السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2693. -- باب: ما جاء في قول أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه: ما من أحد من المسلمين إلا له حق في هذا المال
-- باب: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے متعلق جو مروی ہے: ”مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو“
حدیث نمبر: 13002
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ ⦗٥٧٢⦘ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" اجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ، فَانْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ"، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ فَتَنْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ سَمِعْتُ اللهَ يَقُولُ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْلَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} [الحشر: ٨] ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا} الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ الْآيَةَ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ جَاءَوا مِنْ بَعْدِهِمْ} الْآيَةَ، وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَلَهُ حَقٌّ فِي هَذَا الْمَالِ، أُعْطِيَ مِنْهُ أَوْ مُنِعَ، حَتَّى رَاعٍ بِعَدَنَ".
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کے اہل کا خیال کرتے ہو؟ پھر ان سے کہا: میں تم کو حکم دیتا ہوں، اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کا اہل خیال کرتے ہو؟ اور میں نے اللہ کی کتاب کی آیات پڑھی ہیں: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ﴾ سے ﴿أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ [سورة الحشر: 7-8] تک، اللہ کی قسم! وہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے، ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9] ، اللہ کی قسم! ان اکیلوں کے لیے بھی نہیں، ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 10] ، اللہ کی قسم! مسلمانوں میں سے ہر ایک کا اس مال میں حق ہے اسے دیا جائے یا نہ دیا جائے، اگرچہ عدن کا چرواہا ہی کیوں نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13002]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13003
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ:" ثُمَّ تَلَا {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: ٦٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، فَقَالَ:" هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ، ثُمَّ تَلَا {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا لِهَؤُلَاءِ، ثُمَّ تَلَا {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى} [الحشر: ٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"،" ثُمَّ قَرَأَ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ} [الحشر: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ تَلَا {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ، قَالَ: وَقَرَأَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ:" فَهَذِهِ اسْتَوْعَبَتِ النَّاسَ، وَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ، إِلَّا مَا تَمْلِكُونَ مِنْ رَقِيقِكُمْ، فَإِنْ أَعِشْ إِنْ شَاءَ اللهُ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا سَيَأْتِيهِ حَقُّهُ حَتَّى الرَّاعِي بِسُرَّ وَحِمْيَرَ يَأْتِيهِ حَقُّهُ، وَلَمْ يَعْرَقْ فِيهِ جَبِينُهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا الْحَدِيثُ يَحْتَمِلُ مَعَانِيَ، مِنْهَا أَنْ يَقُولَ: لَيْسَ أَحَدٌ يُعْطِي، بِمَعْنَى حَاجَةٍ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، أَوْ مَعْنَى أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْفَيْءِ الَّذِينَ يَغْزُونَ، إِلَّا وَلَهُ حَقٌّ فِي هَذَا الْمَالِ؛ الْفَيْءِ أَوِ الصَّدَقَةِ، وَهَذَا كَأَنَّهُ أَوْلَى مَعَانِيهِ؛ فَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ:" لَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مَرَّةٍ مُكْتَسِبٍ"، وَالَّذِي أَحْفَظُ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْأَعْرَابَ لَا يُعْطَوْنَ مِنَ الْفَيْءِ. ⦗٥٧٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى هَذَا فِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَكَى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّافِعِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي كِتَابِ السِّيَرِ الْقَدِيمِ مَعْنَى هَذَا، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: إِلَّا أَنْ لَا يُصَابَ أَحَدُ الْمَالَيْنِ، وَيُصَابَ الْآخَرُ بِالصِّنْفَيْنِ إِلَيْهِ حَاجَةٌ فَيُشْرِكُ بَيْنَهُمْ فِيهِ، قَالَ: وَقَدْ أَعَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُرُوجِهِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ بِمَالٍ أَتَى بِهِ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ مِنْ صَدَقَةِ قَوْمِهِ، فَلَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ ذَلِكَ؛ إِذْ كَانَتْ بِالْقَوْمِ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، وَالْفَيْءُ مِثْلُ ذَلِكَ.
مالک بن اوس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک قصہ بیان کیا، پھر تلاوت کی: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ﴾ [سورة التوبة: 60] آخر تک، ”یہ ان کے لیے ہے۔“ پھر تلاوت کی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] آخر تک، پھر کہا: ”یہ ان کے لیے ہے“ پھر تلاوت کی ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [سورة الحشر: 7] آخر تک، پھر کہا: ”یہ ان کے لیے ہے۔“ پھر پڑھا: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ﴾ [سورة الحشر: 8] آخر تک، ”یہ مہاجرین ہیں۔“ پھر تلاوت کی: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9] آخر تک، پھر کہا: ”یہ انصار ہیں۔“ اور پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10] آخر تک، پھر کہا: ”اس آیت نے تمام مسلمانوں کو شامل کر دیا ہے، مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں، جس کا اس مال میں حق نہ ہو سوائے غلاموں کے۔ پس اگر میں زندہ رہا تو مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا کہ جسے اس کا حق نہ پہنچے، حتیٰ کہ ایک چرواہا سُر میں یا حمیر میں ہو تو اسے اس کا حق ملے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آئے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں کئی معنوں کا احتمال ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اسے ضرورت سے دیا جا سکتا ہے، اہل صدقہ میں سے اور اہل فئی میں سے۔ وہ لوگ جو غزوؤں پر جاتے ہیں مگر اس کے لیے اس مالِ فئی یا صدقہ میں اس کا حق ہے، یہ اس کے سب سے عمدہ معنیٰ ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے بارے میں فرمایا: ”اس میں غنی اور کمانے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے“ اور جو میں نے اہل علم سے یاد کیا ہے کہ اعراب کو فئی میں سے نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13003]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں کئی معنوں کا احتمال ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اسے ضرورت سے دیا جا سکتا ہے، اہل صدقہ میں سے اور اہل فئی میں سے۔ وہ لوگ جو غزوؤں پر جاتے ہیں مگر اس کے لیے اس مالِ فئی یا صدقہ میں اس کا حق ہے، یہ اس کے سب سے عمدہ معنیٰ ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے بارے میں فرمایا: ”اس میں غنی اور کمانے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے“ اور جو میں نے اہل علم سے یاد کیا ہے کہ اعراب کو فئی میں سے نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13003]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2694. -- باب: لا يفرض واجبا إلا لبالغ يطيق مثله القتال
-- باب: اس بالغ شخص کے علاوہ جو جنگ کی طاقت رکھتا ہو کسی اور کا باقاعدہ وظیفہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث نمبر: 13004
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ لِلْقِتَالِ، قَالَ: وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، قَالَ: ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي" قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ إِذْ ذَاكَ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ. ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ بِأَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ أَنْ يَجْعَلُوهُ مَعَ الْعِيَالِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ان کو لڑنے کے لیے بلایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چودہ برس کا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت نہ دی، پھر خندق کے دن بلایا میں نے کہا: میں پندرہ برس کا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، جب وہ خلیفہ تھے، میں نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد ہے، پھر اپنے عاملوں کو لکھا کہ اس کے لیے حصہ مقرر کرو جو پندرہ برس کا ہے اور جو اس کے علاوہ ہو اسے گھر والوں سے ملا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13004]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13005
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اجْتَمِعُوا لِهَذَا الْفَيْءِ حَتَّى نَنْظُرَ فِيهِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لَهُمْ بَعْدُ:" إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لَهُ حَتَّى نَنْظُرَ فِيهِ، وَإِنِي قَرَأْتُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسَتْغَنَيْتُ بِهِنَّ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الحشر: ٧] إِلَى قَوْلِهِ {شَدِيدُ الْعِقَابِ} [الحشر: ٧] ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، ثُمَّ قَرَأَ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ} [الحشر: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ}، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، وَلَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأُلْحِقَنَّ آخِرَ النَّاسِ بِأَوَّلِهِمْ، فَلَأَجْعَلَنَّهُمْ بَبَّانًا وَاحِدًا، يَعْنِي بَاجًا وَاحِدًا"، قَالَ: فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ وَهُوَ يَقْسِمُ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ ⦗٥٧٤⦘ لُهَيَّةَ، امْرَأَةٌ كَانَتْ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: اكْسُنِي خَاتَمًا، فَقَالَ لَهُ:" الْحَقْ بِأُمِّكَ تَسْقِيكَ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، فَوَاللهِ مَا أَعْطَاهُ شَيْئًا".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مال فئی کو جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں۔ پھر بعد میں یہی کہا کہ میں نے تم کو حکم دیا ہے، اسے جمع کرو تاکہ ہم اندازہ لگائیں اور میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے، پس میں نے انہیں کافی پایا۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الحشر: 7] الی قولہ ﴿شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [سورة الحشر: 7] اللہ کی قسم! یہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے، پھر پڑھا: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 8] پھر پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10] اللہ کی قسم! ان کے لیے بھی نہیں اور اگر آئندہ سال میں باقی رہا تو میں ضرور ملاؤں گا آخری لوگوں کو بھی پہلوں سے، پس میں ضرور ان کو ایک ہی قسم بناؤں گا۔ جب وہ تقسیم کر رہے تھے تو ان کا بیٹا آیا، عبدالرحمن بن لہیہ جو عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی سے تھا، اس نے کہا: مجھے انگوٹھی پہناؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: اپنی ماں سے کہو، وہ تجھے ستو پلائے، اللہ کی قسم! اسے کوئی چیز نہ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13005]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2695. -- باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة
-- باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے کافی ہے اور اب میں مسلمانوں کا والی بنا دیا گیا ہوں، پس اب آلِ ابوبکر بھی اسی سے کھائیں گے اور ابوبکر مسلمانوں کا مالِ تجارت بڑھاتا رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13006]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2070»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13007
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، وہ اور ان کے گھر والے کھاتے تھے اور وہ اپنے مال میں کاروبار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حُضِرَ:" انْظُرِي كُلَّ شَيْءٍ زَادَ فِي مَالِي مُنْذُ دَخَلْتُ فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ فَرُدِّيهِ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا فَمَا وَجَدْنَا زَادَ فِي مَالِهِ إِلَّا نَاضِحًا كَانَ يَسْقِي بُسْتَانًا لَهُ، وَغُلَامًا نُوبِيًّا كَانَ يَحْمِلُ صَبِيًّا لَهُ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَى وَقَالَ:" رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کہا: میرے مال میں خلافت کے دوران ہر چیز کی زیادتی دیکھو، پس میرے بعد خلیفہ تک لوٹا دینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب وہ فوت ہو گئے، ہم نے دیکھا ان کے مال میں صرف ایک اونٹنی زائد پائی، جس سے باغ کو پانی دیتے تھے اور غلام جو بچوں کو اٹھاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا۔ کہتی ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رونے لگے اور کہا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد بڑی سختی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13008]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التَّقْوَى، وَأَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، أَلَا وَإِنَّ الصِّدْقَ عِنْدِي الْأَمَانَةُ، وَالْكَذِبَ الْخِيَانَةُ، أَلَا وَإِنَّ الْقَوِيَّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ، وَالضَّعِيفَ عِنْدِي قَوِيٌّ حَتَّى آخُذَ لَهُ الْحَقَّ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ وُلِّيتُ عَلَيْكُمْ وَلَسْتُ بِأَخْيَرِكُمْ" قَالَ الْحَسَنُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرُهُمْ غَيْرُ مُدَافَعٍ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ يَهْضِمُ نَفْسَهُ. ثُمَّ قَالَ:" وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَفَانِي هَذَا الْأَمْرَ أَحَدُكُمْ" - قَالَ الْحَسَنُ: صَدَقَ ⦗٥٧٥⦘ وَاللهِ - وَإِنْ أَنْتُمْ أَرَدْتُمُونِي عَلَى مَا كَانَ اللهُ يُقِيمُ نَبِيَّهُ مِنَ الْوَحْيِ مَا ذَلِكَ عِنْدِي، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَرَاعُونِي. فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟" قَالَ: السُّوقَ. قَالَ:" قَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ"، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي. قَالَ: تُعْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ، قَالَ:" وَيْحَ عُمَرَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعُنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا" قَالَ: فَأَنْفِقْ فِي سَنَتَيْنِ وَبَعْضِ أُخْرَى ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ قُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعَنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا، فَغَلَبَنِي فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَخُذُوا مِنْ مَالِي ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَرُدُّوهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ. قَالَ: فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: عقلمندی تقویٰ ہے اور حماقت برائی ہے اور صدق میرے نزدیک امانت ہے اور جھوٹ میرے نزدیک خیانت ہے، خبردار! قوی میرے نزدیک ضعیف ہے، یہاں تک کہ اس سے حق لے لوں اور کمزور میرے نزدیک قوی ہے، یہاں تک کہ اس کا حق لے لوں۔ خبردار! میں تمہارا والی بنا ہوں اور میں تم میں بہتر نہیں ہوں۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ان میں بہتر تھے، لیکن مومن اپنے آپ کو کم تر سمجھتا ہے، پھر (ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں پسند کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مجھے اس عہدے پر کافی ہو جائے۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم! (پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:) اور اگر تم مجھ سے اس چیز کی توقع رکھو جس کے ذریعے اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے سیدھا رکھتا تھا تو وہ میرے پاس نہیں ہے، میں تو صرف ایک انسان ہوں، پس میرا خیال رکھنا۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بازار کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق آپ کے پاس ایسا معاملہ آگیا ہے جس نے آپ کو بازار سے مشغول کر دیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا یہ مجھے میرے گھر والوں (کی کفالت) سے بھی مشغول کر دے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معروف طریقے سے مال لے لو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! میں ڈرتا ہوں کہ میرے لیے اس بیت المال سے کچھ کھانا جائز نہ ہو۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے دو سال اور چند مہینوں میں آٹھ ہزار درہم خرچ کیے۔ جب موت آئی تو کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں ڈرتا ہوں کہ میرے لیے بیت المال سے کچھ کھانا جائز نہ ہو، پس وہ مجھ پر غلبہ پا گئے۔ پس جب میں فوت ہوں تو میرے مال سے آٹھ ہزار درہم لے لینا اور بیت المال میں لوٹا دینا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس وہ درہم لائے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، انہوں نے اپنے بعد والوں کے لیے شدید مشکل چھوڑی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13009]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13010
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِبَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَنْظُرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَنَا، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ، فَقُلْنَا: سُرِّيَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِسُرِّيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا أَحِلُّ لَهُ، إِنِّي لَمِنْ مَالِ اللهِ تَعَالَى، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِمَا قُلْنَا، وَبِمَا قَالَتْ، فَقَالَ:" صَدَقَتْ، مَا تَحِلُّ لِي، وَمَا هِيَ لِي بِسُرِّيَّةٍ، وإِنَّهَا لَمِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ هَذَا الْمَالِ، أَسْتَحِلُّ مِنْهُ حُلَّتَيْنِ: حُلَّةً لِلشِّتَاءِ، وَحُلَّةً لِلصَّيْفِ، وَمَا يَسَعُنِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي وَقُوتِي وَقُوتِ أَهْلِ بَيْتِي، وَسَهْمِي مَعَ الْمُسْلِمِينَ كَسَهْمِ رَجُلٍ، لَسْتُ بِأَرْفَعِهِمْ وَلَا أَوْضَعِهِمْ".
احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تھے کہ آپ ہمیں اجازت دیں، ایک لونڈی آئی، ہم نے کہا: امیر المومنین کی لونڈی ہو؟ اس نے سنا تو کہا: میں امیر المومنین کی لونڈی نہیں ہوں اور میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوں، بے شک میں اللہ کے مال میں سے ہوں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، وہ میرے لیے حلال نہیں ہے اور نہ وہ میری لونڈی ہے اور وہ اللہ کے مال میں سے ہے اور میں تم کو خبر دیتا ہوں میرے لیے اس میں سے کیا حلال ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے دو چادریں حلال کی ہیں؛ ایک گرمی کی اور ایک سردی کی اور میرے حج، عمرہ، میرے کھانے اور گھر والوں کا کھانا اور میرا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ان جیسے ایک آدمی کی طرح ہے، میں ان میں بلند و بالا نہیں ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13010]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13011
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَأِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ".
یرفاء غلام کہتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں ایسے رکھا ہے جیسے یتیم کا والی ہوتا ہے، اگر مجھے ضرورت ہوتی ہے تو اس سے لے لیتا ہوں۔ جب میں آسانی میں ہوتا ہوں تو لوٹا دیتا ہوں اور اگر میں اس سے بے پروا ہوں تو اس سے بچ جاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13011]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح