السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2964. -- باب: من قال الذي بيده عقدة النكاح الولي
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے“ اس سے مراد ولی ہے۔
حدیث نمبر: 14460
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْهَرَوِيّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" أَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بِالْعَفْوِ وَأَذِنَ فِيهَا، فَإِنْ عَفَتْ جَازَ عَفْوُهَا وَإِنْ شَحَّتْ وَعَفَا وَلِيُّهَا جَازَ عَفْوُهُ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کرنے کا حکم دیا اور اس کی اجازت دی، اگر عورت معاف کرے تو اس کا معاف کرنا جائز ہے، اگر بخیلی کرے اور اس کا ولی معاف کر دے تو اس کا معاف کرنا بھی جائز ہے۔
(ب) پہلا قول زیادہ صحیح ہے: ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14460]
(ب) پہلا قول زیادہ صحیح ہے: ﴿أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾ [سورة البقرة: 237] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14460]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 3/ 889»
الحكم على الحديث: صحيح
2965. -- باب: لا يدخل بها حتى يعطيها صداقها أو ما رضيت به
-- باب: اس بیان میں کہ جب تک شوہر عورت کا مہر یا وہ چیز جس پر وہ راضی ہو، ادا نہ کر دے اس کے پاس خلوت میں نہ جائے۔
حدیث نمبر: 14461
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، وَعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: ابْنُ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا" فَقُلْتُ: أَثِبْنِي يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟" قَالَ: قُلْتُ: هَا هِيَ ذِي عِنْدِي قَالَ:" أَعْطِهَا إِيَّاهَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے رخصتی کی اجازت دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ دو۔“ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْحُطَمِيَّةُ» (حطمیہ) درع کہاں ہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی اس کو دے دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14461]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا دِرْعَكَ"، فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قَالَ: وَحَدَّثَنَا كَثِيرٌ ثنا أَبُو حَيْوَةَ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان صحابہ میں سے کسی سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور دخول کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ ”پہلے فاطمہ کو کچھ دو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی درع ہی دے دو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے درع دے کر دخول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14462]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه السجستاني:2126»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14463
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" إِذَا نَكَحَ الرَّجُلُ امْرَأَةً فَسَمَّى لَهَا صَدَاقًا فَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلْيُلْقِ إِلَيْهَا رِدَاءً أَوْ خَاتَمًا إِنْ كَانَ مَعَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اور حق مہر بھی مقرر کر دے اور دخول کا ارادہ ہو تو اپنی چادر یا انگوٹھی پہلے عورت کو دے اگر موجود ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14463]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14464
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ:" لَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَتَّى يُقَدِّمَ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنْ مَالِهِ مَا رَضِيَتْ بِهِ مِنْ كِسْوَةٍ وَعَطَاءٍ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مرد کے لیے یہ درست نہیں کہ عورت کو کچھ دیے بغیر اس سے دخول کرے اس کی رضامندی کے بغیر، لیکن اس کو کپڑا یا عطیہ دے کر راضی کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14464]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2966. -- باب: المرأة ترضى بالدخول بها قبل أن يعطيها شيئا
-- باب: اس عورت کا بیان جو شوہر کے کچھ بھی دینے سے پہلے خلوت میں جانے پر راضی ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَجَهَّزَهَا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْقُدَ شَيْئًا".
سیدنا طلحہ رحمہ اللہ، خیثمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی عورت سے شادی کی تو کچھ دیے بغیر اس کے ساتھ دخول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14465]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14466
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَكَانَ مُعْسِرًا فَأَمَرَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْفُقَ بِهِ فَدَخَلَ بِهَا وَلَمْ يَنْقُدْهَا شَيْئًا ثُمَّ أَيْسَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَسَاقَ.
حضرت خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے شادی کی، وہ تنگدست تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے ساتھ نرمی کرنے“ کا فرمایا تو اس نے بغیر کچھ دیے عورت سے دخول کر لیا، پھر جب آسانی ہو گئی تو اس نے ادا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14466]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14467
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، أنبأ حَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَصَلَهُ شَرِيكٌ وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ.
ایضاً۔
شریک نے اسے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14467]
شریک نے اسے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14467]
2967. -- باب: المرأة تصلح أمرها للدخول بها
-- باب: عورت کا خلوت کے لیے اپنی تیاری اور زیب و زینت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو أُسَامَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ قَالَتْ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا يُرَادُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ: هَهْ هَهْ حَتَّى ذَهَبَ نَفْسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي ضُحًى وَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ فِي آخِرِ أَبْوَابِ خِطْبَةِ النِّكَاحِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ نکاح چھ سال کی عمر میں کیا جبکہ میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔ فرماتی ہیں: میں مدینہ آئی تو ایک مہینہ بخار رہا اور میرے بال (جھڑنے کے بعد) دوبارہ بڑھ کر کندھوں تک آ گئے تھے تو ام رومان رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں اور میں جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، انہوں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس آئی، لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ انہوں نے مجھے کیوں بلایا ہے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لا کر کھڑا کر دیا، میں سانس کی وجہ سے ہانپ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا سانس درست ہوا تو انہوں نے مجھے گھر میں داخل کیا۔ وہاں انصاری عورتیں تھیں، انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”آپ خیر و برکت اور ہمیشگی کی خیر پر ہیں“ تو والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا اور انہوں نے میرے سر کو دھویا اور حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم1422»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي تُرِيدُ تُسَمِّنُنِي بَعْضَ السَّمْنِ لِتُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا بَعْضُ ذَلِكَ حَتَّى أَكَلْتُ التَّمْرَ بِالْقِثَّاءِ فَسَمِنْتُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ مِنَ السُّمْنَةِ" وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ هِشَامٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْقِثَّاءُ بِالرُّطَبِ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میری والدہ نے میرا علاج کرنا چاہا کہ میں صحت مند ہو جاؤں تاکہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں داخل کر دیں، میں کسی چیز سے درست نہ ہوئی یہاں تک کہ میں نے کھجور ککڑی کے ساتھ کھانی شروع کر دی تو میں کافی صحت مند ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14469]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح