السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2958. -- باب: من قال: لا صداق لها
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ اس عورت کے لیے کوئی مہر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14420
وَبِمَعْنَاهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَلِكَ فِيمَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی معنی کی بات کہی ہے، اور یہ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے عبدالملک بن جریج سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14420]
حدیث نمبر: 14421
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ ⦗٤٠٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا".
عبد خیر فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو وراثت ملے گی اور عدت گزارے گی لیکن حق مہر نہ ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14421]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14422
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا" لَهَا الْمِيرَاثُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا" قَالَ وَحَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَ ذَلِكَ.
عبد خیر رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور حق مہر مقرر نہ تھا تو اس کو وراثت ملے گی اور حق مہر نہیں ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14422]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14423
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" لَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا".
شعبی رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت کو وراثت ملے گی اور وہ عدت بھی گزارے گی لیکن حق مہر نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14423]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14424
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يُقْبَلُ قَوْلُ أَعْرَابِيٍّ مِنْ أَشْجَعَ عَلَى كِتَابِ اللهِ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُمَا قَالَا:" لَيْسَ لَهَا إِلَّا الْمِيرَاثُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اشجع قبیلے کے ایک دیہاتی کی بات کتاب اللہ کے مقابلے میں قبول نہیں کی جائے گی۔
ابو شعثاء جابر بن زید رحمہ اللہ اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت کو صرف میراث ملے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14424]
ابو شعثاء جابر بن زید رحمہ اللہ اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عورت کو صرف میراث ملے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14424]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2959. -- باب: أحد الزوجين يموت وقد فرض لها صداقا
-- باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان جبکہ عورت کے لیے مہر مقرر کیا جا چکا ہو۔
حدیث نمبر: 14425
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَمُوتُ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ فَرَضَ لَهَا صَدَاقًا قَالَ:" لَهَا الصَّدَاقُ وَالْمِيرَاثُ وَاللهُ أَعْلَمُ".
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو گیا اور حق مہر اس کے لیے مقرر تھا، تو انہوں نے فرمایا: حق مہر اور میراث دونوں ملیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14425]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2960. -- باب: الرجل يتزوج بامرأة على حكمها
-- باب: اس شخص کا بیان جو کسی عورت سے اس (عورت) کے فیصلے پر (مہر مقرر کرنے کی شرط کے ساتھ) نکاح کرے۔
حدیث نمبر: 14426
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، صَحِبَ رَجُلًا فَرَأَى امْرَأَتَهُ فَأَعْجَبَتْهُ فَتُوُفِّيَ فِي الطَّرِيقِ فَخَطَبَهَا الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَهُ إِلَّا عَلَى حُكْمِهَا فَتَزَوَّجَهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ، فَقَالَ احْكُمِي فَقَالَتْ: أُحَكِّمُ فُلَانًا وَفُلَانًا، رَقِيقٌ كَانُوا لِأَبِيهِ مِنْ تِلَادِهِ فَقَالَ: احْكُمِي غَيْرَ هَؤُلَاءِ فَأَبَتْ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَجَزْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: مَا هُنَّ قَالَ: عَشِقْتُ امْرَأَةً قَالَ: هَذَا مَا لَمْ تَمْلِكْ قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجْتُهَا عَلَى حُكْمِهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَحْكُمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهَا مَهْرُ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَيَعْنِي مِنْ نِسَائِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ایک مرد کے ساتھ چلے تو انھیں اس شخص کی عورت بڑی پسند آئی۔ وہ آدمی راستے میں فوت ہو گیا تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے عورت کو نکاح کا پیغام دیا، لیکن عورت نے انکار کر دیا کہ وہ صرف اپنے فیصلے پر ہی اس سے شادی کرے گی تو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے فیصلے کے مطابق شادی کر لی۔ پھر اشعث رضی اللہ عنہ نے فیصلے سے پہلے ہی طلاق دے دی اور کہنے لگے: اپنا فیصلہ بتاؤ۔
تو اس عورت نے کہا: میں فلاں فلاں غلام کا فیصلہ کرتی ہوں جو ان کے باپ کے موروثی غلام ہیں، اس نے کہا: ان کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین! میں تین مرتبہ عاجز آگیا۔ تو انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ کہنے لگے: میں نے ایک عورت سے عشق کیا۔ فرمانے لگے: یہ وہ چیز ہے جس کا تو مالک نہیں تھا۔ اس نے کہا: پھر میں نے اس کے فیصلے پر شادی کر لی، پھر اس کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمان عورت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ اس کے لیے مسلمان عورتوں والا حق مہر ہے، یعنی اس کے قبیلے کی عورتوں جیسا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14426]
تو اس عورت نے کہا: میں فلاں فلاں غلام کا فیصلہ کرتی ہوں جو ان کے باپ کے موروثی غلام ہیں، اس نے کہا: ان کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرو۔ اس عورت نے انکار کر دیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین! میں تین مرتبہ عاجز آگیا۔ تو انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ کہنے لگے: میں نے ایک عورت سے عشق کیا۔ فرمانے لگے: یہ وہ چیز ہے جس کا تو مالک نہیں تھا۔ اس نے کہا: پھر میں نے اس کے فیصلے پر شادی کر لی، پھر اس کے فیصلہ کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسلمان عورت ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ اس کے لیے مسلمان عورتوں والا حق مہر ہے، یعنی اس کے قبیلے کی عورتوں جیسا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14426]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14427
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَشِقَهَا عَلَى حُكْمِهَا فَاحْتَكَمَتْ عَلَيْهِ مَمْلُوكَيْنِ لَهُ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: عَشِقْتُ امْرَأَةً قَالَ: ذَاكَ مِمَّا لَمْ تَمْلِكْ قَالَ: جَعَلْتُ لَهَا حُكْمَهَا قَالَ:" حُكْمُهَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، لَهَا سُنَّةُ نِسَائِهَا".
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے عشق کرتے ہوئے اس کے فیصلے کے مطابق شادی کر لی، تو اس عورت نے ان کے ذمہ دو غلام ڈال دیے، تو اشعث رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں نے عشق کی وجہ سے عورت سے شادی کی، انہوں نے فرمایا: یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا تو مالک نہیں۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اس کے حکم کو مانا جو لاگو کیا ہوا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے لیے کچھ نہیں سوائے اس کے قبیلے کی عورتوں کے حقِ مہر کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14427]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
2961. -- باب: الشرط في المهر
-- باب: مہر میں شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14428
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا فَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح حق مہر یا تحفے یا کسی وعدے پر نکاح کے انعقاد سے پہلے کیا گیا تو اس عورت کے لیے وہ ہے اور جو نکاح کے بعد دیا گیا، جس کو دیا گیا وہ اسی کا ہے اور زیادہ حق دار وہ مرد ہے جس کی عزت کی گئی اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14428]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14429
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، أنبأ عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗٤٠٥⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ الرَّجُلُ بِهِ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کے ذریعے عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا وہ عورت کے لیے ہے اور نکاح کے بعد جو عورت کے باپ یا بھائی یا ولی کی عزت کے لیے دیا گیا وہ اس کے لیے ہے اور وہ مرد زیادہ حق دار ہے جس کی عزت اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14429]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف