السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2740. -- باب: لا تحرم على آل محمد صلى الله عليه وسلم صدقة التطوع
-- باب: آل محمد ﷺ پر نفلی صدقہ حرام نہیں ہے
حدیث نمبر: 13249
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ الْيَرْبُوعِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: بَعَثَتْ إِلِيَّ نُسَيْبَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ بِشَاةٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟" قَالَتْ: لَا إِلَّا مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ قَالَ:" قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نسیبہ انصاریہ کی طرف ایک بکری بھیجی گئی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے جو بکری (کا گوشت) نسیبہ نے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب کرو، یہ اپنی جگہ پر پہنچ گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13249]
تخریج الحدیث: «بخاري 1446۔ مسلم 1074»
الحكم على الحديث: بخاري 1446
2741. -- باب: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل باسم الهدية ولا يقبل ما كان باسم الصدقات إما تحريما وإما تورعا
-- باب: نبی کریم ﷺ ہدیہ کے نام سے دی جانے والی چیز قبول فرما لیتے تھے اور صدقہ کے نام سے دی جانے والی چیز قبول نہیں فرماتے تھے خواہ حرام ہونے کی وجہ سے یا پرہیزگاری کی بنا پر
حدیث نمبر: 13250
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالشَّيْءِ سَأَلَ عَنْهُ أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قَالُوا: هَدِيَّةٌ مَدَّ يَدَهُ، وَإِنْ قَالُوا: صَدَقَةٌ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" خُذُوا"، ⦗٥٣⦘ وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ.
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوال کرتے: ”کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے؟“ اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے لیتے اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرماتے: ”اسے لے لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13250]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ مسند احمد 5/5۔ 20313»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 13251
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا قَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ أَهُوَ هَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ، فَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا" وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ وَأَكَلَ مَعَهُمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی کھانا لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے: ”کیا ہدیہ ہے یا صدقہ؟“ اگر کہا جاتا: ”صدقہ ہے“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے: ”اسے کھا لو“ اور خود نہ کھاتے اور جب کہا جاتا: ”ہدیہ ہے“ تو اپنے ہاتھ سے اسے پکڑ لیتے اور ان کے ساتھ کھاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13251]
تخریج الحدیث: «بخاري 2576۔ مسلم 1077»
الحكم على الحديث: بخاري 2576
2742. -- باب: الرجل يخرج صدقته إلى من ظنه من أهل السهمان فبان أنه ليس من أهل السهمان
-- باب: اس شخص کا بیان جو کسی کو مستحق سمجھ کر اپنا صدقہ دے لیکن بعد میں ظاہر ہو کہ وہ مستحقین میں سے نہیں تھا
حدیث نمبر: 13252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُوَيْدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُشَيْرِيُّ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، قَالُوا: أنبأ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ تَصَدَّقَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تَصَدَّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تَصَدَّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ، فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ، فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهُ وَرَدَ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا کہ میں رات کو صدقہ کروں گا، وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (نادانستہ طور پر) ایک زانیہ عورت کو دے دیا، صبح کو لوگ یہ باتیں کرنے لگے کہ زانیہ کو بھی صدقہ دیا جانے لگا ہے، اس نے کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، زانیہ کو صدقہ؟ دوسری رات وہ صدقہ لے کر پھر نکلا اور ایک مال دار آدمی کو دے دیا، صبح کو لوگ پھر باتیں کرنے لگے کہ غنی لوگوں کو بھی صدقہ دیا جا رہا ہے، اس نے پھر کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟ تیسری رات وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو پھر لوگوں نے باتیں کیں کہ رات کو چور کو صدقہ دیا گیا ہے، تو اس نے کہا: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، پہلے زانیہ کو، پھر غنی کو اور پھر چور کو میں صدقے دے آیا ہوں، پھر اس کو بتایا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے؛ جو زانیہ ہے ہو سکتا ہے وہ زنا سے باز آ جائے، اور مال دار بندہ ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت حاصل کر کے صدقہ دینا شروع کر دے، اور ہو سکتا ہے کہ چور اس سے سبق حاصل کر کے چوری سے باز آ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13252]
تخریج الحدیث: «بخاري 1421۔ مسلم 1022»
الحكم على الحديث: بخاري 1421
حدیث نمبر: 13253
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ ⦗٥٤⦘ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ السُّلَمِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ كَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ وَرَدَ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ، فَأَمَّا الْفَرْضُ فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ"، وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ لِوَلَدٍ وَلَا لِوَالِدٍ حَقٌّ فِي صَدَقَةٍ مَفْرُوضَةٍ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.
سیدنا معن بن یزید سلمی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں، میرے والد اور میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح کر دیا، اور میں اپنا جھگڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے کر گیا کہ میرے والد یزید کچھ دینار صدقہ کرنے کے لیے لے کر نکلے اور انہیں مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ دیا، میں آیا اور وہ لے لیے اور انہیں لے کر والد کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ تمہیں دینے کا نہیں تھا، میں اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یزید! تیرے لیے وہ ہے جو تو نے نیت کی اور اے معن! تیرے لیے وہ ہے جو تو نے لے لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13253]
تخریج الحدیث: «بخاري 1422»
الحكم على الحديث: بخاري 1422
حدیث نمبر: 13254
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: خَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفْلَجَنِي، وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، وَبَايَعْتُهُ أَنَا وَجَدِّي قَالَ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا كَانَتْ خُصُومَتُكَ؟ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَغْشَى الْمَسْجِدَ، فَيَتَصَدَّقُ عَلَى رِجَالٍ يَعْرِفُهُمْ، فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَمَعَهُ صُرَّةٌ فَظَنَّ أَنِّي بَعْضُ مَنْ يَعْرِفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ تَبَيَّنَ لَهُ فَأَتَانِي فَقَالَ: رُدَّهَا، فَأَبَيْتُ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَ لِيَ الصَّدَقَةَ وَقَالَ:" لَكَ أَجْرُ مَا نَوَيْتَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَظَاهِرُ هَذَا أَنَّ الْمُتَصَدِّقَ كَانَ رَجُلًا أَجْنَبِيًّا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو جویریہ جرمی فرماتے ہیں: میں نے معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری منگنی کی اور میرا نکاح کر دیا، میں نے اور میرے دادا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے انہیں کہا: آپ کا جھگڑا کیا تھا؟ فرمایا: ایک شخص مسجد میں رہتا تھا اور اپنے جاننے والے لوگوں پر صدقہ کرتا تھا، ایک رات وہ آیا اور اس کے پاس تھیلی تھی۔ اس نے گمان کیا کہ میں بھی اس کی جان پہچان والا ہوں، جب صبح ہوئی تو اسے پتہ چلا، وہ میرے پاس آیا اور کہا: وہ مجھے واپس کر۔ میں نے انکار کیا پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے صدقہ جائز قرار دیا اور فرمایا: ”تیرے لیے وہ ہے جو تو نے نیت کی“
شیخ فرماتے ہیں: اس سے ظاہر ہے کہ صدقہ کرنے والا اجنبی شخص تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13254]
شیخ فرماتے ہیں: اس سے ظاہر ہے کہ صدقہ کرنے والا اجنبی شخص تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13254]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2743. -- باب: ميسم الصدقة
-- باب: صدقہ کے جانوروں کو داغنے کا بیان
حدیث نمبر: 13255
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ وَفِي يَدِهِ مِيسَمٌ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کو صبح صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھٹی دیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگانے والا آلہ تھا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کے اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13255]
تخریج الحدیث: «بخاري 1502۔ مسلم 2119»
الحكم على الحديث: بخاري 1502
حدیث نمبر: 13256
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَابْنُ يَاسِينَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ، فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَغَدَوْتُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حَوْتَكِيَّةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مُوسَى مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا اور کہا: اے انس! اس بچے کو دیکھ، اس کو کوئی چیز (کھانے کو) نہ ملے یہاں تک کہ تم صبح اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ کہتے ہیں: میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر «حَوْتَكِيَّة» چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے آنے والے اونٹوں کی پشتوں پر نشان لگا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13256]
تخریج الحدیث: «بخاري5824۔ مسلم2119»
الحكم على الحديث: بخاري5824
حدیث نمبر: 13257
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعَمٍ كَثِيرَةٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، وَأَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ فِي الظَّهْرِ لَنَاقَةً عَمْيَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَدْفَعُهَا إِلَى أَهْلِ الْبَيْتِ يَنْتَفِعُونَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ: وَهِيَ عَمْيَاءُ؟ قَالَ: يَقْطُرُونَهَا بِالْإِبِلِ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَدْتُمْ وَاللهِ أَكْلَهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنُحِرَتْ" قَالَ: وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ، فَلَا تَكُونُ فَاكِهَةٌ، وَلَا طُرَيْفَةٌ إِلَّا جَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْهَا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ قَالَ: فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنَ اللَّحْمِ فَصُنِعَ، فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَسِمُ وَسْمَيْنِ وَسْمَ جِزْيَةٍ وَوَسْمَ صَدَقَةٍ، وَبِهَذَا نَقُولُ.
سیدنا زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جزیہ کے اونٹ لائے گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک اونٹنی اندھی ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ اونٹنی اہل بیت کو دے دیتے ہیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ میں نے کہا: وہ اندھی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اونٹوں کی قطار میں شامل کر لیں گے، میں نے کہا: وہ زمین سے کیسے کھائے گی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جزیہ والے مال سے ہے یا صدقہ کے مال سے؟ میں نے کہا: جزیہ کے مال سے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا (اسے) کھانے کا ارادہ ہے، تو میں نے کہا: اس پر جزیہ کی نشانی لگائی گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ ذبح کر دی گئی۔ (راوی کہتے ہیں:) آپ کے پاس نو پیالے تھے، جو بھی پھل یا عمدہ چیز آتی آپ اس میں سے کچھ ان پیالوں میں رکھ کر ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیتے، اور جو سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا جاتا وہ سب سے آخر میں ہوتا، اگر اس میں کوئی کمی ہوتی تو وہ سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں ہوتی۔ چنانچہ آپ نے اس اونٹنی کا گوشت ان پیالوں میں رکھ کر ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور باقی گوشت کا کھانا تیار کروایا گیا اور اس میں مہاجرین و انصار کو دعوت دی گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو نشان لگاتے تھے: جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13257]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو نشان لگاتے تھے: جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13257]
تخریج الحدیث: «موطا 619»
الحكم على الحديث: موطا 619
2744. -- باب: ما جاء في موضع الوسم وفي صفة الوسم
-- باب: داغنے کی جگہ اور داغنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13258
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللهُ الَّذِي وَسَمَهُ"، ⦗٥٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے اور اس کے چہرے پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی: ”اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے اس کو داغا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13258]
تخریج الحدیث: «مسلم 2117»
الحكم على الحديث: مسلم 2117