السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2919. -- باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14068
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُفَسِّرُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَهَذَا لِأَنَّ بِإِسْلَامِهَا ثُمَّ بِهِجْرَتِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَامْتِنَاعِ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْإِسْلَامِ لَمْ يَتَوَقَّفْ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ التَّحْرِيمِ لِِلْمُسْلِمَاتِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بَعْدَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ بَعْدَ نُزُولِهَا تَوَقَّفَ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا، فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَخَذَ أَبُو بَصِيرٍ وَغَيْرُهُ أَبَا الْعَاصِ أَسِيرًا وَبَعَثَ بِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَجَارَتْهُ زَيْنَبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ وَرَدَّ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِنَ الْوَدَائِعِ وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ تَوَقُّفِ نِكَاحِهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ وَبَيْنَ إِسْلَامِهِ إِلَّا الْيَسِيرُ.
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد لوٹا دیا۔ یونس کی روایت میں ہے کہ پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد کوئی نیا کام (نکاحِ جدید) نہیں ہوا۔ یہ اس لیے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے، پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے اور ابو العاص کے اسلام سے رکے رہنے کی وجہ سے ان کا نکاح عدت کے ختم ہونے پر موقوف نہ ہوا، یہاں تک کہ صلحِ حدیبیہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان عورتیں مشرکوں پر حرام ہیں: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ، اس آیت کے نزول کے بعد ان کا نکاح عدت کے ختم ہونے پر موقوف ہو گیا؛ تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ ابو بصیر وغیرہ نے ابو العاص کو قیدی بنا کر مدینہ روانہ کر دیا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔ پھر انہوں نے مکہ لوٹ کر تمام امانتیں واپس کیں اور اپنے اسلام کا اظہار کر دیا، تو ان کے نکاح کے عدت کے ختم ہونے پر موقوف ہونے اور ان کے اسلام لانے کے درمیان تھوڑا ہی وقفہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14068]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14069
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ ابْنَتَهُ إِلَى أَبِي الْعَاصِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ".
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو نئے حق مہر اور نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14069]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 14070
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ هَذَا لَا يَثْبُتُ، وَحَجَّاجٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ⦗٣٠٥⦘ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،⦗٣٠٦⦘ وَحَكَى أَبُو عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ أَنَّ حَجَّاجًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمْرٍو، وَأَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، فَهَذَا وَجْهٌ لَا يَعْبَأُ بِهِ أَحَدٌ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ.
امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ (روایت) ثابت نہیں ہے، اور حجاج سے حجت نہیں لی جاتی، درست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14070]
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14070]
حدیث نمبر: 14071
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي مَعَهَا، فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ".
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت نے اسلام قبول کرنے کے بعد شادی کرلی، اس عورت کا خاوند آیا کہ: ”اے اللہ کے رسول! میں بھی ان کے ساتھ اسلام لایا تھا، یہ میرے اسلام لانے کو جانتی بھی ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے لے کر پہلے خاوند کو واپس کردی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14071]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14072
وَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٣٠٧⦘ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14072]
حدیث نمبر: 14073
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَمَّةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ أَسْلَمَتْ وَهَاجَرَتْ وَتَزُوِّجَتْ وَقَدْ كَانَ زَوْجُهَا أَسْلَمَ قَبْلَهَا، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن حارث کی پھوپھی نے اسلام لانے کے بعد ہجرت کر کے شادی کر لی۔ اس کا خاوند اس سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خاوند کی طرف واپس کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14073]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
2920. -- باب: الرجل يسلم وتحته نصرانية
-- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اس کے نکاح میں کوئی عیسائی عورت ہو۔
حدیث نمبر: 14074
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ هَانِئَ بْنَ قَبِيصَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ عَوْفٍ وَتَحْتَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ نَصْرَانِيَّاتٍ، فَأَسْلَمَ، وَأَقَرَّهُنَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ بَعْضَ بَنِي شَيْبَانَ فَقَالَ: قَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْنَا فِيهِ.
ہانی بن قبیصہ جب مدینہ آئے اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے، ان کے نکاح میں چار عیسائی عورتیں تھیں، وہ اسلام لائے تو ان کے نکاح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو برقرار رکھا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض بنو شیبان سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14074]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 294»
الحكم على الحديث: صحيح
2921. -- باب: نكاح أهل الشرك وطلاقهم
-- باب: مشرکین کے نکاح اور ان کی طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: Q14075
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا أَثْبَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَ الشِّرْكِ وَأَقَرَّ أَهْلَهُ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَجُزْ وَاللهُ أَعْلَمُ إِلَّا أَنْ يَثْبُتَ طَلَاقُ أَهْلِ الشِّرْكِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ شرک کے نکاح کو ثابت (معتبر) مانا اور اسلام (لانے) کے بعد اس کے اہل کو اسی (نکاح) پر برقرار رکھا، تو پھر، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے سوا کچھ جائز نہیں کہ اہلِ شرک کی طلاق کو بھی ثابت (معتبر) مانا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14075]
حدیث نمبر: 14075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ" أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا، فَجَعَلَ نِكَاحَهُمَا يُحْصِنُهُمَا، فَكَيْفَ يَذْهَبُ عَلَيْنَا أَنْ يَكُونَ لَا يُحِلُّهَا وَهُوَ يُحْصِنُهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے نکاح چار طرح سے ہوتے تھے: ان میں سے ایک نکاح وہ ہے جو آج لوگوں کا نکاح ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کے ولی کو نکاح کا پیغام دیتا ہے، پھر وہ حق مہر ادا کر کے نکاح کر لیتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس سے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کرنے والے دو یہودیوں کو رجم کیا اور ان کے نکاح کو ان کے محصن ہونے کا سبب قرار دیا، تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ وہ نکاح عورت کو حلال نہیں کرتا جبکہ وہ اسے محصنہ بنا دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14075]
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس سے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کرنے والے دو یہودیوں کو رجم کیا اور ان کے نکاح کو ان کے محصن ہونے کا سبب قرار دیا، تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ وہ نکاح عورت کو حلال نہیں کرتا جبکہ وہ اسے محصنہ بنا دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14075]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5127»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14076
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، ثنا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنِي الْمَدِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا وَلَدَنِي مِنْ سِفَاحِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ مَا وَلَدَنِي، إِلَّا نِكَاحٌ كِنِكَاحِ الْإِسْلَامِ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جاہلیت کے زنا میں سے کسی چیز نے مجھے جنم نہیں دیا، مجھے صرف ایسے نکاح نے جنم دیا جو اسلام کے نکاح جیسا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14076]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره