السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3031. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا" غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ وَحِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
(١٤٧٣٣) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی عورتوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام عورتوں کے لیے باری تقسیم کرتے؛ کیونکہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی باری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کردی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَنْ كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَهَا بِيَوْمِ سَوْدَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
(١٤٧٣٤) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ بوڑھی ہوگئیں تو انھوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کردی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سودہ کا دن بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے مقرر کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14735
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَظُنُّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَشِيَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَفَعَلَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] قَالَ: فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ.
(١٤٧٣٥) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ڈر گئیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھیں طلاق نہ دے دیں تو کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے طلاق نہ دیں اور مجھے اپنے پاس رکھیں اور میرا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے مقرر کرلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرلیا: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] فرماتے ہیں کہ میاں بیوی کسی بات پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14735]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 14736
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أُنْزِلَ فِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَشْبَاهِهَا {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] وَذَلِكَ أَنَّ سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتِ امْرَأَةً قَدْ أَسَنَّتْ فَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَنَّتْ بِمَكَانِهَا مِنْهُ وَعَرَفَتْ مِنْ حُبِّ ⦗٤٨٥⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَمَنْزِلَتِهَا مِنْهُ فَوَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مَوْصُولًا كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ النِّكَاحِ.
(١٤٧٣٦) ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت سودہ رضی اللہ عنہ اور اس جیسی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ایسی عورت تھی جو بوڑھی ہوگئیں اور پریشان ہوئیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے جدا نہ کردیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور ان کے مرتبہ اور مقام کو جانتی تھیں تو انھوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہبہ کردی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول کرلیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14736]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
3032. -- باب: المرأة ترجع فيما وهبت من يومها
-- باب: اس بیان میں کہ عورت اپنی باری کا ہبہ کیا ہوا دن (کسی دوسری سوکن کو دیا ہوا تحفہ) واپس لے سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 14737
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا} [النساء: ١٢٨] أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا قَالَ:" هُوَ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ امْرَأَتَانِ فَتَكُونُ إِحْدَاهُمَا قَدْ عَجَزَتْ أَوْ تَكُونُ دَمِيمَةً فَيُرِيدُ فِرَاقَهَا فَتُصَالِحُهُ عَلَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَهَا لَيْلَةً، وَعِنْدَ الْأُخْرَى لَيَالِيَ وَلَا يُفَارِقُهَا فَمَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهَا فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ رَجَعَتْ سَوَّى بَيْنَهُمَا".
(١٤٧٣٧) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اللہ کے اس فرمان: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا } [النساء ١٢٨] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کے نکاح میں دو عورتیں تھیں، ایک بوڑھی یا سیاہ رنگ کی تھی تو اس نے طلاق دینے کا ارادہ کرلیا تو عورت نے صلح کرلی کہ اس کے پاس ایک رات اور دوسری کے پاس دو راتیں رہ لیا کرے۔ جب اس کا نفس اچھا ہوجائے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ رجوع کرلے کہ دونوں میں برابر کی باری تقسیم کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14737]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3033. -- باب: الرجل لا يفارق التي رغب عنها ولا يعدل لها
-- باب: اس شخص کا بیان جو اس بیوی کو نہ چھوڑے جس سے اس کی رغبت ختم ہو گئی ہو، اور نہ ہی اسے (باری میں) برابری دے۔
حدیث نمبر: 14738
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، نا عَفَّانُ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ" وَفِي رِوَايَةِ عَفَّانَ: مَائِلٌ.
(١٤٧٣٨) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں وہ ایک سے میلان رکھتا ہے تو وہ قیامت کے دن آئے گا کہ اس کی ایک جانب فالج زدہ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14738]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3034. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14739
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ قَوْلًا مَعْنَاهُ مَا أَصِفُ:" لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بِمَا فِي الْقُلُوبِ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ لَا تُتْبِعُوا أَهْوَاءَكُمْ أَفْعَالَكُمْ فَيَصِيرُ الْمَيْلُ بِالْفِعْلِ الَّذِي لَيْسَ لَكُمْ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَمَا أَشْبَهَ مَا قَالُوا عِنْدِي بِمَا قَالُوا؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَمَّا فِي الْقُلُوبِ وَكَتَبَ عَلَى النَّاسِ الْأَفْعَالَ وَالْأَقَاوِيلَ، فَإِذَا مَالَ بِالْقَوْلِ وَالْفِعْلِ فَذَلِكَ كُلُّ الْمَيْلِ".
(١٤٧٣٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے بعض اہل علم سے سنا، جو وہ کہتے تھے: میں اس کو بیان کرتا ہوں تم ہرگز عدل نہ کرسکو گے جو تمہارے دلوں میں ہے تو تم مکمل طور پر مائل نہ ہوجاؤ کہ تم اپنی خواہشات اور افعال کے پیچھے نہ لگ جاؤ اور یہ بالفعل ملال ہوگا جو تمہارے لیے درست نہیں کہ تم اس کو لٹکی ہوئی کے مانند چھوڑ دو؛ کیونکہ اللہ رب العزت دل کی بات پر پکڑ نہیں کرتے لیکن افعال اور اقوال پر پکڑتے ہیں اور جو انسان بات اور فعل کے ذریعے مائل ہوگیا تو یہ مکمل میلان ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14739]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قاله الشافعي في الام 5/ 111»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14740
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ} [النساء: ١٢٩] قَالَ:" فِي الْحُبِّ وَالْجِمَاعِ".
(١٤٧٤٠) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ کے اس قول { وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد محبت اور جماع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14740]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14741
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" لَنْ تَسْتَطِيعَ أَنْ تَعْدِلَ، فِيمَا بَيْنَهُنَّ وَلَوْ حَرَصْتَ، وَهُوَ قَوْلُهُ: {أُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ} [النساء: ١٢٨] وَالشُّحُّ هَوَاهُ فِي الشَّيْءِ يَحْرِصُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: {فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ} [النساء: ١٢٩] يَقُولُ: تَذَرُهَا لَا أَيِّمًا وَلَا ذَاتَ بَعْلٍ".
(١٤٧٤١) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ کوشش کے باوجود عدل نہ کرسکیں گے: { وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ } [النساء ١٢٨] حاضر کی گیں جانیں بخیلی پر۔ کسی ایسی چیز کی خواہش جس کا آدمی حریص ہو شح کہلاتی ہے، پھر فرمایا: { فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ } [النساء ١٢٩] ”کہ تم بیوہ اور خاوند والی کو چھوڑ دیتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14741]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14742
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ عَبِيدَةَ عَنْ قَوْلِهِ: {وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ} [النساء: ١٢٩] ، قَالَ:" فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ وَقَالَ: فِي الْحُبِّ وَالْمُجَامَعَةِ".
(١٤٧٤٢) ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں: میں نے عبیدہ سے اس قول کے بارہ میں سوال کیا { وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ } [النساء ١٢٩] فرماتے ہیں: انھوں نے اپنے ہاتھ سے سینے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: محبت اور جماع کے بارے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14742]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح