَا، فَقَبِلْنَاهَا وَنَصَرْنَاهَا، أَفَذَلِكَ يَقْطَعُ حَقَّنَا يَا عُمَرُ؟ ثُمَّ قَالَ:" لَكُمْ حَقُّكُمْ مَعَ الْمُسْلِمِينَ"، ثُمَّ قَسَمَ، فَكَانَ لِلرَّجُلِ نِصْفُ دِينَارٍ، فَإِذَا كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ أَعْطَاهُ دِينَارًا، ثُمَّ دَعَا ابْنَ قَاطُورَا صَاحِبَ الْأَرْضِ فَقَالَ:" أَخْبِرْنِي مَا يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُوتِ فِي الشَّهْرِ وَالْيَوْمِ"، فَأَتَى بِالْمُدْيِ وَالْقِسْطِ فَقَالَ: يَكْفِيهِ هَذَا؛ الْمُدْيَانِ فِي الشَّهْرِ، وَقِسْطُ زَيْتٍ، وَقِسْطُ خَلٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمُدْيَيْنِ مِنْ قَمْحٍ فَطُحِنَا، ثُمَّ عُجِنَا ثُمَّ خُبِزَا، ثُمَّ أَدَمَهُمَا بِقِسْطَيْنِ زَيْتًا، ثُمَّ أَجْلَسَ عَلَيْهِمَا ثَلَاثِينَ رَجُلًا، فَكَانَ كَفَافَ شِبْعِهِمْ، ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ الْمُدْيَ بِيَمِينِهِ وَالْقِسْطَ بِيَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُنْقِصَهُمَا بَعْدِي، اللهُمَّ فَمَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ مِنْ عُمْرِهِ".
عبدالعزیز بن مروان نے کریب بن ابرہہ سے کہا: ”کیا تم جابیہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ (عبدالعزیز نے) کہا: ”ہمیں اس بارے میں کون بیان کرے گا؟“ کریب نے کہا: ”اگر آپ سفیان بن وہب خولانی کو بلائیں تو وہ بیان کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے انہیں بلایا اور کہا: ”مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جابیہ والا خطبہ بیان کرو۔“ سفیان نے کہا: جب مالِ فئی جمع ہوا تو اجناد (لشکروں) کے امراء نے عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ خود تشریف لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ آئے، اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”بیشک یہ مال ہم عدل کے ساتھ تقسیم کریں گے، مگر یہ دو قبیلے لخم اور جذام، ان کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔“ ابوحدیر اجذمی کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے عمر رضی اللہ عنہ! میں آپ کو عدل کے بارے میں اللہ کی قسم دیتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں عدل ہی چاہتا ہوں؛ کیا میں ان لوگوں کو جنہوں نے سواریوں پر خرچ کیا، کجاوے کسے اور شہروں میں سفر کیے، ان لوگوں کی طرح کر دوں جو اپنے شہروں میں مقیم ہیں؟ اور اگر ہجرت صنعاء یا عدن کی طرف ہوتی تو لخم اور جذام میں سے کوئی بھی اس کی طرف ہجرت نہ کرتا۔“ ابوحدیر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ملک میں جہاں چاہا رکھا اور لوگوں کو ہماری طرف ہجرت کرا دی، ہم نے اسے قبول کیا اور ان کی مدد کی۔ اے عمر! کیا اس وجہ سے ہمارا حق ختم ہو گیا؟“ پھر (عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”تمہارے لیے تمہارا حق مسلمانوں کے ساتھ ہے،“ پھر (مال) تقسیم کیا۔ پس ایک آدمی کے لیے نصف دینار تھا، اور جب اس کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی تو اسے ایک دینار دیتے تھے۔ پھر انہوں نے زمین کے مالک ابن قاطورا کو بلایا اور کہا: ”مجھے بتاؤ! مہینہ اور دن میں آدمی کو کتنا کھانا کافی ہوتا ہے؟“ وہ مُدی اور قِسط (دو پیمانے) لے کر آیا اور اس نے کہا: ”اسے یہ کافی ہے: مہینے میں دو مُدی، ایک قِسط زیتون کا تیل اور ایک قِسط سرکہ۔“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، تو دو مُدی گندم کا آٹا بنایا گیا، پھر اسے گوندھا گیا اور روٹی پکائی گئی۔ پھر دو قِسط زیتون کا سالن بنایا گیا۔ پھر اس پر تیس آدمیوں کو بٹھایا گیا، پس وہ ان کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہو گیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مُدی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور بائیں ہاتھ میں قِسط پکڑا، پھر (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُصَهُمَا بَعْدِي، اللَّهُمَّ مَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ عُمُرَهُ» ”اے اللہ! کسی کے لیے حلال نہیں کہ ان دونوں میں سے کسی کو میرے بعد کم کرے۔ اے اللہ! جو انہیں کم کرے تو اس کی عمر کم کر دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12971]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں