السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3068. -- باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة
-- باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14914
حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٣٢⦘ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، نا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَ بَعْدُ أَوْ يُمْسِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ.
عبداللہ بن دینار نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر دوسرے حیض سے پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد طلاق دے یا روک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14914]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14915
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] قَالَ:" طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ" زَادَ فِيهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ أَوْ عِنْدَ حَبَلٍ قَدْ تَبَيَّنَ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَحْفُوظَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے متعلق فرمایا: یعنی ایسا طہر جس میں جماع نہ ہو۔ بعض راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب حمل ظاہر ہو جائے۔
میں نے یہ اضافہ محفوظ روایات میں نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14915]
میں نے یہ اضافہ محفوظ روایات میں نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14915]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14916
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ نا عِكْرِمَةُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ:" الطَّلَاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ وَجْهَانِ حَلَالٌ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ، فَأَمَّا الْحَلَالُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ أَوْ يُطَلِّقَهَا حَامِلًا مُسْتَبِينًا حَمْلَهَا، وَأَمَّا الْحَرَامُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَائِضًا أَوْ يُطَلِّقَهَا حِينَ يُجَامِعُهَا لَا يَدْرِي اشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لَا".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق کی چار اقسام ہیں: 1۔ دو حلال طریقے، 2۔ دو حرام طریقے؛ 1۔ طہر میں بغیر جماع کے طلاق دینا، 2۔ یا جب حمل واضح ہو جائے اس وقت طلاق دینا۔ حرام طریقے: 1۔ حالتِ حیض میں طلاق دینا، 2۔ مجامعت کے بعد طلاق دینا اور حمل کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14916]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14917
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَا طَلَّقَ رَجُلٌ طَلَاقَ السُّنَّةِ فَيَنْدَمُ أَبَدًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص سنت طریقے سے طلاق دیتا ہے، وہ کبھی پشیمان نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14917]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3069. -- باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا
-- باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
حدیث نمبر: Q14918
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَيِّنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ عَلَى الْحَائِضِ؛ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُؤْمَرُ بِالْمُرَاجَعَةِ مَنْ لَزِمَهُ الطَّلَاقُ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَلْزَمْهُ الطَّلَاقُ فَهُوَ بِحَالِهِ قَبْلَ الطَّلَاقِ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ذَكَرْنَا حَدِيثَ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ حیض والی عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ رجوع کا حکم اسی کو دیا جاتا ہے جس پر طلاق لازم ہو چکی ہو، رہا وہ شخص جس پر طلاق لازم ہی نہ ہوئی ہو تو وہ اپنی اسی حالت پر ہے جو طلاق سے پہلے تھی۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14918]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: Q14918]
حدیث نمبر: 14918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ إِمْلَاءً نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ ⦗٥٣٣⦘ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
یونس بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شخص نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی (اس کا کیا حکم ہے)؟ کہتے ہیں: کیا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم فرمایا اور یہ کہ پھر وہ اس کی عدت کے آغاز میں طلاق دے۔ میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے یا بے وقوف ہوجائے۔
(ب) امام بخاری نے اسے حجاج بن منہال سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے اور بے وقوفی کرے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14918]
(ب) امام بخاری نے اسے حجاج بن منہال سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے اور بے وقوفی کرے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14918]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا" قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مرد اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے؟ تو فرمانے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رجوع“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: کیا وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمانے لگے: اگر وہ عاجز آ جائے یا بے وقوف ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14919]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14920
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرُوَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا" قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ فَاحْتَسَبْتَ بِهَا قَالَ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ لَفْظُ حَدِيثِ غُنْدَرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
یونس بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا آپ نے اس کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: بھلا اس میں کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ عاجز آ جائے یا بیوقوف ہو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14921
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ:" لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا" قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ: يُحْتَسَبُ بِهَا؟ قَالَ: فَمَهْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ،.
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا یہ شمار کی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہریے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14921]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14922
وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ ⦗٥٣٤⦘ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَتَحْتَسِبُ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
انس بن سیرین نے اس کی مانند ذکر کیا ہے کہ اگر چاہے تو طلاق دے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کو ایک طلاق شمار کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الخلع والطلاق/حدیث: 14922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح