🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2986. -- باب: الرخصة فيما يوطأ من الصور أو يقطع رءوسها وفي صور غير ذوات الأرواح من الأشجار وغيرها
-- باب: ان تصویروں کے بارے میں رخصت کا بیان جنہیں روندا جاتا ہو یا ان کے سر کاٹ دیے گئے ہوں، اور ان چیزوں کی تصویروں کی رخصت جو جاندار نہیں ہیں جیسے درخت وغیرہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، نا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، نا وَهْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" الصُّورَةُ الرَّأْسُ فَإِذَا قُطِعَ الرَّأْسُ فَلَيْسَ بِصُورَةٍ".
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تصویر سر ہی تو ہے، جب سر کاٹ دیا جائے تو وہ تصویر نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14580]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" كَانُوا يَكْرَهُونَ مَا نُصِبَ مِنَ التَّمَاثِيلِ نَصْبًا وَلَا يَرَوْنَ بِمَا وَطِئَتْهُ الْأَقْدَامُ بَأْسًا".
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لٹکائی گئی تصاویر کو ناپسند کرتے تھے، لیکن جو پاؤں میں روندی جائیں ان میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14581]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14582
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا ⦗٤٤٢⦘ عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ يَتَكَبَّرُ فِيهِ، قَالَ: مَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ؟ فَقَالَ: لَا جَرَمَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ أُحَرِّقُهَا بِالنَّارِ؟ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: انْزِعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ الَّتِي فِي الْكَانُونِ فَقَطَعَهَا.
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیمارپرسی کے لیے گئے تو ان پر مزین قسم کا لباس دیکھا یعنی ریشم کا، تو کہنے لگے: ”اے ابن عباس! یہ کیا کپڑا ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”وہ کیا ہے؟“ فرمایا: ”ریشم۔“ فرمانے لگے: ”یہ تو صرف تکبر کرنے والے کے لیے ناپسندیدہ ہے۔“ کہنے لگے: ”یہ انگیٹھی پر کیسی تصاویر ہیں؟“ فرمانے لگے: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں انہیں آگ سے کیسے جلا رہا ہوں؟“ جب مسور رضی اللہ عنہ چلے گئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”اس کپڑے کو مجھ سے اتار دو اور انگیٹھی پر موجود ان تصاویر کے سر کاٹ دو۔“ تو انہوں نے کاٹ ڈالے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14582]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2987. -- باب: الرخصة في الرقم يكون في الثوب
-- باب: کپڑے پر موجود نقش و نگار کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ" قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ: إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ.
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تصویر والے گھر داخل نہیں ہوتے۔“ بسر کہتے ہیں کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی بیمار پرسی کی۔ گھر کے دروازے کے پردے پر تصاویر تھیں تو میں نے عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ، جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ تھے، کہا: کیا پہلے دن ہمیں زید رضی اللہ عنہ نے تصاویر کے بارے میں خبر نہ دی تھی؟ تو عبید اللہ رحمہ اللہ فرمانے لگے: کیا آپ نے اس وقت نہ سنا تھا، جب انہوں نے کہا کہ ”سوائے اس نقش کے جو کپڑے میں ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14583]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3226»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14584
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ وَمَعَ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ الْخَوْلَانِيُّ الَّذِي كَانَ فِي حِجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ" قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا؟ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي الثَّوْبِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: بَلَى، فَذَكَرَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تصاویر والے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔“ بشر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی تیمارداری کی۔ ان کے گھر تصاویر والا پردہ تھا تو میں نے عبید اللہ رحمہ اللہ سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں بیان نہیں کیا تھا؟ فرمانے لگے: انہوں نے یہ بھی کہا تھا: سوائے اس نقش کے جو کپڑے میں ہو، کیا آپ نے سنا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14585
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ، ح وَأنا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَلَمْ يَقُلْ" إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي الثَّوْبِ" قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي قَوْلُهُ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ صُورَةَ غَيْرِ ذَوَاتِ الْأَرْوَاحِ، وَهُوَ فِي حَدِيثِ أَبِي طَلْحَةَ غَيْرُ مُبَيَّنٍ، وَفِي الْأَخْبَارِ قَبْلَ هَذَا الْبَابِ مُبَيَّنٌ فَالْوَاجِبُ حَمْلُ مَا رَوَيْنَا فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى مَا رَوَيْنَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے آئے تو ان کے پاس سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کسی انسان کو بلایا، اس نے ان کے نیچے سے چٹائی کھینچ لی۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ اسے کیوں نکال رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اس میں تصاویر ہیں، کیا آپ جانتے نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا؟“ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا: سوائے اس کے جو کپڑے میں نقش ہو؟“ فرمانے لگے: ”کیوں نہیں، لیکن یہ میرے دل کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ «إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ» سے مراد ایسی تصاویر ہیں جو روح والی اشیاء کی نہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14585]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1802»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2988. -- باب: ما جاء في تستير المنازل
-- باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14586
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ" قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ"، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ وَقَطَّعَهُ وَقَالَ:" إِنَّ اللهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ" قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُهَيْلٍ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: الْحِجَارَةُ وَاللَّبِنُ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ تَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَةِ كِسْوَةِ الْجِدَارِ وَإِنْ كَانَ سَبَبُ اللَّفْظِ فِيمَا رُوِّينَا مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْكَرَاهِيَةَ كَانَتْ لِمَا فِيهِ مِنَ التَّمَاثِيلِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس گھر میں کتا یا تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان سے کہا کہ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ وہ فرماتی ہیں: نہیں، لیکن میں تمہیں وہ بیان کرتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے تو میں نے ایک پردہ لے کر دروازے پر ڈال دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو پردے کو دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کراہت کو محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردے کو پھاڑ یا کاٹ دیا اور فرمایا: ”اللہ رب العزت نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“ فرماتی ہیں: ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لیے اور ان کو کھجور کے پتوں سے بھر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اوپر عیب نہیں لگایا۔ سہیل رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ پتھر اور اینٹوں کے لفظ آتے ہیں اور یہ دلالت کرتے ہیں دیواروں پر پردے ڈالنے کی کراہت پر، اگرچہ دوسری حدیث میں کراہت تصاویر کے بارے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14586]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14587
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٤٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، نا عَفَّانُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دُعِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ إِلَى طَعَامٍ، فَلَمَّا جَاءَ رَأَى الْبَيْتَ مُنَجَّدًا فَقَعَدَ خَارِجًا وَبَكَى قَالَ: فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَيَّعَ جَيْشًا فَبَلَغَ عُقْبَةَ الْوَدَاعِ قَالَ:" أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَاتِكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ" قَالَ: فَرَأَى رَجُلًا ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ رَقَعَ بُرْدَةً لَهُ بِقِطْعَةٍ قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَقَالَ هَكَذَا وَمَدَّ يَدَيْهِ وَمَدَّ عَفَّانُ يَدَيْهِ وَقَالَ" تَطَالَعَتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَيْ أَقْبَلَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ يَقَعَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غَدَتْ عَلَيْكُمْ قَصْعَةٌ وَرَاحَتْ أُخْرَى وَيَغْدُو أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَيَرُوحُ فِي أُخْرَى وَتَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ: أَفَلَا أَبْكِي وَقَدْ بَقِيتُ حَتَّى تَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ.
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی۔ جب انہوں نے گھر کی زیب و زینت دیکھی تو باہر بیٹھ کر رونے لگے۔ ان سے کہا گیا: آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر ترتیب دیتے اور انہیں الوداع کہنے کے لیے پہنچتے تو فرماتے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانتیں اور تمہارے اعمال کا اختتام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایک شخص کی چادر کو پیوند لگے ہوئے دیکھا تو سورج کے طلوع ہونے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ عفان نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دکھائے اور فرمانے لگے: ”تمہیں دنیا وافر مل گئی ہے“، تین مرتبہ فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ہمارے اوپر گر پڑیں گے۔ پھر فرمانے لگے: ”تم آج بہتر ہو یا جب صبح کے وقت تمہارے سامنے ایک پلیٹ ہو اور شام کے وقت دوسری، اور صبح تم ایک جوڑے میں کرو اور شام دوسرے میں، اور تم اپنے گھروں کو پردوں سے اس طرح ڈھانپو جیسے بیت اللہ کو ڈھانپا جاتا ہے؟“ اور عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں نہ روؤں کہ میں باقی رہا یہاں تک کہ تم نے اپنے گھروں کو پردوں سے چھپا لیا ہے جیسا کہ بیت اللہ کو چھپایا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14587]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14588
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، نا أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الضَّبِّيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا، وَأَشْرَفُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةَ، لَا تُصَلُّوا خَلْفَ نَائِمٍ وَلَا مُتَحَدِّثٍ، وَاقْتُلُوا الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ بِالثَّوْبِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ وَلَمْ يَثْبُتْ فِي ذَلِكَ إِسْنَادٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کے لیے ایک شرف ہوتا ہے اور تمام مجالس سے شرف والی مجلس وہ ہے جس کے ذریعے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا جاتا ہے۔ تم سونے والے اور باتیں کرنے والے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو اور تم سانپ اور بچھو کو نماز کی حالت میں قتل کر دو اور دیواروں پر پردے نہ لٹکاؤ۔“
یہ ایک دوسری منقطع سند سے بھی مروی ہے، اور اس بارے میں کوئی سند ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14588]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14589
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ تُسْتَرَ الْجَدُرُ" هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دیواروں کو پردے لٹکانے سے ڈھانپنے سے منع کیا ہے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14589]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں