السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2917. جماع أبواب نكاح المشرك -- باب: من يسلم وعنده أكثر من أربع نسوة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں مشرک کے نکاح سے متعلقہ مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں ہوں۔
حدیث نمبر: 14059
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ ⦗٣٠٠⦘ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ إِحْدَاهُمَا.
سیدنا ضحاک بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ) نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں دو بہنیں تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”تم ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14059]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14060
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي خِرَاشٍ، عَنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَوْ عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ:" أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَ أَيَّتَهُمَا شِئْتُ وَأُفَارِقَ الْأُخْرَى"، زَادَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ فِي إِسْنَادِهِ أَبَا خِرَاشٍ، وَإِسْحَاقُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو خراش، دیلمی یا ابن دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا تو میرے نکاح میں دو بہنیں تھیں، جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے جس کو چاہو رکھ لو، جس کو چاہو چھوڑ دو۔“
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اس کی سند میں ابو خراش کا اضافہ کیا ہے، اور اسحاق سے حجت نہیں لی جاتی، اور یزید بن ابی حبیب کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14060]
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اس کی سند میں ابو خراش کا اضافہ کیا ہے، اور اسحاق سے حجت نہیں لی جاتی، اور یزید بن ابی حبیب کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14060]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله بغير هذا الاسناد»
الحكم على الحديث: حسن
2918. -- باب: الزوجين الوثنيين يسلم أحدهما فالجماع ممنوع حتى يسلم المتخلف منهما
-- باب: دو بت پرست میاں بیوی کا بیان جن میں سے کوئی ایک اسلام لے آئے تو ان کے درمیان ہم بستری ممنوع ہے یہاں تک کہ پیچھے رہ جانے والا (دوسرا شریکِ حیات) بھی اسلام لے آئے۔
حدیث نمبر: Q14061
لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ.
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ”نہ وہ (مومن عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14061]
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14061]
حدیث نمبر: 14061
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ خُرُوجِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ خَلْفَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ: فَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَرَخَتْ زَيْنَبُ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ:" أَيْ بُنَيَّةُ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَلَا يَخْلُصَنَّ إِلَيْكِ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ".
ابن اسحاق ابو العاص بن ربیع جو شرک کی حالت میں نکلے، ان کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا مدینہ میں تھیں، کہتے ہیں کہ یزید بن رومان عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آواز لگائی: ”اے لوگو! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے“، اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے بیٹی! تو اس کو اچھا ٹھکانا دے، لیکن یہ تمہارے اوپر داخل نہ ہو؛ کیونکہ تو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14061]
2919. -- باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14062
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ جَمَاعَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ وَأَهْلِ الْمَغَازِي وَغَيْرِهِمْ، عَنْ عَدَدٍ قَبْلَهُمْ أَنَّ" أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَسْلَمَ بِمَرْوَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهِرٌ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ بِظُهُورِهِ وَإِسْلَامُ أَهْلِهَا دَارَ إِسْلَامٍ، وَامْرَأَتُهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ كَافِرَةٌ بِمَكَّةَ، وَمَكَّةُ يَوْمَئِذٍ دَارُ حَرْبٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهَا يَدَعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَخَذَتْ بِلِحْيَتِهِ، وَقَالَتْ: اقْتُلُوا الشَّيْخَ الضَّالَّ، وَأَقَامَتْ أَيَّامًا قَبْلَ أَنْ تُسْلِمَ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ، وَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَبَتَا عَلَى النِّكَاحِ، وَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَأَسْلَمَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا، وَصَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ، وَأَسْلَمَتِ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، وَامْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهَرَبَ زَوْجَاهُمَا نَاحِيَةَ الْيَمَنِ مِنْ طَرِيقِ الْيَمَنِ كَافِرَيْنِ إِلَى بَلَدِ كُفْرٍ، ثُمَّ جَاءَا فَأَسْلَمَا بَعْدَ مُدَّةٍ وَشَهِدَ صَفْوَانُ حُنَيْنًا كَافِرًا، فَدَخَلَ دَارَ الْإِسْلَامِ بَعْدَ هَرَبِهِ مِنْهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَافِرًا فَاسْتَقَرَّا ⦗٣٠٢⦘ عَلَى النِّكَاحِ، وَكَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ وَنِسَاؤُهُمْ مَدْخُولٌ بِهِنَّ لَمْ تَنْقَضِ عِدَدُهُنَّ".
قریش کے اہل علم اور اہل مغازی فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ پا لیا اور وہ دار السلام میں تھے اور ان کی بیوی ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا مکہ یعنی دار الحرب میں تھی، پھر ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے مکہ آکر اس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور کہنے لگی: اس گمراہ بوڑھے کو قتل کر دو۔ پھر وہ کئی دن تک اسلام نہ لائی، پھر وہ اسلام لائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کو اس نکاح میں ثابت رکھا اور ہمیں خبر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بہت سارے لوگ مسلمان ہو گئے اور مکہ دار السلام بن گیا، عکرمہ اور صفوان رضی اللہ عنہما کی بیویاں بھی اسلام لائیں اور ان کے شوہر یمن کی طرف کفر کی حالت میں بھاگ گئے، پھر ایک مدت کے بعد دونوں مسلمان ہوئے اور صفوان رضی اللہ عنہ حنین کے موقع پر کفر کی حالت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھاگنے کے بعد دار السلام میں داخل ہوئے اور کفر کی حالت میں ہی گئے تھے، وہ اسی نکاح پر باقی رہے، ان تمام کی عورتیں مدخول بہا تھیں اور ان کی عدتیں ختم نہ ہوئی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14062]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14063
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُزَكِّي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَاءَكُنَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ، وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ، وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ كُفَّارٌ مِنْهُمُ ابْنَةُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ، وَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ، وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ نَادَاهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَسْيِيرِهِ، ثُمَّ رُجُوعِهِ قَالَ: وَخَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ كَافِرٌ وَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ، وَهُوَ كَافِرٌ، وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ،" فَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّى أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِكَ النِّكَاحِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَإِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرٍ".
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عورتیں بغیر ہجرت کیے اپنے علاقے میں مسلمان ہو گئیں اور ان کے خاوند اس وقت غیر مسلم تھے جیسے ولید بن مغیرہ کی بیٹی جو صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، یہ مکہ فتح کے دن اسلام لائی اور صفوان بن امیہ (اسلام سے) بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چچا کے بیٹے وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر بطورِ امان کی علامت دے کر بھیجا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی اور اپنے پاس آنے کی دعوت دی کہ اگر وہ کسی بات پر راضی ہو جائیں تو اسے قبول کر لیں، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دو ماہ تک چلنے پھرنے کی مہلت دیں گے، اور جب صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر لے کر آئے اور آواز دی، (راوی نے) حدیث ذکر کی، یعنی ان کا چلنا پھرنا اور واپس آنا کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین و طائف میں کفر کی حالت میں گئے اور ان کی بیوی مسلمان تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں، بیوی کے درمیان تفریق نہیں ڈالی، پھر صفوان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو ان کی بیوی اس نکاح میں باقی رہی، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے اسلام میں تقریباً ایک ماہ کا فاصلہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14063]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14064
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَكَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ أَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ وَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَيْهِ فَرَحًا، وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ حَتَّى بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا".
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور ان کے خاوند یمن کی طرف بھاگ گئے تو ام حکیم رضی اللہ عنہا نے یمن جا کر انہیں اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گئے، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عام الفتح کے موقع پر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خوشی سے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر بھی نہ تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں، بیوی) رضی اللہ عنہما کو اسی نکاح میں باقی رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14064]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14065
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَزَوْجُهَا كَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْكُفْرِ، إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا، إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَأَنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً فُرِّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِذَا قَدِمَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا".
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی ایسی عورت کی خبر نہیں ملی جس نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ہو اور اس کا کافر خاوند دار الکفر میں مقیم رہا ہو، مگر اس کی ہجرت نے اسے اس کے خاوند سے جدا کر دیا، لیکن اگر عدت کے ختم ہونے سے پہلے خاوند ہجرت کر کے آ جائے تو جدائی نہ ہوگی اور ہمیں یہ اطلاع نہیں ملی کہ جب خاوند عدت کے اندر آ گیا تو پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی گئی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14065]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ كَانَ مُشْرِكِي الْعَرَبِ أَهْلُ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ، وَيُقَاتِلُونَهُ، وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يُقَاتِلُونَهُ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ، فَإِذَا تَطَهَّرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُنْكَحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الدَّارَ لَمْ تَكُنْ تُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے لیے مشرکین کی دو قسمیں تھیں: ایک تو وہ مشرک جو مسلمانوں سے لڑائی کرتے اور مسلمان ان کے خلاف جہاد کرتے، دوسرے وہ مشرک جن سے معاہدہ تھا، نہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑتے اور نہ ہی مسلمان ان کے خلاف لڑتے۔ جب حربی مشرک کی عورتوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آئے تو ایک حیض کے بعد طہر میں اس سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس کا خاوند نکاح سے پہلے ہجرت کر کے آ جائے تو اس کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اس حدیث میں دلالت ہے کہ دار تفریق کا باعث نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14066]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5287»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14067
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَهْرَانِيُّ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ"، ⦗٣٠٤⦘ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ.
عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پہلے نکاح میں دو سال کے بعد لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14067]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الترمذي 1143»
الحكم على الحديث: حسن