السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13101
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. فَآثَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَبِيلَتِهِ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْمَهْدِيِّ أَمَرَ الْمَهْدِيُّ بَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ، وَهِيَ سَابِقَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ".
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے قبیلہ پر ترجیح دی، جب مہدی کا زمانہ آیا تو مہدی نے بنی عدی کو حکم دیا، پس ان کو حصے پر مقدم کیا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» ”اے اللہ! اسلام کو عزت عطا فرما عمر رضی اللہ عنہ کے ذریعے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13101]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13102
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو خاص طور پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے عزت عطا فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13102]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13103
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
ہشام رحمہ اللہ سے پچھلی حدیث کی طرح منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13103]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13104
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَأنا أَبُو زَكَرِيَّا، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدٍ قَالَا:.
اس روایت میں جعفر اور محمد کہتے ہیں: [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13104]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3863»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ:" مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ فَهُوَ لِأَنَّ ⦗٦٠٣⦘ بَنِي سَهْمٍ كَانُوا مُظَاهِرِينَ لِبَنِي عَدِيٍّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَاجْتَمَعَتْ بَنُو جُمَحٍ عَلَى بَنِي عَدِيٍّ لِنَاثِرَةٍ بَيْنَهُمْ، فَقَامَتْ دُونَهُمْ سَهْمٌ إِخْوَةُ جُمَحٍ فَقَالُوا: إِنَّ عَدِيًّا أَقَلُّ مِنْكُمْ عَدَدًا، فَإِنْ شِئْتُمْ فَأَخْرِجُوا إِلَيْهِمْ أَعْدَادَهُمْ مِنْكُمْ، وَنُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ وَفَّيْنَاهُمْ مِنَّا حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَكُمْ، فَتَحَاجَزُوا. قَالَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، وَأَمَّا أَبُو عُبَيْدَةَ فَإِنَّهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَهْيَبَ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہیں عزت ملنا شروع ہوگئی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب اسلام آیا تو بنی سہم اور ہمارا معاملہ ایک ہی تھا۔ چونکہ بنی سہم جاہلیت میں بنی عدی کے مددگار تھے۔ بنو جمح، آپس کی ایک دشمنی کی وجہ سے بنی عدی کے خلاف جمع ہوئے تو بنی جمع کے بھائی بنی سہم ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: بنی عدی تعداد میں تم سے تھوڑے ہیں، اگر تم چاہو تو اپنے میں سے ان کی تعداد کے برابر آدمی ان کے مقابلے میں نکالو، ہم تمہیں اور انہیں (آپس میں) چھوڑ دیں گے اور اگر تم چاہو تو ہم انہیں اپنی طرف سے ادا کردیں۔ وہ تمہارے جیسے ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے سے رک گئے۔ یہ بات زبیر بن بکار رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک ہے۔ یہ قول محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13105]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب اسلام آیا تو بنی سہم اور ہمارا معاملہ ایک ہی تھا۔ چونکہ بنی سہم جاہلیت میں بنی عدی کے مددگار تھے۔ بنو جمح، آپس کی ایک دشمنی کی وجہ سے بنی عدی کے خلاف جمع ہوئے تو بنی جمع کے بھائی بنی سہم ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: بنی عدی تعداد میں تم سے تھوڑے ہیں، اگر تم چاہو تو اپنے میں سے ان کی تعداد کے برابر آدمی ان کے مقابلے میں نکالو، ہم تمہیں اور انہیں (آپس میں) چھوڑ دیں گے اور اگر تم چاہو تو ہم انہیں اپنی طرف سے ادا کردیں۔ وہ تمہارے جیسے ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے سے رک گئے۔ یہ بات زبیر بن بکار رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک ہے۔ یہ قول محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13105]
حدیث نمبر: 13106
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَأَبِي خَيْثَمَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَأَخَّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فِي الْعَطَاءِ لِبُعْدِ نَسَبِهِ، لَا لِنُقْصَانِ شَرَفِهِ، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضِ مَنْ تَقَدَّمَهُ مَعَ كَوْنِهِ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ جُمْلَةِ الْأَقْرَبِينَ..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبیدہ عطاء میں مؤخر ہے، نسب کی دوری کی وجہ سے نہ کہ شرف کی وجہ سے۔ وہ بعض قریبی قریشیوں سے افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13106]
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبیدہ عطاء میں مؤخر ہے، نسب کی دوری کی وجہ سے نہ کہ شرف کی وجہ سے۔ وہ بعض قریبی قریشیوں سے افضل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13106]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ومسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
2704. -- باب: إعطاء الفيء على الديوان ومن يقع به البداية
-- باب: دیوان (رجسٹر) کے مطابق مالِ فے عطا کرنے اور جس سے اس کی شروعات کی جائے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 13107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ صُبَيْحٍ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤] صَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا فَجَعَلَ يُنَادِي:" يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَدِيٍّ، يَا بَنِي فُلَانٍ" لِبُطُونِ قُرَيْشٍ، حَتَّى اجْتَمَعُوا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ. وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ بَنِيَ فِهْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا: ”اے بنی فہر! اے بنی عدی! اور اے بنی فلاں!“ قریش کے بڑوں کو مخاطب کیا، یہاں تک کہ وہ جمع ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13107]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2705. -- باب: البداية بعد قريش بالأنصار لمكانهم من المسلمين
-- باب: مسلمانوں میں انصار کے مرتبے کی وجہ سے قریش کے بعد ان سے شروعات کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13108
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجَّا الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ أَخُو عَبْدَانَ، ثنا عُثْمَانُ يَعْنِي أَبَاهُ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا هِشَامُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: مَجْلِسُنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَخَرَجَ وَقَدْ ⦗٦٠٤⦘ عَصَبَ رَأْسَهُ بِحَاشِيَةِ ثَوْبٍ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَلَمْ يَصْعَدْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ:" أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ؛ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَقَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ شَاذَانَ.
ہشام بن زید فرماتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے۔ ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی کسی مجلس کے پاس سے گزرے اور وہ رو رہے تھے۔ کہا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ کے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ منبر پر چڑھے اور اس کے بعد منبر پر نہ چڑھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: ”میں تم کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں، لیکن اس کا بدلہ جو انہیں چاہیے تھا وہ ملنا ابھی باقی ہے۔ اس لیے تم بھی ان کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13108]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2706. -- باب: ما جاء في ترتيبهم
-- باب: ان (لوگوں) کی ترتیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13109
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَبَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ" قَالَ: فَقِيلَ: فَضَّلَ عَلَيْنَا، قَالَ: فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. وَقَالَ:" ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ" وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ سَعْد ٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَادَةَ: مَا أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا، فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے بہترین گھر بنو نجار کے ہیں، پھر بنو عبدالاشہل کے ہیں، پھر بنو حارث کے ہیں اور بنو ساعدہ کے ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔“ کہا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسروں کو) ہم پر فضیلت دی ہے۔ تو کہا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13109]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2511»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13110
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُرُوجِهِ وَرُجُوعِهِ، قَالَ: حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ". فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْنَا آخِرَهَا دَارًا؟ فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرَهَا، فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ؟" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ (راوی نے) سب کچھ نکلنا اور لوٹنا بیان کیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”انصار کے بہترین گھر بنی نجار کے گھر ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے گھر ہیں، پھر بنی حارث کے گھر ہیں، پھر بنی ساعدہ کے گھر ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔“ پس ہم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ملے۔ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ پس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم بہترین لوگوں میں سے ہو؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1492»
الحكم على الحديث: صحيح