السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2781. -- باب: ما يستدل به على أنه جعل سبه للمسلمين رحمة وفي ذلك كالدليل على أنه له مباح
-- باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ آپ ﷺ کا مسلمانوں کو برا بھلا کہنا ان کے لیے رحمت بنا دیا گیا، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آپ کے لیے مباح تھا
حدیث نمبر: 13383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا، مَا أَصَابَ مِنْكَ هَذَانِ خَيْرًا، فَقَالَ:" أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي؟" قُلْتُ: وَمَا عَاهَدْتَ عَلَيْهِ رَبَّكَ؟ قَالَ:" قُلْتُ اللهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً"، وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو بندے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہر شخص کو آپ سے خیر ملتی ہے اور ان دونوں کو آپ کی جانب سے بھلائی نہیں ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے رب سے کیا وعدہ کیا ہے؟“ تو میں نے کہا: کیا وعدہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: اے اللہ! جو بھی مومن ہو اور میں اس کو گالی دوں یا لعنت کروں تو اس کے عوض اس کو معاف کر دینا اور اس کو عافیت دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13383]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2600»
الحكم على الحديث: صحيح
2782. -- باب: الوصال له مباح ليس لغيره
-- باب: صومِ وصال (بغیر سحری و افطاری کے مسلسل روزے رکھنا) صرف آپ ﷺ کے لیے مباح ہے، کسی اور کے لیے نہیں
حدیث نمبر: 13384
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَغَيْرُهُمَا، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. وَثَبَتَ مَعْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جَمِيعًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ کہا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مسلسل روزہ رکھتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے کھلایا بھی جاتا ہے اور پلایا بھی جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13384]
تخریج الحدیث: «بخاري 1922۔ مسلم 1102»
الحكم على الحديث: بخاري 1922
2783. -- باب: كان ينام ولا يتوضأ
-- باب: آپ ﷺ سو جاتے اور (بیدار ہونے پر نیا) وضو نہیں فرماتے تھے
حدیث نمبر: 13385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهَا بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری اور اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا اور دائیں طرف کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات تیرہ رکعات نماز پڑھیں، پھر سو گئے یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو سانس کی آواز آتی تھی، پھر مؤذن آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھی، لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13385]
تخریج الحدیث: «بخاري، مسلم 763»
الحكم على الحديث: بخاري، مسلم 763
حدیث نمبر: 13386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنَّ" عَيْنِيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیسی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے، نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر چار رکعات پڑھتے اور نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر تین رکعت پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سوتے نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13386]
تخریج الحدیث: «بخاري 1147۔ مسلم 738»
الحكم على الحديث: بخاري 1147
حدیث نمبر: 13387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُهُمْ: هُوَ هُوَ وَقَالَ أَوْسَطُهُمْ: هُوَ خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ: خُذُوا خَيْرَهُمْ، ⦗١٠٠⦘ فَكَانَتْ تِلْكَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوهُ لَيْلَةً أُخْرَى، فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ ہمیں معراج کی رات والی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرما رہے تھے کہ تین بندے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ پہلے نے کہا: ”یہ وہی ہے۔“ درمیانے نے کہا: ”یہ ان میں سب سے بہتر ہے۔“
آخری نے کہا: ”اس بہترین کو پکڑ لو“، یہ اس رات کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے، اس حالت میں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13387]
آخری نے کہا: ”اس بہترین کو پکڑ لو“، یہ اس رات کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے، اس حالت میں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13387]
تخریج الحدیث: «بخاري 3570۔ مسلم 3570»
الحكم على الحديث: بخاري 3570
2784. -- باب: صلاة التطوع قاعدا كصلاته قائما وإن لم تكن به علة
-- باب: آپ ﷺ کا بیٹھ کر نفل نماز پڑھنا کھڑے ہو کر پڑھنے کے برابر تھا، اگرچہ آپ کو کوئی عذر نہ ہو
حدیث نمبر: 13388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ فَأَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا، فَوَضَعْتُ يَدِيَّ عَلَى رَأْسِي فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو؟" قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّكَ قُلْتَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ، وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا، فَقَالَ:" أَجَلْ وَلَكِنْ لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی بیٹھے ہوئے نماز کا ثواب آدھا ہے“، میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! لیکن میں تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13388]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 6512»
الحكم على الحديث: ضعيف
2785. -- باب: إليه ينسب أولاد بناته
-- باب: آپ ﷺ کی بیٹیوں کی اولاد آپ کی طرف منسوب کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 13389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَهُ حِينَ وُلِدَ وَسَمَّى أَخَوَيْهِ بِذَلِكَ حِينَ وُلِدَا فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے (یعنی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما) اور شاید مسلمانوں کی دو جماعتیں اس کی وجہ سے صلح کرلیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13389]
تخریج الحدیث: «بخاري 2704»
الحكم على الحديث: بخاري 2704
حدیث نمبر: 13390
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَنْ وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟" فَقُلْتُ: حَرْبًا قَالَ:" هُوَ ⦗١٠١⦘ الْحَسَنُ"، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟" قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ:" هُوَ الْحُسَيْنُ"، فَلَمَّا وُلِدَ مُحْسِنٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟" قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ:" هُوَ مُحْسِنٌ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبَّرُ" لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْرَائِيلَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے“ اور جب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ حسین ہے“۔
پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ محسن ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مشبر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13390]
پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ محسن ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مشبر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13390]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ احمد 1/ 98، ح 769»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13391
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: قَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَأَدْخَلَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَابْنَيْهِمَا تَحْتَ ثَوْبِهِ وَقَالَ:" اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي وَأَهْلُ بَيْتِي".
سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے نیچے علی، فاطمہ، حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو داخل کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل میں سے ہیں اور میرے اہل بیت میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13391]
تخریج الحدیث: «مسلم 2404»
الحكم على الحديث: مسلم 2404
حدیث نمبر: 13392
وَرَوَى حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ} [آل عمران: ٦١] ، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ:" اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي" حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرٌ الْخَلَدِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 61] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل میں سے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13392]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني»
الحكم على الحديث: ضعيف