السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2851. -- باب: النكاح وملك اليمين لا يجتمعان
-- باب: اس بیان میں کہ نکاح اور ملکِ یمین (حقِ ملکیت) دونوں بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 13736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَعَاقَبَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَبْدِهَا وَحَرَّمَ عَلَيْهَا الْأَزْوَاجَ عُقُوبَةً لَهَا" وَهُمَا مُرْسَلَانِ يُؤَكِّدُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے اپنے غلام سے شادی کر لی تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سزا دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور اس کو سزا دینے کے لیے اس پر (دوسرے) خاوندوں کو حرام قرار دے دیا۔
یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسری کی تائید کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13736]
یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسری کی تائید کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13736]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 13737
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٢٠٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً وَرِثَتْ مِنْ زَوْجِهَا شِقْصًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" هَلْ غَشِيتَهَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَوْ كُنْتَ غَشِيتَهَا لَرَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هُوَ عَبْدُكِ إِنْ شِئْتِ بِعْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ وَهَبْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِيهِ، وَتَزَوَّجْتِيهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے خاوند کے مال میں ایک غلام کی وارث بنی تو یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے (اس غلام سے) کہا: کیا تو نے اس سے ہم بستری کی؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے ہم بستری کی ہوتی تو میں تجھ کو سنگسار کر دیتا، پھر اس عورت سے کہا: وہ تیرا غلام ہے اگر چاہے تو بیچ دے اگر چاہے ہبہ کر دے اگر چاہے تو اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13737]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
2852. -- باب: الرجل يعتق أمته ثم يتزوج بها
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور پھر اس سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 13738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الطُّوسِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ: إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ، وَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ، فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ"، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى الْمَدِينَةِ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے بندے دگنا اجر دیے جاتے ہیں: ایک وہ آدمی جو اہل کتاب میں سے ہو، جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تو ان پر بھی ایمان لایا، ان کی اتباع کی اور ان کی تصدیق کی، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کے حق کو بھی ادا کرتا ہے، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ اور ایک وہ آدمی جس کی لونڈی ہے، وہ اس کی پرورش کرتا ہے اور اچھی پرورش کرتا ہے، پھر اس کو ادب سکھاتا ہے اور اس کی تربیت اچھی کرتا ہے، پھر اس کو آزاد کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے، تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13738]
تخریج الحدیث: «مسلم 154»
الحكم على الحديث: مسلم 154
حدیث نمبر: 13739
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَدَّبَهَا وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَدَّى حَقَّ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَهَا ثُمَّ أَصْدَقَهَا.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی بھی اپنی لونڈی کی تربیت کرتا ہے اور اچھی تربیت کرتا ہے، اس کو تعلیم دلاتا ہے اور اچھی تعلیم دلاتا ہے، پھر اس کو آزاد کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور جو غلام اپنے رب کا بھی حق ادا کرتا ہے اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کرتا ہے، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13739]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13740
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْخَيَّاطُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٢٠٨⦘ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بِمَهْرٍ جَدِيدٍ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ"، لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ:" إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ أَمْهَرَهَا مَهْرًا جَدِيدًا كَانَ لَهُ أَجْرَانِ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر نئے حق مہر کے ساتھ اس سے شادی کرلے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13740]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13741
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13741]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1365»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13742
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا" قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ..
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنایا، پھر ان کو آزاد کیا اور ان سے شادی کی۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: حق مہر کیا تھا؟ فرمایا: حق مہر ان کا نفس (ذات) تھا، ان کو آزاد کیا، پھر شادی کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13742]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13743
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاضِي أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ أَكْثَمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُذْكَرُ هَذَا أَيْضًا عَنِ الْمُزَنِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، فَحَمَلَهُ عَلَى التَّخْصِيصِ، وَمَوْضِعُ التَّخْصِيصِ أَنَّهُ أَعْتَقَهَا مُطْلَقًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ، وَنِكَاحُ غَيْرِهِ لَا يَخْلُو مِنْ مَهْرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
قاضی احمد بن محمد برتی فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن اکثم سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی بات مزنی رحمہ اللہ سے بھی ذکر کی جاتی ہے کہ انہوں نے یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اسے خصوصیت پر محمول کیا۔ اور خصوصیت کی جگہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مطلقاً آزاد کیا، پھر بغیر مہر کے ان سے نکاح کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کا نکاح مہر سے خالی نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13743]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ عِتْقَ الْمَرْأَةِ مَهْرَهَا حَتَّى يَفْرِضَ لَهَا صَدَاقًا"، قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى مِثْلِ هَذَا يَدُلُّ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى بِرِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٢٠٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثٍ ضَعِيفٍ أَنَّهُ أَمْهَرَهَا.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عورت کی آزادی کو اس کا حقِ مہر مقرر کر دینے کو ناپسند فرماتے تھے، یہاں تک کہ اس کا مہر مقرر کر دیا جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو بکر بن عیاش کی روایت سے ابو موسیٰ کی حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔
ایک ضعیف حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حق مہر دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13744]
شیخ فرماتے ہیں: ابو بکر بن عیاش کی روایت سے ابو موسیٰ کی حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔
ایک ضعیف حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حق مہر دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13744]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13745
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّكَّرِيُّ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ يَعْنِي بِنْتَ الْكُمَيْتِ الْعَتَكِيَّةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ، عَنْ أَمَةِ اللهِ بِنْتِ رَزِينَةَ، عَنْ أُمِّهَا رَزِينَةَ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ جَاءَ بِصَفِيَّةَ يَقُودُهَا سَبِيَّةً حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ وَذِرَاعُهَا فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَأَتِ السَّبْيَ قَالَتْ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، فَأَرْسَلَ ذِرَاعَهَا مِنْ يَدِهِ، فَأَعْتَقَهَا، فَخَطَبَهَا، فَتَزَوَّجَهَا وَأَمْهَرَهَا رَزِينَةَ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
امۃ اللہ بنت رزینہ اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ جب بنو قریظہ اور نضیر کا دن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنا کر لائے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اور ان کا بازو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ جب صفیہ رضی اللہ عنہا نے قیدیوں کو دیکھا تو کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بازو چھوڑ کر انہیں آزاد کر دیا اور شادی کا پیغام دے کر نکاح کر لیا اور رزینہ کو ان کا حق مہر بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13745]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً