السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3071. -- باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات
-- باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14961
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو ⦗٥٤٨⦘ إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيِّ بْنِ أَبِي الْعَزَائِمِ أنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا قَالَ:" ثَلَاثٌ تُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَاقْسِمْ سَائِرَهَا بَيْنَ نِسَائِكَ".
حبیب بن ابی ثابت اپنے بعض اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: تین طلاقوں نے تیرے اوپر تیری بیوی کو حرام کر دیا اور باقی ساری طلاقیں اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14961]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14962
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أحمد بن عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا يُوسُفُ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ مِائَةً قَالَ:" قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ فقال رجل طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ عَدَدَ النُّجُومِ قَالَ:" قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ كَلِمَةً لَا أَحْفَظُهَا قَالَ: قَدْ بَيَّنَ اللهُ أَمْرَ الطَّلَاقِ فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ تَبَيَّنَ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَيْهِ جَعَلْنَا بِهِ لُبْسَهُ وَاللهِ لَا تَلْبَسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ.
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، انہوں نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے ایک ہی مرتبہ میں یہ بات کہی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہارا ارادہ یہ تھا کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہہ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ ایک مرد نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو ایک ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہا۔ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اہل زمین کی عورتوں کے متعلق بھی ایک بات کہی تھی، جسے میں یاد نہ رکھ سکا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے طلاق کا معاملہ واضح فرما دیا ہے، جس نے ویسے طلاق دی جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے تو اس کے لیے (حکم) واضح ہے، اور جس انسان پر معاملہ خلط ملط ہو گیا تو ہم نے بھی اس پر اسی طرح (فیصلہ) کر دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے اوپر معاملے کو نہ الجھاؤ اور ہم تم سے وہی قبول کرتے ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14962]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَاللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ.
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اس کا معنی ذکر کیا ہے اور الفاظ مختلف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14963]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14964
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا بِمَنْزِلَةِ الَّتِي قَدْ دُخِلَ بِهَا".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مطلقہ ثلاثہ دخول سے پہلے اس عورت کے مرتبہ پر ہے جس کے ساتھ دخول کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14964]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ اسْأَلُ لَهُ فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا:" لَا نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا ⦗٥٤٩⦘ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ"، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ".
محمد بن ایاس بن بکیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ پھر بعد میں اسی عورت سے نکاح کا ارادہ بنایا تو فتویٰ پوچھنے کے لیے آیا، میں بھی اس کے ساتھ گیا کہ میں اس کے لیے مسئلہ پوچھوں تو اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا: ”تو اس عورت سے نکاح نہ کر یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔“ اس نے کہا کہ میری جانب سے صرف اس کو ایک طلاق تھی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”آپ نے اپنے ہاتھ سے جو زائد ہے بھیجی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14965]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14966
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنَ الْأَشَجِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ:" إِنَّ هَذَا لَأَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
معاویہ بن ابی عیاش انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر آئے، انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا کوئی قول نہیں، آپ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جائیں، میں ان دونوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، ان سے جا کر سوال کرو، پھر ہمیں بھی آکر بتانا۔ وہ گئے اور جا کر ان سے سوال کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! ان کو فتویٰ دو کہ آپ کے پاس مشکل معاملہ آیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک طلاق میاں بیوی کو جدا کر دیتی ہے اور تین طلاقیں بیوی کو حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14966]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَقَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ: إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو:" إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
نعمان بن ابی عیاش انصاری، عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسئلہ پوچھنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا کہ کسی مرد نے مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کنواری کی طلاق ایک ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا کہ آپ تو قصہ گو ہیں، ایک طلاق بیوی کو جدا کردیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کردیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14967]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14968
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ".
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مرد دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14968]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14969
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ:" عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دی ہیں، وہ فرماتے ہیں: تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14969]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ:" ثَلَاثٌ تُحَرِّمُ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ فَضْلٌ".
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے میری موجودگی میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تین طلاقیں تو بیوی کو حرام کر دیتی ہیں اور ٩٧ زیادہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14970]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح