🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3071. -- باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات
-- باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ⦗٥٥٠⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ: لِتَهْنِئْكَ الْخِلَافَةُ، قَالَ: بِقَتْلِ عَلِيٍّ تُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، يَعْنِي ثَلَاثًا قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ بِثِيَابِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى قَضَتْ عِدَّتَهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا وَعَشَرَةِ آلَافٍ صَدَقَةً، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مَفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ ثَلَاثًا مُبْهَمَةً لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" لَرَاجَعْتُهَا". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ.
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہنے لگیں: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتی ہو! جاؤ تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے اپنے کپڑے لپیٹے اور بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اس نے اپنی عدت پوری کی تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی جانب باقی ماندہ حق مہر بھیجا اور دس ہزار اضافی دیا۔ جب قاصد آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ قلیل مال ہے جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ رو پڑے، پھر فرمانے لگے: اگر میں نے اپنے نانا سے یا میرے باپ نے مجھے بیان نہ کیا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی عورت کو حیض کے موقع پر تین طلاقیں دیں یا پوشیدہ انداز سے تین طلاقیں دیں تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے“ تو البتہ میں اس سے رجوع کر لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14971]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3072. -- باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14972
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: وَإِسْحَاقُ أنا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ" فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”لوگوں نے اس معاملے میں جلد بازی کی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی، اگر ہم تینوں طلاقیں ہی جاری کردیں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں ہی جاری کردیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14972]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1472»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14973
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَتَعْلَمُ إِنَّمَا كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَثَلَاثٍ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ رَوْحٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابو صہباء سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تین طلاقیں ایک شمار کی جاتی تھیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی امارت میں تین؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14973]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14974
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ أَبُو الْفَضْلِ: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ أَلَمْ يَكُنْ طَلَاقُ الثَّلَاثِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاحِدَةً؟ قَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَتَابَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَظُنُّهُ إِنَّمَا تَرَكَهُ لِمُخَالَفَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اپنے دل سے بتاؤ کہ تین طلاقیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک نہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ایسا ہی تھا، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو لوگوں نے مسلسل طلاقیں دینا شروع کر دیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تینوں طلاقوں کو ہی جاری کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14974]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14975
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: ٢٢٨] إِلَى قَوْلِهِ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] " الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَنُسِخَ ذَلِكَ فَقَالَ {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: ٢٢٩] " الْآيَةَ.
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] ”مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روک رکھیں۔“ «إِلَى قَوْلِهِ» ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان کے خاوند ان کو واپس کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ جب مرد بیوی کو طلاق دیتا تو وہ رجوع کا زیادہ حق دار ہوتا، اگرچہ اس نے تین طلاقیں دی ہوں، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14975]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14976
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ ⦗٥٥٢⦘ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا فَقَالَ:" تَأْخُذُ ثَلَاثًا وَتَدَعُ تِسْعَمِائَةٍ وَسَبْعَةً وَتِسْعِينَ" وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا:" حُرِّمَتْ عَلَيْكَ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تین کو لے لو اور ۹۹۷ کو چھوڑ دو۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی تھیں کہ وہ تیرے اوپر حرام ہو چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14976]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14977
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا الرَّبِيعِ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةً قَالَ:" تَأْخُذُ ثَلَاثًا وَتَدَعُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنی عورت کو سو طلاقیں دے دی ہیں۔ فرمایا: تین کو شمار کرو اور باقی ستانوے کو چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14977]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14978
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ نا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَحُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ:" عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا، {مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: ٢] ، {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ".
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی تھیں، تو انہوں نے فرمایا: تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہو گئی، تو اللہ سے ڈرا نہیں کہ اللہ تیرے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے“، ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت (کے آغاز) کے لیے طلاق دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14978]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةً قَالَ:" تَأْخُذُ ثَلَاثًا وَتَدَعُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ".
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنی عورت کو سو طلاقیں دے دی ہیں، فرمایا: تین کو شمار کرو اور ستانوے کو چھوڑ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14979]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14980
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَدَدَ النُّجُومِ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ رَأْسُ الْجَوْزَاءِ".
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دی تھیں۔ فرماتے ہیں کہ تجھے تو صرف جوزاء کا سر ہی کافی تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14980]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں