السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3026. -- باب: ما جاء في بيان حقه عليها
-- باب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ:" لَا تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ، وَلَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ، وَلَا تَصُومُ يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ أَثِمَتْ وَلَمْ تُؤْجَرْ وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّى تَتُوبَ أَوْ تُرَاجِعَ" قِيلَ: فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے پوچھا: خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو اور گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے، اگر تم نے کیا تو خاوند کو اجر اور تم کو گناہ ملے گا اور ایک دن کا نفلی روزہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ اگر ایسا کرو گی تو گناہ گار ہو گی، اجر بھی نہ ملے گا اور خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہ نکلے۔ اگر ایسا کرو گی تو غضب کے فرشتے اور رحمت کے فرشتے اس کے توبہ کرنے یا واپس آنے تک لعنت کرتے رہیں گے۔“ کہا گیا: اگر خاوند ظالم ہی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14713]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14714
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ أَبِي الْأَزْهَرِ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ:" أَنْ لَا تَمْنَعَ نَفْسَهَا مِنْهُ وَلَوْ عَلَى قَتَبٍ فَإِذَا فَعَلَتْ كَانَ عَلَيْهَا إِثْمٌ" ثُمَّ قَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ:" أَنْ لَا تُعْطِيَ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ" تَفَرَّدَ بِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سَلَمٍ فَإِنْ كَانَ حَفِظَهُمَا فَوَجْهُ الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُمَا فِي إِبَاحَةِ الْإِنْفَاقِ مِنْ بَيْتِهِ أَنْ تُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهَا الزَّوْجُ فِي قُوتِهَا وَبِذَلِكَ أَفْتَى أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”بیوی اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو، اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔“ عرض کرنے لگی: ”خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں لیث بن ابی سلیم منفرد ہیں۔
نوٹ: بیوی اپنے خرچہ سے دے سکتی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14714]
اس روایت کو بیان کرنے میں لیث بن ابی سلیم منفرد ہیں۔
نوٹ: بیوی اپنے خرچہ سے دے سکتی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14714]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَكِيمِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، نا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجُ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تُخَشِّنُ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلُ فِرَاشَهُ، وَلَا تَصْرُمُهُ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا فَلْتَأْتِهِ حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ قَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَقَبِلَ اللهُ عُذْرَهَا، وَأَفْلَجَ حُجَّتَهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا فَقَدْ أَبَلَغَتْ عِنْدَ اللهِ عُذْرَهَا".
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ایسی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو اپنے خاوند کے گھر آنے کی اجازت دے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، اور نہ ہی وہ گھر سے اس کی ناراضگی کی صورت میں نکلے، اور نہ ہی کسی دوسرے کی پیروی کرے، اور نہ ہی اس کے دل میں سختی پیدا کرے، اور نہ ہی اس کے بستر سے الگ ہو کر اس کو چھوڑ دے۔ اگرچہ وہ انسان ظالم ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اسے راضی کرے۔ اگر وہ اس کی معذرت قبول کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اللہ رب العزت بھی اس کا عذر قبول کریں گے اور اس کی دلیل کو مؤثر بنائیں گے اور اس کے ذمے کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اگر وہ راضی ہونے سے انکار کر دے تو اس نے اپنا عذر اللہ کے ہاں پہنچا دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14715]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3027. -- باب: ما يستحب لها رعاية لحق زوجها وإن لم يلزمها شرعا
-- باب: اس بیان میں کہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے حق کی رعایت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ شرعی طور پر اس پر لازم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14716
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین عورتیں وہ ہیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں وہ قریشی عورتیں ہیں؛ کیونکہ وہ بچپن میں اپنی اولاد پر بہت زیادہ شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14716]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ح وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ⦗٤٧٩⦘ أَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لَنَا ضُحَةً وَاسْتَقَى الْمَاءَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَكَانَ تَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قُلْتُ: وَكُنْتُ أَنْفِلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ: فَجِئْتُ وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ:" أَخْ أَخْ"؛ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَتْ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَهُ قَالَتْ: قَالَ:" فَوَاللهِ لَحَمْلُكِ عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ" قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلِيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَادِمٍ تكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس زمین، مال اور غلام نہ تھے سوائے ایک گھوڑے کے۔ کہتی ہیں: میں گھوڑے کے لیے گھاس لاتی اور ان کے کام کرتی، گھوڑے کا خیال رکھتی اور اس کے لیے گٹھلیاں پیستی، پانی پلاتی اور ان کا ڈول سیتی، آٹا گوندھتی لیکن میں روٹی اچھی نہ پکا سکتی تھی۔ انصاری بچیاں مجھے روٹی پکا کر دیتی تھیں اور وہ سچی عورتیں تھیں۔ کہتی ہیں: میں زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر دو تہائی فرسخ کے فاصلہ سے کھجور کی گٹھلیاں لے کر آتی تھی۔ فرماتی ہیں: میں گٹھلیاں لے کر آ رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔“ کہتی ہیں: میں نے شرم محسوس کی اور اپنے خاوند زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کو پہچانا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہارا گٹھلیوں کو سر پر اٹھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔“ فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک خادم بھیج دیا جو میرے پاس گھوڑے کی دیکھ بھال سے کفایت کرتا تھا، گویا کہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سُلَيْمَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا قَالَ: فَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَرَهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ: مَكَانَكِ ثُمَّ جَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمِدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ خَادِمٍ" وَقَالَ خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: التَّسْبِيحُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
ابن ابی لیلیٰ (سلیمان کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے جو نشانات ان کے ہاتھ میں پڑ گئے تھے اس کی شکایت کی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم مانگنے گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر پر) نہ پایا۔ راوی کہتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو میں اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو؟ جب تم دونوں سونے لگو تو 33 بار «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“، 33 بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور 34 بار «اَللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے۔“ خالد، ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ 34 مرتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3028. -- باب: كراهية كفرانها معروف زوجها
-- باب: عورت کے اپنے شوہر کے احسان کی ناشکری کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ الْخَوْفِ:" فَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" ⦗٤٨٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خسوف کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مجھے جہنم دکھائی گئی تو میں نے اس سے بڑھ کر گھبراہٹ والا منظر کوئی نہ دیکھا تھا اور میں نے جہنم میں زیادہ عورتیں دیکھیں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی ناشکری کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر آپ ان پر احسان کرتے رہے، پھر کبھی آپ کی جانب سے تکلیف پہنچ جائے، وہ کہہ دیتی ہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، نا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا وَهِيَ لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ" هَكَذَا أُتِيَ بِهِ مَرْفُوعًا وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ غَيْرُ مَرْفُوعٍ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت ایسی عورت کی طرف نظرِ رحمت سے نہ دیکھیں گے جو اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہے اور وہ اس سے مستغنی بھی نہیں ہے۔“
یہ روایت اسی طرح مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، مرفوع نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14720]
یہ روایت اسی طرح مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، مرفوع نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14720]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3029. -- باب: لا تطيع المرأة زوجها في المعصية
-- باب: اس بیان میں کہ عورت گناہ کے کام میں اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 14721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً قَالَا: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَكَتْ فَسَقَطَ شَعْرُهَا فَجَاءَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِهَا، فَقَالَ:" لَا إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک انصاری عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو بیمار ہونے کی وجہ سے اس کے بال گر گئے، تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس نے کہا کہ اس کے خاوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے بال لگوا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ کیونکہ بال لگوانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14721]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3030. -- باب: حق المرأة على الرجل
-- باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٤٨١⦘ إِسْحَاقَ، نا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ مِنَ الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ حُسَيْنٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، جب اس کے پاس کوئی معاملہ آئے تو بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کو قبول کرو؛ کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سے سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر والی ہے۔ اگر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں گے تو توڑ ڈالیں گے اور اگر اس کو چھوڑ دیں گے تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح