السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2794. -- باب: طعام الفجأة
-- باب: اچانک ملنے والے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 13412
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا" وَهَذَا وَرَدَ فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ عَلَى آخَرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَأْكُلُ لِيَأْكُلَ مَعَهُ، وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ بِنَفْيِ التَّخْصِيصِ الَّذِي تَوَهَّمَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ فِي طَعَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی، اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی ہے اور جو کوئی بغیر دعوت کے داخل ہو گیا وہ چور بن کر گیا اور ڈاکو بن کر نکلا۔“
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13412]
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13412]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13413
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعُكْبَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنْ شِعْبِ الْجَبَلِ، وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ جَحْفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ إِلَيْهِ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعب جبل کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی اور ہماری لوہے یا چمڑے کی ڈھال پر کھجوریں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13413]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13414
وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ تَمْرًا عَلَى تُرْسٍ قَالَ:" فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، فَقُلْنَا: هَلُمَّ فَقَعَدَ فَأَكَلَ مَعَنَا مِنَ التَّمْرِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ لوگ ایک ڈھال پر کھجوریں کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے آئے تھے، ہم نے عرض کیا: تشریف لائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہمارے ساتھ کھجوریں کھائیں اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13414]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13415
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُهْ تَأْكُلْ، فَقَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ قَالَ: كُنَّا نَصُومُهُ، ثُمَّ تُرِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ وَكُلُّ ذَلِكَ يَنْفِي التَّخْصِيصَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورا والے دن آئے اور وہ کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: اے ابو محمد! قریب ہو اور کھاؤ، تو انہوں نے کہا: میں روزہ دار ہوں، انہوں نے فرمایا کہ ہم بھی (اس دن کا) روزہ رکھتے تھے، پھر چھوڑ دیا گیا۔
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13415]
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13415]
2795. -- باب: ما خص به من زيادة الوعك لزيادة الأجر ولم يذكره أبو العباس رحمه الله
-- باب: اجر میں اضافے کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ بخار کی شدت کے خاص ہونے کا بیان اور اسے ابوالعباس رحمہ اللہ نے ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 13416
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّهَّانُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ:" أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ" قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذَى مَرَضٍ، فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا"، ⦗١١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کو تو بہت زیادہ بخار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہوگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر کوئی بھی مسلمان نہیں ہے کہ اس کو کوئی تکلیف آئے یا بیماری مگر اللہ تعالیٰ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13416]
تخریج الحدیث: «بخاري 5647۔ مسلم 2571»
الحكم على الحديث: بخاري 5647
2796. -- باب: لن يموت نبي حتى يخير بين الدنيا والآخرة
-- باب: کوئی نبی اس وقت تک وفات نہیں پاتا جب تک اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار نہ دے دیا جائے
حدیث نمبر: 13417
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ نَبِيًّا لَا يَمُوتُ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} [النساء: ٦٩] قَالَتْ: فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم سنا کرتی تھیں کہ نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتے جب تک کہ انہیں دنیا اور آخرت کا اختیار نہ دیا جائے، اور وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں تھے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ میں نے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [سورة النساء: 69] “ فرماتی ہیں کہ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں اختیار دیا جا رہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13417]
تخریج الحدیث: «بخاري»
الحكم على الحديث: بخاري
2797. -- باب: ما خص به من أن أزواجه أمهات المؤمنين، وأنه يحرم نكاحهن من بعده على جميع العالمين
-- باب: آپ ﷺ کے ساتھ اس بات کے خاص ہونے کا بیان کہ آپ کی بیویاں امہات المومنین ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد تمام جہان والوں پر ان سے نکاح حرام ہے
حدیث نمبر: 13418
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَزَوَّجْتُ عَائِشَةَ أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ، وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مِهْرَانُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] ۔
سلیمان (بن احمد) نے کہا: اسے سفیان سے مہران کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13418]
سلیمان (بن احمد) نے کہا: اسے سفیان سے مہران کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13418]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13419
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ حُكَّهَا" قَالَ: هَذَا مُصْحَفُ أَبِي فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، ⦗١١١⦘ فَقَالَ:" إِنَّهُ كَانَ يُلْهِينِي الْقُرْآنُ، وَيُلْهِيكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک بچے کے پاس سے گزرے وہ پڑھ رہا تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں،“ تو انہوں نے کہا: ”اے بچے! اسے مٹا دے۔“ اس نے کہا: ”یہ مصحفِ ابی (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) ہے،“ تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے (میں قرآن پڑھتا ہوں) اور تجھے بازار کا شور و غل مصروف رکھتا ہے (یعنی خرید و فروخت)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13419]
حدیث نمبر: 13420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا يُونُسُ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ {وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت پڑھتے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13420]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 13421
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ شِئْتِ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الْجَنَّةِ، فَلَا تَزَوَّجِي بَعْدِي، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ فِي الْجَنَّةِ لِآخِرِ أَزْوَاجِهَا فِي الدُّنْيَا، فَلِذَلِكَ" حَرَّمَ اللهُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْكَحْنَ بَعْدَهُ؛ لِأَنَّهُنَّ أَزْوَاجُهُ فِي الْجَنَّةِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا: اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو جنت میں بھی میری بیوی ہو تو میرے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرنا، کیونکہ عورت جنت میں اپنے اس آخری خاوند کی بیوی ہوگی جو دنیا میں تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے نکاح کرنا حرام ہو گیا، کیونکہ وہ جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہوں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13421]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن